شورائیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

شورائیت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

اسلامی حکومت و سلطنت کے بنیادی اصولوں میں یہ چیز داخل ہے کہ رہنمایانِ ملک، حکام مسلمانوں سے مشورہ لیں، ان کی رائے و رضا مندی کو تسلیم کریں اور نظامِ حکومت کو شورائیت کی بنیادوں پر قائم کیا جائے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ‌ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانْفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ‌ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِى الۡاَمۡرِ‌ فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ‌اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَوَكِّلِيۡنَ ۞(سورۃ آل عمران: آیت 159)

ترجمہ:’’پس اللہ کی طرف سے بڑی رحمت ہی کی وجہ سے آپ ان کے لیے نرم ہو گئے ہیں اور اگر آپ بد خلق، سخت دل ہوتے تو یقینا وہ آپ کے گرد سے منتشر ہو جاتے، سو ان سے در گزر کیجیے اور ان کے لیے بخشش کی دعا کیجیے اور کام میں ان سے مشورہ کیجیے، پھر جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر بھروسا کریں، بے شک اللہ بھروسا کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ ‘‘اور ایک مقام پر فرمایا:

وَالَّذِيۡنَ اسۡتَجَابُوا لِرَبِّهِمۡ وَاَقَامُوۡا الصَّلٰوةَ وَاَمۡرُهُمۡ شُوۡرٰى بَيۡنَهُمۡ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ‌۞ (سورۃ الشورى: آیت 38)

ترجمہ: ’’اور وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب کا حکم مانا اور نما ز قائم کی اور ان کا کام آپس میں مشورہ کرنا ہے اور ہم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘

اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کے باہمی مشورہ کو اقامت نماز کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ شورائیت کا حکم نماز کے حکم کی طرح ہے اور چونکہ نماز کا حکم شرعاً فرض ہے، لہٰذا اسی طرح شورائیت کا حکم بھی شرعاً فرض ہے۔ 

(جولۃ تاریخیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: دیکھئے محمد السید الوکیل: صفحہ 89)

چنانچہ حضرت عمرؓ نے اپنی حکومت کی اساس شورائیت ہی پر رکھی تھی۔ مسلمانوں سے صرف نظر کر کے خود کو کسی معاملے میں ترجیح نہ دیتے تھے اور نہ کسی معاملے میں ان پر اپنا کوئی حکم مسلط کرتے تھے۔ جب کوئی نیا معاملہ پیش آتا تو اس کے بارے میں اس وقت تک کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں لیتے تھے جب تک کہ مسلمانوں کو جمع کر کے ان سے صلاح ومشورہ نہ لے لیتے۔

آپؓ کے اقوال زرّیں میں سے ہے:

’’جس کام کو بغیر مشورہ کے عمل میں لایا گیا اس میں بھلائی نہیں ہے۔‘‘ 

(الشیخان أبوبکر الصدیق وعمر بن الخطاب: بروایت بلاذری: صفحہ 256)

اور آپؓ کا قول ہے:

’’تنہا رائے کچے دھاگے کی طرح ہے اور دو رائے دو پختہ دھاگوں کے مثل ہیں، جب کہ تین آدمیوں کا مشورہ بٹی ہوئی رسی کے مثل ہے جو ٹوٹتی نہیں ہے۔‘‘ 

(النظام السیاسی فی الإسلام: ابو فارس: صفحہ 9)

نیز آپؓ نے فرمایا ہے:

’’اپنے معاملات میں اس آدمی سے مشورہ لو جو اللہ سے ڈرتا ہو۔‘‘ اور فرمایا: ’’انسان تین طرح کے ہیں: وہ آدمی جس کے پاس معاملہ آتا ہے تو وہ اسے صرف اپنی رائے سے حل کرتا ہے۔ وہ آدمی جو اپنے مشکل معاملات میں دوسروں سے مشورہ لیتا ہے اور لوگ اسے جو مشورہ دیتے ہیں اسے کرتا ہے۔ وہ آدمی جو نہ کسی کی بات مانتا ہے اور نہ کسی چیز کی طرف توجہ دیتا ہے۔‘‘

ایک مقام پر فرمایا:

’’مسلمانوں پر واجب ہے کہ ان کا معاملہ ان کے اور اہل حل و عقد کے درمیان شورائیت سے طے پائے۔ جو شخص اس فریضہ کو ادا کرے لوگ اس کے تابع ہوں اور جس بات پر سب متفق ہوجائیں اور باہم راضی ہوجائیں وہ سب پر لازم ہے اور سب اس کے تابع ہوں گے اور جو شخص اس شورائیت کو بروئے کار لائے وہ اہل حل و عقد کے مشوروں کے تابع ہو گا۔ فوجی کارروائی وغیرہ سے متعلق اس کو ان کی رائے پر عمل کرنا ہوگا۔‘‘ 

سیّدناعمرؓ اپنے فوجی کمانڈروں کو مشورہ لینے کی برابر تاکید کرتے تھے۔ چنانچہ جب آپؓ نے ابو عبید ثقفیؓ کو عراق کے محاذ پر اہلِ فارس سے جنگ کرنے کے لیے بھیجا تو ان کو نصیحت کی کہ ’’اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خاص طور پر بدری صحابہؓ کی باتوں کو سننا اور اطاعت کرنا۔ ‘‘عراق کے محاذ پر ڈٹے ہوئے اپنے فوجی کمانڈروں کو فرمان جاری کرتے تھے کہ ’’اپنے فوجی معاملات میں عمرو بن معدی کربؓ اور طلیحہ اسدیؓ سے مشورہ لیا کرو۔‘‘

آپ کا فرمان تھا:

’’اپنی جنگی مہمات میں طلیحہ اسدی اور عمرو بن معدی کرب سے مدد لیا کرو اور ان سے مشورہ کیا کرو، اور ان دونوں کو کسی چیز کا ذمہ دار نہ بناؤ، کیونکہ ہر کاری گر اپنی کاری گری کے بارے میں زیادہ جانتا ہے۔‘‘ 

(الخلفاء الراشدون: النجار: صفحہ 246)

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے نام یہ فرمان بھیجا:

’’جو شخص تمہارا پہلا مشیر ہو وہ عرب نژاد ہو اور تم اس کی خیر خواہی و سچائی سے مطمئن رہو، کیونکہ جھوٹے کی خبر تمہارے لیے کچھ مفید نہیں اگرچہ اپنی بعض خبروں میں وہ سچا ہی کیوں نہ ہو اور دھوکا باز تمہارے خلاف ایک جاسوس ہے وہ تمہارے خلاف جاسوسی ہی کرے گا۔‘‘ 

(سراج الملوک: طرطوشی: صفحہ 132)

حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کو جب بصرہ کی طرف بھیجا تو آپؓ نے ان سے فرمایا:

’’میں نے علاء بن الحضرمی (الإدارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الإسلامیۃ: سلیمان آل کمال: جلد 1 صفحہ 273) کو لکھا ہے کہ عرفجہ بن ہرشمہ (الإدارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الإسلامیۃ: سلیمان آل کمال: جلد 1 صفحہ 273) کے ذریعہ سے تمہیں قوت پہنچائیں، وہ دشمن کو چکما دینے والے اور اسے زیر کرنے والے ہیں، لہٰذا جب وہ تمہارے پاس آئیں تو ان سے مشورہ لو اور اپنے پاس رکھو۔‘‘ 

(الطبری: جلد 3 صفحہ 481 نقلاً عن الادارۃ العسکریۃ)

صفحہ 1 از 3