حرص - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

حرص

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

’’رزق کی تلاش میں گھر سے دور رہنے والا دوست و احباب سے مسلسل دور رہتا ہے، وہ اس کے حالات سے واقف نہیں ہوپاتے۔‘‘

بمشرق الأرض طورا ثم مغربہا لا یخطرالموت من حرص علی بال

’’کبھی مشرق میں ہوتا ہے کبھی مغرب میں، حرص کے باعث موت کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔‘‘

و لو قنعت أتاک الرزق فی دعۃ إن القنوع الغنی لا کثرۃ المال

’’اگر تمھیں قناعت حاصل ہوجائے تو تمھارے پاس روزی بڑے سکون و اطمینان سے آئے گی، بلاشبہ قناعت ہی اصل مالداری ہے نہ کہ مال کی کثرت۔‘‘

نیز کہتا ہے:

أیہا المتعب جہدا نفسہ یطلب الدنیا حریصا جاہدا

’’اے وہ شخص جو بڑی حرص اور محنت سے دنیا حاصل کرتے ہوئے اپنے آپ کو تھکا رہا ہے۔‘‘

لا لک الدنیا و لا أنت لہا فاجعل الہمین ہما واحدا 

(ما ذئبان جائعان لابن رجب: صفحہ 29)

’’ہمیشہ کے لیے نہ تو دنیا تمھاری ہے اور نہ تم دنیا کے ہو، اس لیے (دنیا و آخرت کے) دو غموں کو (آخرت کا) ایک غم بنا دو۔‘‘

حرص مال کی دوسری قسم یہ ہے کہ پہلی قسم میں مذکور چیزوں سے آگے بڑھ کر مال کو حرام طریقوں سے حاصل کرے، واجب حقوق نہ ادا کرے، ایسا کرنا مذموم حرص ہے، فرمان الہٰی ہے: 

 وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ۞ (سورۃ التغابن آیت 16)

ترجمہ:  اور جو لوگ اپنے دل کی لالچ سے محفوظ ہوجائیں، وہی فلاح پانے والے ہیں۔

سنن ابی داؤد میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

اِتَّقُوا الشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ أَہْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ، أَمْرَہُمْ بِالْقَطِیْعَۃِ فَقَطَعُوْا وَ أَمَرَہُمْ بِالْبُخْل فَبَخِلُوْا وَ أَمَرَہُمْ بِالْفُجُوْرِ فَفَجَرُوْا۔

(سنن أبی داؤد: جلد 2 صفحہ 324، رقم: 1698، البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)

’’حرص سے بچو، حرص نے تم سے پہلے کے لوگوں کو ہلاک کردیا، انھیں قطع تعلق کا حکم دیا تو وہ قطع تعلق کر بیٹھے، انھیں بخیلی کا حکم دیا تو وہ بخیلی کرنے لگے، انھیں برائی کا حکم دیا تو وہ برائی کرنے لگے۔‘‘

بہت سارے علماء کا قول ہے: شح وہ شدید حرص ہے جو حریص کو اس بات پر ابھارتی ہے کہ وہ چیزوں کو لے لیا کرے چاہے وہ حرام ہی کیوں نہ ہوں اور ان میں جو حقوق عائد ہوتے ہیں انھیں وہ ادا نہ کرے، 

(ما ذئبان جائعان: صفحہ 31)

اور بخل یہ ہے کہ انسان اپنے پاس موجود چیزوں کو خرچ نہ کرے، شح میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ انسان دوسرے کے مال وغیرہ کو ظلم و زیادتی سے لے لے، یہاں تک کہ شح کو تمام گناہوں کی جڑ کہا گیا ہے۔ سلف میں سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ نے شح اور بخل کی یہی تفسیر کی ہے۔

(ما ذئبان جائعان: صفحہ 31)

کبھی شح بخل کے معنیٰ میں اور بخل شح کے معنیٰ میں بھی استعمال ہوتا ہے، لیکن اصل دونوں میں فرق کرنا ہے جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے۔

جب مال کی حرص اس درجے کو پہنچ جائے تو اس سے دین وایمان میں نمایاں نقص پیدا ہوتا ہے، بلاشبہ حقوق کے روکنے اور حرام چیزوں کو لینے سے دین و ایمان میں اس حد تک کمی آ جاتی ہے کہ اس کا تھوڑا سا حصہ باقی رہتا ہے۔

