Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

لباس

  نقیہ کاظمی

لباس

صفہ کے طلبہ کرامؓ کے پاس پھٹی پرانی چادر کے علاؤہ کوئی کپڑا جسم کو ڈھانپنے کے لئے نہیں تھا۔
(مسند أحمد: صفحہ، 324 جلد، 2)
اور پھٹی پرانی چادروں میں اتنا لباس بھی میسّر نہیں تھا کہ جس سے پورے طور پر اپنے تن کو ڈھانپ سکیں۔
(طبقات ابن سعد: صفحہ، 255 جلد، 1)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے 70 ستر اصحابِ صفہ رضی اللہ عنہم کو دیکھا ہے، ان میں سے کسی کے پاس اتنی بڑی چادر نہیں تھی جس سے اپنے پورے جسم کو چھپا سکے، بلکہ یا تو ان کے پاس لنگی ہوتی، یا اوپر کی چادر جسے وہ اپنی گردنوں میں باندھ لیتے، ان چادروں میں سے بعض تو نصف پنڈلیوں تک پہنچتیں اور بعض ٹخنوں تک، جسے وہ بے پردگی کے خوف سے نیچے کی جانب سے پکڑے رہتے۔
(صحیح بخاري: صفحہ، 63 جلد، 1 رقم، 442)
(فتح الباري: صفحہ، 631 جلد، 1)
بعض دفعہ صفہ کے فقراء مہاجرین کو اتنے کپڑے بھی میسّر نہیں ہوتے کہ جس سے وہ اپنے ستر چھپا سکیں، سیدنا ابو سعید خدریؓ کا بیان ہے کہ میں فقراء مہاجرین کی ایک جماعت کے ساتھ (صفہ میں) بیٹھا، تو دیکھا ان میں سے بعض اپنے ستر کو کپڑے کے کم ہونے کے سبب دوسرے کے کپڑے سے، یا دوسرے شخص کے پیچھے بیٹھ کر اپنے ستر کو چھپا رہے تھے اور قاری قرآن درسِ قرآن دے رہے تھے۔
(سنن ابو داؤد: صفحہ، 516 جلد، 2 العلم)
ایک مرتبہ مدرسہ صفہ کے ایک طالب علم نے رسول اللہﷺ سے شکایت کی۔ یارسول اللہﷺ!
تخرقت عنا الخنف۔
ترجمہ: ہم لوگوں کی سفید، موٹی اور ردی قسم کی چادریں بھی پھٹ گئیں۔
یہ شکایت سن کر نبی اکرمﷺ منبر پر تشریف لے گئے ارشاد فرمایا صبر کرو۔
ولکن لعلکم تدرکون زمانا تلبسون فیہ مثل أستار الکعبۃ۔
عنقریب تم ایسا زمانہ پاؤ گے، جس میں لباس فاخرہ غلافِ کعبہ کی طرح پہنو گے۔
(الحلیۃ: صفحہ، 374 جلد، 2)