مقدمہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مقدمہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 7
کاروانِ اسلام اﷲ کی نصرت وحفاظت میں رواں دواں رہا ۔چنانچہ دعوت محمدی کی علم بردار فوجیں ایک طرف سے وادیٔ نیل اور وہاں سے شمالی افریقہ تک جا پہنچیں اور دوسری جانب ایران کی آخری سرحد تک پہنچ کر دم لیا ۔جب حضرت فاروق رضی اللہ عنہ نے یہود ومجوس کی دسیسہ کاریوں سے جام شہادت نوش فرمایا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دو قدیم رفقا کی رفاقت آسان کردی تو مسلمانوں نے خلافت کیلئے ایک پاکیزہ خصال ،رحم دل ،حافظِ قرآن ،سخی اورحوادث روزگار پر صبر کرنے والی شخصیت کو پسند کیا.... وہ تھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ۔
آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیوں سے (یکے بعد دیگرے) عقد نکاح باندھا اور اگر آپ کی تیسری بیٹی ہوتی توبھی آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دوسروں پر ترجیح دیتے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چیدہ و برگزیدہ اصحاب کے مخلص بھائی اور ان کے بیٹوں کے شفیق باپ تھے ۔تابعین کبار میں سے حسن بصری اور ان کے معاصر ابن سیرین کا بیان ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں امت ہر طرح خوشحال تھی اور ہر طرف امارت و ثروت کا دور دورہ تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بہادر مجاہدین نے اسلامی جھنڈوں کو سر زمین قفقاز میں جا لہرایا جب کہ کسریٰ کے سپہ سالار وہاں پہنچنے کی امید بھی نہیں کرسکتے تھے۔ بہر کیف مشرقی اور مغربی اقوام نے صحابہ کی سیرت وکردار ان کے عدل وانصاف رفق وتدبّر اور راہ حق پر استقامت واستقلال سے اسلام کا سبق سیکھا اور اسی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک کی تصدیق ہوئی۔ ارشاد ہوتا ہے:
((خَیْرُالقُرُوْنِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ))
’’ بہترین میرا زمانہ ہے پھر وہ لوگ جو انکے قریب ہیں ؛ پھر وہ جو ان کے قریب ہیں ۔‘‘
امام ربّانی احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں یہ حدیث بروایت عبیدہ سلمانی قاضی کوفہ انھوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے۔[مسند احمد (۱؍۳۷۸،ح:۳۵۸۳) ، صحیح بخاری۔ کتاب الشھادات۔ باب لا یشھد علی شھادۃ جور اذا اشھد (ح:۲۶۵۲)، صحیح مسلم۔ کتاب فضائل الصحابۃ۔ باب فضل الصحابۃ ثم الذین یلونھم ،(ح:۲۵۳۳)]
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح کی کتاب نمبر ۶۲ باب اول میں یہ روایت حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے۔[صحیح بخاری۔ (ح:۲۶۵۱،۲۶۵۰)،صحیح مسلم (ح: ۲۵۳۵)] عمران فتح مکہ کے دن عسکر نبوی میں قبیلہ خزاعہ کے علمبردار تھے ۔[الاصابۃ (۵؍۲۷)۔]
امام مسلم نے اپنی صحیح میں یہ روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے۔[صحیح مسلم۔ کتاب فضائل الصحابۃ، باب فضل الصحابۃ ثم الذین یلونھم، (ح: ۲۵۳۶)]