(ما ذئبان جائعان: صفحہ 31)

 دنیاوی عزو جاہ کی حرص مال کی حرص سے بھی زیادہ ہلاکت خیز ہے۔ دنیاوی عزو جاہ اور ترقی، سرداری اور سربلندی کی چاہت، بندے کے حق میں مال کی چاہت سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے، اس سے کنارہ کشی بہت مشکل ہے۔ عز و جاہ کی حرص دو قسم کی ہے:

1۔ حکومت و سلطنت اور مال کے ذریعہ سے عزوجاہ کی چاہت، یہ بڑی خطرناک چیز ہے، یہ چیز اکثر آخرت کی بھلائی، اور عزت وجاہ سے محروم کر دیتی ہے، فرمان الہٰی ہے:

تِلۡكَ الدَّارُ الۡاٰخِرَةُ نَجۡعَلُهَا لِلَّذِيۡنَ لَا يُرِيۡدُوۡنَ عُلُوًّا فِى الۡاَرۡضِ وَلَا فَسَادًا‌ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ۞ (سورۃ القصص آیت 83)

ترجمہ: وہ آخرت والا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کردیں گے جو زمین میں نہ تو بڑائی چاہتے ہیں، اور نہ فساد، اور آخرت انجام پرہیزگاروں کے حق میں ہوگا۔

حکومت و امارت طلب کر کے جو دنیا کی سرداری کا حریص ہوتا ہے اسے توفیق الہٰی حاصل نہیں ہوتی بلکہ اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے کہا:

یَا عَبْدَالرَّحْمٰنِ لَا تَسْأَلِ الْاِمَارَۃَ فَإِنَّکَ إِنْ أُعْطِیْتَہَا عَنْ مَسْأَلَۃٍ وُکِّلْتَ إِلَیْہَا وَ إِنْ أُعْطِیْتَہَا مِنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ أُعِنْتَ عَلَیْہَا۔

(صحیح البخاری: رقم: 6622)

’’اے عبدالرحمٰن! امارت مت طلب کرنا، اگر یہ چیز طلب کرنے پر تمھیں ملے گی تو تمھیں اس امارت کے ساتھ اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے اور اگر بغیر مانگے ملے گی تو اس سلسلے میں تمھاری مدد کی جائے گی۔‘‘

تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ عزو جاہ کی حرص، عزو جاہ کے حصول سے پہلے، اس کے اسباب کی کوشش کے وقت، اور اس کے حصول کے بعد، ظلم و تکبر وغیرہ جیسے مفاسد کے ارتکاب کے وقت… بہت بڑے نقصان کو مستلزم ہوتی ہے۔

(ما ذئبان جائعان: صفحہ 35، 43)

2۔ دوسری قسم دینی امور جیسے علم و عمل اور زہد کے ذریعہ سے عز و جاہ اور لوگوں پر فوقیت کی طلب، یہ پہلی قسم سے زیادہ قبیح، مفسد اور خطرناک ہے، علم و عمل اور زہد کے ذریعہ سے تو اللہ کا قرب اور اس کے پاس اونچے درجات اور ابدی نعمتوں کو طلب کیا جاتا ہے۔

(ما ذئبان جائعان: صفحہ 47)

مذموم حرص کا علاج زہد سے ہوسکتا ہے اس کے بہت سارے وسائل ہیں، بعض درج ذیل ہیں:

بندہ حکومت و امارت جس کے اخروی حقوق کو ادا نہ کیا جائے، کے ذریعہ سے دنیاوی عزو جاہ کے حصول کے برے انجام کو دیکھے۔

 بندہ ظالموں، متکبروں اور کبریائی میں اللہ سے ٹکرانے والو ں کی سزا پر غور کرے۔

 بندہ اخروی سربلندی کے لیے دنیا میں اللہ کے واسطے خاکساری کرنے والوں کے ثواب کو دیکھے، بلاشبہ جو اللہ کے واسطے (دنیا میں) خاکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے (آخرت میں) سربلندی سے نوازے گا۔

صفحہ 2 از 3