Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بلاغت

  علی محمد الصلابی

سیدنا احنف بن قیس رحمۃاللہ حاضر جواب، فی البدیہ بولنے والے، قوی الحجہ اور منطقی تھے۔ قتل کے ایک قضیہ میں آپ نے کسی قوم کے لوگوں سے کہا فیصلہ کرو، انہوں نے کہا ہم اس قضیہ میں دو دیت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: جو چاہو کرو۔ جب لوگ خاموش ہو گئے تو فرمایا: جو تمہارا مطالبہ ہے ہم تمھیں دے دیں گے لیکن میں آپ حضرات سے ایک بات کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی دیت عائد کی ہے، اور رسول اللہﷺ‏ نے بھی ایک ہی دیت کا فیصلہ کیا ہے، آج آپ لوگ طالب ہیں ہو سکتا ہے کل مطلوب بن جائیں، تو لوگ بھی تم سے اس سے کم پر راضی نہ ہوں گے جو تم اپنے لیے جاری کرو گے۔ یہ سن کر انہوں نے کہا: ہم ایک دیت لیں گے۔

(وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 188) 

آپ نے ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے اس کی پروا نہیں کہ میری مدح کی جا رہی ہے یا مذمت کی جا رہی ہے۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا: یقیناً تجھے راحت مل گئی جہاں شریف لوگ تھک گئے۔ 

(وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 188)