متاخرین شیعہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہمتاخرین شیعہ جو جو باتیں جناب ممدوح کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ کسی شہدے اوباش کی طرف منسوب کی جائیں تو وہ بھی ازالہ حیثیت عرفی کا استغاثہ دائر کر دے۔ چنانچہ متاخرین شیعہ کا سرگروه ملا باقر مجلسی امام ممدوح کی نسبت یوں گوہر افشانی کرتا ہے:۔ جلاء العیون اردو صفحہ 280 میں ہے۔
روایت ہے کہ ایک روز امام حسنؓ مجلس معاویہؓ میں تشریف رکھتے تھے۔ مروان نے کہا۔ آپ کی مونچھوں کے بال جلد سفید ہو گئے ہیں۔ امام حسنؓ نے فرمایا سبب اس کا یہ ہے کہ بنی ہاشم کا دہن خوشبو دار ہے اور ہماری از واج بوجہ خوشبو استشمام کرتی ہیں اور ان کی ہوائے نفس سے ہمارے بال شارب کے سفید ہو جاتے ہیں اور چونکہ تم بنی امیہ گندہ دہن ہو۔ تمہاری ازواج تمہارے دہنوں سے احتراز کرتی اور اپنا منہ تمہارے رخسار کی جانب رکھتی ہیں اس لیے تمہارے رخسار جلد سفید ہو جاتے ہیں۔ پس مروان نے کہا۔ بنی ہاشم میں ایک خصلت بد یہ ہے کہ خواہش جماع زیادہ رکھتے ہیں۔ امام حسنؓ نے فرمایا۔ خواہش ہماری عورتوں سے سلب کر لی گئی اور وہ بھی مردوں میں اضافہ ہوئی اور تمہارے مردوں سے علیحدہ کر کے تمہاری عورتوں میں دی گئی ہے۔ اور یہی سبب ہے کہ زن امو یہ سوائے مرد ہاشمی دوسرے سے سیر نہیں ہو سکتی۔
لاحول ولا قوة! ایسی فحش اور بیہودہ گفتگو تو اوباش لوگ بھی کرنے سے شرماتے ہیں یہ ان پاک لوگوں کے ذمے افتراء ہے کہ وہ سر مجلس اجنبی لوگوں کے سامنے اپنی مستورات (ازواج) کی نسبت ایسی بے شرمی کی باتیں بیان کرتے تھے کہ وہ ہمارے منہ کی خوشبو سونگھتی ہیں اور ان کی نفسانی جذبات کے اثر سے ہمارے بال شارب سفید ہو جاتے ہیں اور پھر یہ مقدس لوگ دوسروں کی مستورات پر ایسا کمینہ حملہ کر سکتے ہیں کہ تمہاری عورتوں میں اس قدر شہوت تیز ہوتی ہے کہ وہ ہاشمی مردوں کے سوا سیر ہی نہیں ہوتیں۔ اللہ اکبر! ایسے نادان دوستوں سے دانا دشمن اچھا ہوتا ہے۔۔
ترا اژدہا گر بود یار غار
ازاں به که جابل بود غم گسار
دیکھیے تو شیعہ صاحبان جو بھنگ نوشوں کی مجلس میں دارے میں بیٹھ کر آپس میں یا وہ گوئی کیا کرتے ہیں اس پر ان پاک نفوس کو بھی قیاس کرتے ہیں شرم! شرم!
توبہ تو یہ نا عاقبت اندیش راوی نے حضرت حسنؓ کی پاک ذات پر کیسا پاجیانہ حملہ کیا ہے کہ وہ سرِ اجلاس ایسی بد تہذیبی اور اخلاق سے گری ہوئی باتیں کیا کرتے تھے جو ہوا پرست بے تمیز مشٹنڈے تخلیہ میں بیٹھ کر باہم ایسی بخش گوئی کیا کرتے ہیں۔
مگر امام تو کیا! شیعہ حضرات تو انبیاءؑ کو بھی ایسے الزام دینے سے دریغ نہیں کیا کرتے چنانچہ یہی حضرت ملا باقر مجلسی اپنی مصنفہ کتاب حیات القلوب: جلد 21 میں رقمطراز ہیں: ”بسند معتبر حضرت امام رضا منقول است کہ از اخلاق پیغمبران است خود را پاکیزه کردن و خود را خوشبو کردن و بسیار جماع کردن و بسیار زتان داشتن
ترجمہ: امام رضا فرماتے ہیں کہ پیغمبروں کے اخلاق یہ ہیں: اپنے بدن کو پاکیزہ رکھنا، خوشبو لگاتے رہنا، بہت جماع کرنا اور بہت عورتیں رکھنا۔
لاحول ولاقوۃ: شہوت پرستی اور کثرت جماع پیغمبروں کے اخلاق میں شمار کیا جاتا ہے۔ شیعو! ہوش کرو اور مخالفین اسلام تمہاری یہ حالت دیکھ کر ان انبیاءؑ دائمہ میں کیا کہیں گے؟ افسوس!
نے فروعت محکم آمد نے اصول
شرم باید از خدا و از رسولﷺ