شورائیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

شورائیت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

شورائیت سے متعلق حضرت عمرؓ کا طرزِ عمل نہایت عمدہ تھا۔ سب سے پہلے آپؓ عام مسلمانوں سے مشورہ لیتے اور ان کی باتیں سنتے تھے، پھر بزرگ اور صاحب حل و عقد اصحابِ رسولﷺ کو اکٹھا کرتے، معاملہ ان کے سامنے رکھتے اور ان سے پوچھتے کہ درپیش مسئلہ میں کسی بہتر رائے کی طرف وہ لوگ آپ کی رہنمائی کریں، پھر جس بات پر وہ متفق ہو جاتے آپؓ اسے نافذ کر دیتے۔ آپؓ کا یہ عمل ان دستوری نظاموں سے ملتا جلتا ہے جو بہت سے جمہوری ملکوں میں رائج ہے، دستور کے مطابق ان ممالک میں پہلے معاملہ ممبران پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہوتا ہے، پھر جب اکثریت کی رائے سے کوئی قرار داد پاس ہوجاتی ہے تو اسے دوسری مجلس پر پیش کیا جاتا ہے، اس مجلس کو بعض ممالک میں مجلس الشیوخ اور بعض ممالک میں (Council of Lord) کہا جاتا ہے۔ پھر جب یہ مجلس بھی اس معاملہ میں اپنی رپورٹ پیش کردیتی ہے تو حاکم وقت اسے نافذ کرتا ہے۔ البتہ حضرت عمرؓ اور ان ممالک کے عمل کے درمیان صرف اتنا فرق ہے کہ آپؓ کا طرزِ عمل اجتہاد پر مبنی تھا وہ کسی مستقل نظام اور دستور کے تابع نہ تھا۔ 

(سیر أعلام النبلاء: جلد 1 صفحہ 317)

بسا اوقات حضرت عمرؓ کسی چیز کے بارے میں اجتہاد کرتے اور اپنی رائے ظاہر کرتے، لیکن کوئی کمزور ترین فرد آتا اور قوی دلیل کی روشنی میں صحیح طریقہ بتاتا، تو آپؓ اسے قبول کر لیتے اور اپنی رائے کی غلطی سے رجوع کر کے صحیح رائے اختیار کر لیتے۔ 

(نہایۃ الأرب: جلد 6 صفحہ 169)

سیّدنا عمرؓ کے دورِ خلافت میں شورائیت کا دائرہ وسیع ہو گیا تھا، کیونکہ نئے نئے مسائل اور واقعات و حوادث بکثرت رونما ہوتے تھے اور اسلام کا دائرہ ان شہروں تک پھیل گیا تھا جہاں تہذیبیں مختلف تھیں، رسم و رواج میں فرق اور نظام زندگی میں تباین تھا اور انہی اسباب کی بنا پر ایسی جدید مشکلات پیدا ہوئیں جن میں دقیق و وسیع اجتہاد کی ضرورت پیش آئی۔ مثال کے طور پر مفتوحہ زمین کی تقسیم اور نئے قواعد کے مطابق وظائف کو منظم کرنے کا معاملہ تاکہ مفتوحہ علاقوں کی آمدنی ملکی ضروریات پر خرچ ہو، اسی لیے حضرت عمرؓ کبار صحابہؓ کی کثیر تعداد کو مشورہ کے لیے جمع کرتے تھے۔ 

(الإدارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الإسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 274)

