شورائیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

شورائیت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

سیّدنا عمرؓ کو اس وباء کی خبر پہنچی اور شام کے قریب میں مقام ’’سرغ‘‘ پر گورنروں کی آپؓ سے ملاقات ہوئی، آپؓ کے ساتھ مہاجرین اور انصار تھے، آپؓ نے ان کو مشورہ کے لیے اکٹھا کیا کہ کیا سفر جاری رکھوں یا واپس لوٹ جاؤں؟ لیکن مشورہ میں اختلاف ہو گیا، کسی نے کہا: آپؓ خالص اللہ کی رضا جوئی کے لیے نکلے ہیں، یہ وبا آپؓ کو ارادے سے نہ پھیر دے۔ کسی نے کہا یہ ایک ناگہانی مصیبت ہے اور موت و حیات کا مسئلہ ہے، ہماری رائے میں آپؓ آگے نہ بڑھیں۔ پھر آپؓ نے فتح مکہ کے قریشی مہاجرین کو بلایا، انہوں نے بلا اختلاف رائے آپ کو واپس ہو جانے کا مشورہ دیا۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے لوگوں میں اعلان کروا دیا کہ میں (واپسی کے لیے) کوچ کرنے والا ہوں۔ حضرت ابو عبیدہؓ نے فرمایا: کیا اللہ کی تقدیر سے راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے؟ آپؓ نے جواب دیا: ہاں، ہم اللہ کی ایک تقدیر سے دوسری تقدیر کی طرف جا رہے ہیں، تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہارا اونٹ کسی ایسی وادی میں اتر جائے جس کے دو کنارے ہوں، ایک کنارہ سرسبز ہو اور دوسرا کنارہ خشک، اگر تم اسے سرسبز حصہ میں چراتے ہو تو کیا اسے اللہ کی تقدیر سے نہیں چرایا؟ اور اگر خشک جگہ میں چراتے ہو تو کیا اللہ کی تقدیر سے نہیں چرایا؟ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے ان کی یہ آوازیں سن لیں، ان کے پاس آئے اور کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:

 إِذَا سَمِعْتُمْ بِہٖ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَموْا عَلَیْہِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِہَا فَلَا تَخْرُجُوْا فِرَارًا مِنْہُ۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 90)

ترجمہ: ’’جب تم سنو کہ یہ (وباء) کسی علاقے میں پھیلی ہوئی ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی علاقے میں یہ پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے نہ بھاگو۔‘‘

سیّدنا عمرؓ کے دورِ خلافت میں شورائیت کے مختلف میدان تھے، مثلاً اداری اور سیاسی معاملات، گورنروں و حاکموں کی تقرری، نیز فوجی معاملات میں مشورہ لینا، اسی طرح خالص شرعی مسائل کے لیے مشورہ لینا اور بہت سے شرعی احکام میں حلال و حرام کی معرفت اور عدلیہ کے مسائل کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرنا۔ 

(السنن الکبریٰ: البیہقی: جلد 9 صفحہ 29، بحوالہ عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 90)

 شورائیت کے مجالات اس کی تنفیذات اور قوی ترین دلائل کی تلاش میں حضرت عمرؓ کی کوشش جیسے موضوعات پر اس بحث میں موقع بہ موقع ان شاء اللہ گفتگو کی جائے گی ہم اس مقام پر صرف اس بات پر زور دینا چاہتے ہیں کہ خلافتِ راشدہ کی بنیاد کتاب اللہ و سنت رسول اللہﷺ پر مبنی شورائیت پر قائم تھی۔ حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں کوئی رائے من مانی نہ تھی اور نہ آپؓ نے کسی بدعت کو ایجاد کیا تھا، بلکہ وہ سب ربانی منہج کے اصولوں میں سے کسی نہ کسی اصول پر قائم ہوتا تھا۔


صفحہ 3 از 3