سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
علی محمد الصلابیحضرت علی رضی اللہ عنہ اور آل بیت آپ کی تعظیم کرتے اور ان کے حق کے معترف تھے۔
• عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عثمان غنیؓ کی بیعت کرنے والے سب سے پہلے حضرت علیؓ تھے۔
(البخاری، کتاب فضائل الصحابۃ: (3700)
• قیس بن عباد سے روایت ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ کا ذکر آیا تو سیدنا علیؓ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا: آپ وہ شخص ہیں جن کے بارے میں رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
الا استحی ممن تستحی منہ الملائکۃ۔
(مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ: 2401)
’’کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں۔‘‘
• آپ نے حضرت عثمان غنیؓ کے جنتی ہونے کی شہادت دی۔ نزال بن سبرہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علیؓ سے حضرت عثمان غنیؓ کے بارے میں دریافت کیا تو سیدنا علیؓ نے فرمایا: وہ تو ملاء اعلیٰ میں ذوالنورین کے نام سے پکارے جاتے ہیں۔ آپ رسول اللہﷺ کے داماد تھے آپ کی زوجیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیاں آئیں، آپﷺ نے آپ کے لیے جنت میں گھر کی ضمانت دی۔
(العقیدۃ فی اہل البیت بین الافراط والتفریط: صفحہ 227) المختصر من کتاب الموافقۃ بین اہل البیت و الصحابۃ للزمخشری مخطوطۃ، مکتبۃ المخطوطات بالجامعۃ الاسلامیۃ۔ آخر میں دارالحدیث کے ذریعہ سے اس مخطوطہ کی طباعت ہوئی۔)
• آپ حضرت عثمان غنیؓ کی امامت و خلافت کے معترف اور آپ کے اطاعت گزار تھے، آپ کے کسی امر کی مخالفت نہیں کرتے تھے۔ ابن ابی شیبہ نے اپنی سند سے محمد بن حنفیہ کے واسطہ سے حضرت علیؓ سے روایت کی ہے کہ وہ فرماتے ہیں: اگر عثمان وادی ضرار جانے کا مجھے حکم دیں تو میں آپ کی بات سنوں گا اور اطاعت کروں گا۔
(السنۃ، الخلال: جلد 1 صفحہ 325، صفحہ 416 اسنادہ صحیح)
• اس میں عثمان رضی اللہ عنہ کی اطاعت و اتباع کی انتہا کی دلیل ہے۔
(العقیدۃ فی اہل البیت بین الافراط و التفریط: صفحہ 227)
• جب حضرت عثمان غنیؓ نے صحابہ کرامؓ کے مشورہ و اجماع کے بعد ایک قرأت پر لوگوں کو جمع کیا تو حضرت علیؓ نے فرمایا: جو ذمہ داری عثمانؓ پر ڈالی گئی اگر مجھ پر ڈالی جاتی تو میں وہی کرتا جو عثمانؓ نے کیا ہے۔
(السنن: البیہقی: جلد 2 صفحہ 42)
• حضرت علیؓ نے عثمانؓ کے قتل سے انکار کیا اور ان کے خون سے اپنی برأت کا اظہار کیا۔ آپ اپنے خطبہ وغیرہ میں قسم کھا کر کہتے تھے کہ انہوں نے آپ کو قتل نہیں کیا اور نہ قتل کا حکم دیا، نہ اس پر ابھارا اور نہ اس سے راضی ہوئے۔ یہ حضرت علیؓ سے اتنے طرق سے ثابت ہے جو قطعیت کا فائدہ دیتے ہیں۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 202)
• برخلاف رافضیوں کے اس زعم کے کہ آپ حضرت عثمانؓ کے قتل سے راضی تھے۔
(العقیدۃ فی اہل البیت بین الافراط و التفریط: صفحہ 229، حق الیقین، عبداللہ شبر: صفحہ 189)
• امام حاکم رحمۃاللہ حضرت عثمان غنیؓ کے قتل سے متعلق بعض روایات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: اہل بدعت نے جو یہ دعویٰ کیا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالبؓ نے اس سلسلہ میں تعاون کیا تو وہ کذب اور بہتان ہے اس کے برخلاف متواتر روایات وارد ہیں۔ (المستدرک: جلد 3 صفحہ 103)
