عبداللہ بن سباء - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

عبداللہ بن سباء

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 2

ایک اور روایت کتبِ شیعہ سے لکھی جاتی ہے جس سے اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ اس مذہب کا بانی در حقیقت وہی ابنِ سباء ہے چنانچہ ایک شیعہ مجتہد استر آبادی اپنی تصنیف منہج المقال میں لکھتا ہے:

فانظروا الى عبارة الكشی ذكر بعض اهل العلم ان عبد الله بن سبا كان يهوديا واسلم ووالى عليا وكان يقول وهو على يهوديته فی يوشع وصي بالغلو فقال بعد اسلامه بعد وفاة رسول اللهﷺ فی علی مثل ذلك فكان من اظهر بالقول بفرض امامة علی عليه السلام الجراءة من اعدائه وكاشف مخالفيه واكفرهم فمن ههنا قال من خالف الشيعة اهل التشيع والرفض من اليهودية۔

(رجال کشی: صفحہ، 71)

عبارت کشی دیکھو بعض اہلِ علم نے ذکر کیا ہے کہ عبداللہ بن سباء یہودی تھا اسلام لایا اور علی کا محب بنا وہ اپنے یہودیت کے زمانہ میں یوشع وصی موسیٰ کی نسبت غلو کرتا تھا پھر اسلام کے بعد رسول اللہﷺ کے پردہ فرما جانے پر علیؓ کے بارے میں ایسا خیال رکھتا تھا اور پہلا شخص ہے جس نے فرضیت سیدنا علیؓ کا اعلان کیا اور ان کے اعداء سے تبرا کیا علیؓ کے مخالفین کو برا کہتا اور ان کو کافر قرار دیتا تھا یہی وجہ ہے کہ مخالفین شیعہ کہتے ہیں کہ تشیع اور رفض کی اصل بناء یہودیت پر ہے۔

اس روایت نے جو فاضل مصنف منہج المقال نے بحوالہ رجال کشی بیان کی ہے سارا بھانڈا ہی پھوڑ دیا کہ عبداللہ بن سباء ایک غالی شیعہ تھا یہودیت کے وقت یوشع خلیفہ موسیٰ کی نسبت غالیانہ اعتقاد رکھتا تھا اسلام کے بعد وفاتِ رسولﷺ حضرت علیؓ کی نسبت ایسا غلو کرنے لگا اس روایت سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ امامت علی (خلافت بلا فصل) کی فرضیت کا پہلا اعلان عبداللہ بن سباء کی طرف سے ہوا اور لعنت تبرا کی سنت کا بھی وہی امام ہے اس بات کا اعتراف ہے کہ انہی وجوہات سے شیعہ کے مخالفین (اہلِ سنت) کہتے ہیں کہ تشیع و رفض کا بانی وموجد عبداللہ بن سباء یہودی ہے اور رفض تشیع یہودیت کی شاخ ہے مبارک! (ابنِ سباء کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ قتل نہیں ہوئے آسمان پر زندہ موجود ہیں قربِ قیامت واپس تشریف لائیں گے بلکہ اس نے متبعین میں یہ عقیدہ بھی پھیلا دیا تھا کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ میں جزء الٰہی پائی جاتی ہے اور وہ معبودِ برحق ہیں فاعلموا ان عليا هو اله ولا اله الا هو نے خطوط و آثار میں لکھا ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اس قسم کے غالیوں کو آگ میں جلا دیا تھا اور غضب ہے (یعنی آگ کا عذاب سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں دیتا) اور بخاری شریف میں حضرت عکرمہ سے مروی ہے ادنی علی بزنادقة فاهرقهم (یعنی زندیق لوگ سیدنا علیؓ کے پاس لائے گئے اور آپ نے ان کو جلا دیا) منقول از النجم جمادی الاخری 1341 ہجری آکر (مظہر حسین غفر لہ)

کیا لطف جو غیر پردہ کھولے

جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے

حضرات شیعہ کو جب کہا جائے کہ مذہب پاک شیعہ کا موجد عبداللہ یہودی ہے تو وہ سخت گھبرا کر برا بھلا کہنے لگتے ہیں ان حضرات کو بات بالا پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہیے بہر حال بقولِ شخصے ع

ساتھ انکار کے پردہ میں کچھ اقرار بھی ہے:

شیعہ حضرات لاکھ چھپائیں حق بر زبان جاری اس امر کا انہیں اعتراف کرنا پڑتا ہے بیشک عبداللہ بن سباء یہودی نے موالاتِ علیؓ کے بھیس میں حضراتِ شیخین کریمینؓ سے بغض و عناد کی تعلیم خفیہ و علانیہ دی جلاوطنی کی سزا بھی پائی جناب امیرؓ نے برسرِ منبر اس کو اور اس کی ذریت کو پھٹکار بھی کی لیکن جو شرارت کا تخم بوچکا اُس نے آخر بار آور ہونا تھا پہلے تقیہ کی صورت میں مریدان ابنِ سباء سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کرتے رہے اب اعلانیہ ہونے لگی۔ اعاذنا اللہ منہ۔


صفحہ 2 از 2