عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما
علی محمد الصلابیپھر انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو طلب کیا اور انہیں اس امر سے متہم کیا کہ یزید کی بیعت میں اصل رکاوٹ وہ ہیں اور یہ کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ابن ابوبکر رضی اللہ عنہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کے پیچھے بھی انہی کا ہاتھ ہے۔ مگر ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کے اس مؤقف کی تردید کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ یزید کی بیعت کے لیے مُصر ہیں تو خود خلافت سے دست بردار ہو جائیں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہوئے اپنی جگہ یزید کو خلیفہ مقرر کر دیں تو میں اس کی بیعت کر لوں گا۔ انہوں نے موجودہ صورت حال میں یزید کی عدم بیعت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے استدلال کیا کہ: ’’ایک ہی وقت میں دو آدمیوں کی بیعت کرنا جائز نہیں ہے۔‘‘
(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 214۔ حسن سند کے ساتھ۔ حلیۃ الاولیاء: جلد 1 صفحہ 330، 331)
پھر فرمایا: معاویہ! مجھے یہ خبر تم نے ہی دی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب زمین میں دو خلیفے سامنے آ جائیں تو ان میں سے ایک کو قتل کر ڈالو۔‘‘
(المعجم الکبیر للطبرانی: جلد 19 صفحہ 314 ۔ مجمع الزوائد: جلد 5 صفحہ 198۔ ہیثمی فرماتے ہیں: اس کے راوی ثقہ ہیں۔)