حرص - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

حرص

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

 اخروی سربلندی بندے کے بس میں نہیں، بلکہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے، اسے دنیا میں نہ دے کر اس کے عوض اللہ تعالیٰ اپنے زاہد بندوں کو دنیا میں تقویٰ کے شرف، ظاہر میں ان کے لیے لوگوں کے دلوں میں ہیبت، اور باطن میں معرفت الہٰی، ایمان اور اطاعت کی مٹھاس سے نوازتا ہے، اور یہی وہ بہترین زندگی ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے ہر اس مومن مرد و عورت سے کیا ہے جو عملِ صالح کرتا ہے، دنیا میں یہ بہترین زندگی بادشاہوں اور اصحاب سلطنت کو نصیب نہیں ہوتی۔

عزو جاہ کی حرص کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے ابراہیم بن ادھم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’ہماری زندگی کی حقیقت سے اگربادشاہ اور شہزادے واقف ہوجائیں تو اسے ہم سے چھیننے کے لیے ہم سے تلواروں سے جنگ کریں، جسے بھی منجانب اللہ یہ زندگی نصیب ہوجاتی ہے وہ اسے پاکر ختم ہوجانے والے عزوجاہ اور فنا ہوجانے والی سلطنت کی طلب سے مستغنیٰ ہوجاتا ہے۔

(ما ذئبان جائعان: 75، 76)

فرمانِ الہٰی ہے:

 وَلِبَاسُ التَّقۡوٰى ذٰلِكَ خَيۡرٌ‌ ۞ (سورۃ الأعراف آیت 26)

ترجمہ: اور تقوی کا جو لباس ہے وہ سب سے بہتر ہے۔ 

مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الۡعِزَّةُ جَمِيۡعًا۞ (سورۃ فاطر آیت 10)

ترجمہ: جو شخص عزت حاصل کرنا چاہتا ہو، تو تمام تر عزت اللہ کے قبضے میں ہے۔ 

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ہمیں مذموم حرص سے ڈراتے ہوئے کہا ہے:

’’حرص نفس کی دشمن ہے، اسی کے باعث آدم علیہ السلام جنت سے نکالے گئے۔‘‘

(علموا أولادکم حب آل بیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم: صفحہ 131)


صفحہ 3 از 3