Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ابن کثیر رحمہ اللہ

  علی محمد الصلابی

41ھ میں ان کی بیعت پر رعایا کا اجماع ہو گیا۔ آپ جس سال فوت ہوئے اس سال وہ فیصلے کرنے میں آزاد تھے، دشمن کے علاقوں میں جہاد کا سلسلہ قائم تھا، اللہ کا کلمہ سربلند تھا، زمین کے دور دراز علاقوں سے مال غنیمت کی آمد کا سلسلہ جاری تھا مسلمان آرام و راحت کے ساتھ رہ رہے تھے اور ان کی طرف سے عفو و درگزر کا التزام کیا جا رہا تھا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 400)

مزید فرماتے ہیں: معاویہ رضی اللہ عنہ بڑے حلیم الطبع اور باوقار رئیس اور سردار تھے، منصف مزاج اور بڑی شان و شوکت کے حامل تھے۔

(ایضاً: جلد 11 صفحہ 397)

ابنِ کثیرؒ کا قول ہے: سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ عمدہ سیرت و کردار کے مالک، عفو و درگزر کے پیکر اور پردہ پوشی کرنے والے عظیم انسان تھے۔

(ایضاً: جلد 11 صفحہ 419)