 اور بدر میں شریک ہونے والے بزرگ صحابہؓ کے علم و فضل اور اسلام میں ان کی سبقت کے پیش نظر اہلِ شوریٰ میں ان کو خاص مقام دیتے تھے تاہم آپؓ ان کے ساتھ نوجوان صحابہؓ کو شریک رکھتے تھے کیونکہ وہ (بزرگ صحابہؓ) اپنی زندگی کے آخری دور سے گزر رہے تھے اپنے ربّ کی رحمت اور مغفرت کی طرف قدم بڑھا رہے تھے جب کہ ملک کو ہمہ وقت نوعمر اور بہادر افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ حضرت عمرؓ کی ذات ایک نابغہ روزگار اور دور اندیش ذات تھی، آپؓ نے اس حقیقت کو اچھی طرح بھانپ لیا اور امت کے ان نوجوان افراد کو منتخب کرنے لگے جو علم، ورع اور تقویٰ کے اعتبار سے کامل ہوں۔ چنانچہ اس سلسلہ میں سب سے پہلے آپ کی نگاہ انتخاب حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما پر پڑی اور برابر صلاح و مشورہ کے ذریعہ سے ایسے افراد کی تلاش میں لگے رہے اور فیصلۂ انتخاب کے لیے قرآنِ مجید کو کسوٹی بنایا، یہاں تک کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ’’حضرت عمرؓ کی مجلس مشاورت کے شرکاء حفاظ قرآن تھے، خواہ وہ بوڑھے ہوں یا نوجوان۔‘‘ 

(الإصابۃ: جلد 2 صفحہ 491)

زہریؒ نے نو عمر لڑکوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

’’اپنی نوعمری کی وجہ سے خود کو حقیر نہ سمجھو، حضرت عمرؓ پر جب کوئی کٹھن مرحلہ پیش آتا تھا تو نوجوانوں کو بلاتے اور ان سے مشورہ لیتے تھے اور آپ کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ ان کا ذہن تیز ہوجائے۔‘‘ 

(الإدارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الإسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 275 )

محمد بن سیرینؒ کا بیان ہے کہ حضرت عمرؓ بیشتر معاملات میں مشورہ لیتے تھے، یہاں تک کہ عورتوں سے بھی مشورہ لیتے، اگر کبھی عورت کی بات میں بھلائی نظر آتی تو اسی پر عمل کرتے، چنانچہ اس بات کا صحیح ثبوت ملتا ہے کہ آپ نے امّ المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے مشورہ لیا۔ 

(الخلفاء الراشدون: النجار: صفحہ 246)

حضرت عمرؓ کی نگاہ میں بزرگ ودور اندیش صحابہ میں سے کچھ مخصوص لوگ تھے جن سے آپؓ اکثر مشورہ کرتے اور ان کی رائے معلوم کرتے، انہی میں عباس بن عبدالمطلب اور ان کے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہم ہیں بلکہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ہمیشہ سفر و حضر میں اپنے ساتھ رکھتے تھے نیز انہی مخصوص صحابہؓ میں عثمان بن عفان، عبدالرحمن بن عوف اور علی بن ابی طالب، (عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 90) معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم (عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 147) جیسے لوگ بھی تھے۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 147)

مشورہ دینے والے مکمل آزادی اور پوری صراحت سے اپنی رائے ظاہر کرتے تھے لیکن آپؓ نے ان میں سے کسی کی عدالت و امانت کو متہم نہیں کیا آپؓ انہی مسائل میں مشورہ لیتے تھے جس میں کتاب و سنت کی کوئی واضح دلیل نہ ہوتی تھی۔ ان مشوروں سے آپؓ کا مقصد صرف یہ ہوتا تھا کہ درپیش مسئلہ میں اگر کسی صحابیؓ کو کوئی حدیث معلوم ہے تو وہ آپؓ کو بھی معلوم ہو جائے، کیونکہ بعض صحابہؓ کو کچھ احادیث یاد ہوتی تھیں اور دوسرے اسے نہیں جانتے تھے۔ اسی طرح وہ شرعی نصوص جن میں متعدد معنوں کا احتمال ہوتا تھا ان کی افہام و تفہیم کے لیے مشورہ لیتے تھے تاکہ ان معانی اور مختلف توجیہات کو سمجھ سکیں۔ مذکورہ دونوں معاملات میں بسا اوقات ایک اور کبھی چند لوگوں کا مشورہ کافی سمجھتے تھے، لیکن اگر عمومی حوادث و واقعات کی بات ہوتی تو تمام صحابہؓ کو اکٹھا کرتے اور حتیٰ المقدور مشورہ کا دائرہ کار وسیع ہی کرتے، جیسے کہ شام میں طاعون کی وبا پھیلنے کے وقت کیا، جب کہ آپؓ خود وہاں جا رہے تھے۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 90)

صفحہ 2 از 3