علامہ ابن تیمیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں: یہ تمام روایات حضرت علیؓ پر جھوٹ اور افتراء ہیں، حضرت علیؓ نے حضرت عثمان غنیؓ کے قتل میں نہ شرکت کی نہ اس کا حکم دیا اور نہ اس سے راضی ہوئے، یہ آپ سے مروی ہے اور آپ سچے اور پاکباز ہیں۔
(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 406)
حضرت علیؓ نے فرمایا: اے اللہ میں تجھ سے حضرت عثمان غنیؓ کے خون سے برأت کا اظہار کرتا ہوں۔
(العقیدۃ فی اہل لبیت: صفحہ 330 اسنادہ حسن، الطبقات: 3،3 متعدد طرق سے روایت کی ہے اور سب صحیح ہیں۔)
امام حاکم نے قیس بن عبادہ سے روایت کی ہے کہ میں نے جمل کے دن حضرت علیؓ کو کہتے ہوئے سنا: اے اللہ میں دم عثمان سے اپنی برأت کا اظہار تجھ سے کرتا ہوں۔ اور جس دن سیدنا عثمان غنیؓ کا قتل ہوا اس دن تو میری عقل اڑ گئی، میں اپنے آپ کو بھول گیا، لوگ میرے پاس بیعت کے لیے آئے تو میں نے کہا: اللہ کی قسم مجھے اللہ تعالیٰ سے شرم آتی ہے کہ میں ان لوگوں سے بیعت لوں جنھوں نے اس شخص کو قتل کیا جس کے بارے میں رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں اس شخص سے حیا کیوں نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں اور مجھے اللہ سے شرم آتی ہے کہ میں بیعت لوں اور عثمان مقتول زمین پر پڑے ہوئے ہیں، ابھی تک دفن نہیں ہوئے ہیں۔ پھر لوگ لوٹ گئے، جب عثمان دفن کر دیے گئے تو لوگ دوبارہ میرے پاس آئے اور مجھ سے بیعت کرنا چاہی میں نے کہا: اے اللہ جو میں کرنے جا رہا ہوں اس پر مجھے خوف ہے، پھر میرے اندر عزیمت پیدا ہوئی اور میں نے بیعت لے لی۔ اور جب لوگوں نے مجھے امیر المؤمنین کہہ کر مخاطب کیا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرا دل پھٹ گیا ہے اور میں نے کہا: اے اللہ تو مجھ سے عثمان کا حق لے لے یہاں تک کہ تو راضی ہو جائے۔
(المستدرک: جلد 3 صفحہ 95، بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا اور ذہبی نے موافقت کی۔)
امام احمدؒ نے اپنی سند سے محمد بن حنفیۃ سے روایت کی ہے: حضرت علیؓ کو خبر ملی کہ ام المؤمنین عائشہؓ قاتلین عثمان پر مقام مربد (یہ بصرہ سے قریب ایک جگہ کا نام ہے جو تین میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔)
میں لعنت بھیج رہی ہیں تو حضرت علیؓ اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر چہرہ تک لائے اور کہا: میں قاتلینِ عثمان پر لعنت بھیجتا ہوں۔ اللہ ان پر پہاڑی و میدانی علاقوں میں لعنت نازل کرے، سیدنا علیؓ نے یہ بات دو یا تین بار دہرائی۔
(فضائل الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 555، رقم: 733 اسنادہ صحیح)
ابن سعدؒ نے اپنی سند سے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت علیؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم میں نے عثمان کو قتل نہیں کیا اور نہ ان کو قتل کرنے کا حکم دیا بلکہ میں نے روکا۔ اللہ کی قسم میں نے عثمان کو قتل نہیں کیا اور نہ اس کا حکم دیا، لیکن میں مغلوب ہو گیا، یہ آپ نے تین بار فرمایا۔
