Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حسد

  علی محمد الصلابی

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حسد برائیوں کا راستہ دکھاتا ہے، اسی وجہ سے قابیل نے ہابیل کو قتل کیا:

محبت کہتے ہیں دوسروں کے لیے بھلائی کی تمنا کو، اس کی ضد حسد ہے، اور حسد کہتے ہیں محسود کی نعمت کے زوال کی تمنا کو، یہ ایک قبیح، مذموم اور مہلک مرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاسد کی برائی سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے، جس طرح شیطان کی برائی سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَمِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۞ (سورۃ الفلق آیت 5)

ترجمہ: اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔

فرمان نبوی ہے:

لَا تَحَاسَدُوْا وَ لَا تَقَاطَعُوْا وَ لَا تَبَاغَضُوْا وَ لَا تَدَابَرُوْا وَ کُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰہِ إِخْوَانًا۔

(صحیح البخاری: رقم: 6064)

’’تم باہم ایک دوسرے سے حسد، قطع تعلق، بغض نہ کرو، ایک دوسرے کے ٹوہ میں نہ پڑو، اور بھائی چارگی کے ساتھ اللہ کے بندے بن جاؤ۔‘‘

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، آپ نے فرمایا:

یَطْلُعُ عَلَیْکُمُ الْآنَ مِنْ ہَذَا الْفَجِّ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔

’’ابھی اس گلی سے تمھارے پاس ایک جنتی آدمی نمودار ہوگا۔‘‘

چنانچہ ایک انصاری صحابی اپنی داڑھی سے وضو کا پانی جھاڑتے ہوئے اس طرح نمودار ہوئے کہ اپنے جوتے اپنے بائیں ہاتھ میں لیے ہوئے تھے، سلام کیا، دوسرے دن بھی آپﷺ نے ویسے ہی کہا تو وہی نمودار ہوئے، تیسرے دن بھی آپﷺ نے ویسے ہی کہا تو وہی نمودار ہوئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے تو عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما اس صحابی کے پیچھے ہو لیے، ان سے کہا: میرے والد سے میرا جھگڑا ہوگیا ہے، میں نے قسم کھائی ہے کہ ان کے پاس تین دن نہیں جاؤں گا، اگر آپ اپنے یہاں مجھے تین دن رکھ سکیں تو رکھ لیں، کہا: ٹھیک ہے، چنانچہ وہ ان کے پاس تین رات رہے، انھیں قیام اللیل کرتے ہوئے بھی نہیں دیکھا، بس بستر سے اٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے، نماز فجر کے لیے بیدار ہوتے۔ اتنی بات تھی کہ میں نے انھیں صرف بھلی بات ہی کہتے سنا، تین راتیں گزر گئیں، ان کا عمل میری نظر میں عظیم نہیں تھا، میں نے کہا: اے عبداللہ! میرے اور والد کے مابین کوئی ناراضی اور قطع تعلق نہیں تھا، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ایسا کہتے سنا تو چاہا کہ آپ کے عمل کو معلوم کروں، چنانچہ میں نے آپ کو کچھ زیادہ عمل کرتے ہوئے نہیں دیکھا، کس چیز نے آپ کو اس مقام تک پہنچایا؟ انھوں نے کہا: وہی سب کچھ ہے جو آپ نے دیکھا ہے، جب میں واپس ہونے لگا تو مجھے بلا کر کہا: وہی سب کچھ ہے جو آپ نے دیکھا ہے سوائے اس کے کہ میں کسی مسلمان کو دھوکہ نہیں دیتا، اور نہ ہی منجانب اللہ اسے عطا کردہ کسی نعمت پر حسد کرتا ہوں، عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے ان سے کہا: یہی چیز ہے جس نے آپ کو اس مقام تک پہنچایا ہے اور ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔

(مسند أحمد: جلد 3 صفحہ 166، اس کی سند صحیح ہے۔)

حسد کے بہت سارے اسباب ہیں، جیسے عداوت، بغض، گھمنڈ، سرداری کی چاہت، نفس کی خباثت، اور بخیلی، نیز اس طرح کی دل کی دوسری بیماریاں، چنانچہ حسد بہت ساری پریشانیوں اور بیماریوں کا مجموعہ ہے، وہ ان بیماریوں سے زیادہ بھائی چارگی، محبت اور ایمان کو ختم کردینے والا ہے، اس کی تباہ کاریاں بہت زیادہ ہیں، حسد ان لوگوں میں زیادہ پایا جاتا ہے جن میں مذکورہ اسباب زیادہ پائے جاتے ہیں، یہ اکثر و بیشتر ہم عمر، ہم مثل، سگے اور چچیرے بھائیوں، پیشہ وروں، علما اور تاجروں کے مابین ہوتا ہے، اس لیے کہ باہمی حسد کا سبب مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے سب کے اغراض کا ایک ہونا ہے، نتیجتاً باہمی نفرت و بغض پیدا ہوتا ہے، چنانچہ حسد کی اصل جڑ ایک ہی غرض و مقصد پر لوگوں کا اکٹھا ہو جانا ہے، اور ان سب کا سبب دنیا کی محبت ہے، دنیا ہی اکٹھا ہونے والوں پر تنگ ہو جاتی ہے۔(منھج الإسلام فی تزکیۃ النفس: صفحہ 340)