(الطبقات: جلد 3 صفحہ 82، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 202)
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا: جو حضرت عثمان غنیؓ کے دین سے برأت کا اظہار کرے وہ ایمان سے بری ہے، اللہ کی قسم میں نے ان کے قتل میں تعاون نہیں کیا اور نہ اس کا حکم دیا اور نہ اس سے راضی ہوں۔ (الریاض النضرۃ: صفحہ 543)
• حضرت عثمان غنیؓ سے متعلق حضرت علیؓ نے فرمایا: آپ ہم میں سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے اور سب سے زیادہ رب تعالیٰ سے ڈرنے والے تھے۔ (صفۃ الصفوۃ: جلد 1 صفحہ 306)
• ابوعون سے روایت ہے کہ میں نے محمد بن حاطب سے سنا انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت علیؓ سے حضرت عثمانؓ کے بارے میں دریافت کیا تو حضرت علیؓ نے فرمایا: حضرت عثمان غنیؓ ان لوگوں میں سے تھے:
(الذین آمنوا ثم اتقوا ثم آمنوا ثم اتقوا۔)
’’جو ایمان لائے پھر تقویٰ اختیار کیا پھر ایمان لائے پھر تقویٰ اختیار کیا۔‘‘
اور آیت ختم نہ کی۔
(فضائل الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 580) اسنادہ صحیح۔ واضح رہے کہ قرآن میں ان الفاظ میں کوئی آیت نہیں ہے۔ (مترجم)
• عمیرہ بن سعد سے روایت ہے کہ ہم حضرت علیؓ کے ساتھ فرات کے ساحل پر تھے۔ ایک کشتی اپنا بادبان اٹھائے ہوئے گزری تو حضرت علیؓ نے فرمایا،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَهُ الۡجَوَارِالۡمُنۡشَئٰتُ فِى الۡبَحۡرِ كَالۡاَعۡلَامِ۞(سورۃ الرحمٰن آیت 24)
ترجمہ: اور اسی کے قبضے میں وہ جہاز ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے کیے گئے ہیں۔
اس ذات کی قسم جس نے ان کشتیوں کو اپنے سمندروں میں سے کسی سمندر میں بلند کیا، میں نے عثمان کو قتل نہیں کیا اور نہ ان کے قتل پر لوگوں کو ابھارا۔
(فضائل الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 559، 560، اسنادہ صحیح لغیرہ: رقم 379)
• امام احمد رحمۃاللہ نے محمد بن حاطب سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت علیؓ کو فرماتے ہوئے سنا:
اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّنَّا الۡحُسۡنٰٓى اُولٰٓئِكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ۞(سورۃ الأنبياء آیت 101)
ترجمہ: (البتہ) جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے بھلائی پہلے سے لکھی جاچکی ہے، (یعنی نیک مومن) ان کو اس جہنم سے دور رکھا جائے گا۔
انہی لوگوں میں سے حضرت عثمان غنیؓ بھی ہیں۔
(فضائل الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 580، رقم 771) اسنادہ صحیح)
حضرت علیؓ نے فرمایا: جس دن حضرت عثمان غنیؓ قتل ہوئے میں کمزور پڑ گیا۔
(المنتظم فی تاریخ الملوک والامم: جلد 5 صفحہ 61)
حافظ ابن عساکر نے حضرت عثمان غنیؓ کے خون سے برأت اور خطبہ وغیرہ میں اس پر قسم کھانے اور اس پر عدم رضا کی قسم کھانے سے متعلق حضرت علیؓ سے وارد شدہ روایات کو جمع کرنے کا اہتمام فرمایا ہے اور یہ آپ سے متعدد طرق سے بہت سے ائمہ حدیث کے یہاں ثابت ہیں جو قطعیت کا فائدہ دیتی ہیں۔ (البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 193)