مذکورہ بالاحدیث نبوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ایک ہے۔ اسلام کو جو عزت وعظمت اور استقامت دور صحابہ ،تابعین وتبع تابعین میں حاصل ہوئی آئندہ ادوار میں نصیب نہ ہوسکی۔ اموی خلافت پر اس مبارک عہد کا خاتمہ ہو گیا۔ بنو عباس کے وہ اوّلین خلفاء جنھوں نے اموی ماحول میں تربیت پائی تھی اسی عہد میں شامل ہیں ۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’ ائمہ اسلام کا اتفاق ہے کہ تبع تابعین میں سے آخری شخص جس کا قول مقبول ہے وہ ہے جو ۲۲۰ھ تک بقید حیات رہا۔ اس کے بعد بدعات کا دور دورہ ہوا اور حالات بڑی حد تک بدل گئے۔‘‘[فتح الباری ج۷ ص۴۔]
اس مبارک زمانہ کو خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’خیر القرون‘‘ سے تعبیر فرمایا تھا۔ جو آپ کی صداقت کی زبر دست دلیل ہے۔یہ اسلام کازرّیں دور تھا ۔دین اسلام نے اس سے بڑھ کر نہ کبھی خیر وبرکت کا مشاہدہ کیا نہ اہل اسلام نے اس سے بڑھ کر کبھی عزّوشرف حاصل کیا نہ اس دور سے بہتر کبھی جہاد خالص دیکھا گیا نہ کرۂ ارضی کے دور افتادہ گوشوں تک کبھی دعوت اسلام اس وسعت کے ساتھ پہنچی ،اسی عصر وعہد میں حفاظ قرآن نے اکناف ارضی تک پہنچ کر لوگوں کو قرآن سے روشناس کرایا ۔نوجوان تابعین مختلف دیار وامصار میں پہنچ کر وہاں کے رہنے والے صحابہ سے حدیث نبوی کی تعلیم حاصل کرنے لگے۔مباداکہ صحابی کی موت سے وہ احادیث بھی ناپید ہوجائیں جو ان کے سینہ میں محفوظ ہیں ۔پھر تبع تابعین کا زمانہ آیا۔ وہ ہر ایسے خطۂ ارضی میں پہنچے جہاں کبار تابعین اقامت گزین تھے۔ اور ان سے وہ امانت حاصل کی جو انھوں نے صحابہ کرام سے سن کر یاد کر رکھی تھی۔ علیٰ ھٰذاالقیاس سنت نبوی کی یہ امانت ان لوگوں تک پہنچی جنھوں نے اس کی جمع وتدوین کا بیڑا اٹھایا ۔مثلا امام مالک رحمہ اللہ ، 
امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے شیوخ وتلامذہ اور معاصرین، رجال تدوین کے یہاں پہنچتے وقت حدیث نبوی بالکل تروتازہ اور عطر نبوت سے بھر پور تھی ،حدیث نبوی کے امانت دار محافظین نے جوں کی توں یہ امانت دوسرے امانت دار محافظین تک پہنچا دی۔ آگے چل کر یہ امانت کتاب اللہ کے بعد مسلمانوں کے لیے نہایت گراں قدر ورثہ قرار پائی ۔
خلاصۂ کلام! صحابہ کے طفیل اللہ تعالیٰ نے حدیث نبوی کالازوال خزینہ ہمارے لیے محفوظ کر لیا ۔ان کی تلواروں سے ہی دیارو امصار اوربلاد فتح کیے اور ان کی مساعی جمیلہ سے ہی اسلامی دعوت پھلی پھولی ۔اور آج ہمارے لیے یہ عالمِ اسلام منصّۂ شہود پر جلوہ گر ہوا جس میں کثرت سے اوطان واقوام موجود ہیں اور ان علوم وعلماء کی بھی کمی نہیں جواسلام کے اولیں ادوار میں کرۂ ارضی کی زینت اور بے حد ناگزیر سمجھے جاتے تھے ۔زمانہ حال واستقبال میں علماء کی صلاحیت اور رجوع الی اللہ کے باعث اسلام کی شوکت رفتہ پھر لوٹ کر آئے گی ۔اور انہی کی جدوجہد کے بل پوتے پر اسلامی نظام کوحیات نو حاصل ہوگی۔ وَمَا ذٰ لِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ۔
جس طرح امرا اور اہل ثروت کے بیٹے اپنے آباء سے املاک واموال ورثہ میں پاکر دنیا میں عزت ومنصب حاصل کرتے ہیں ۔یہ دوسری بات ہے کہ برے ساتھی ان کو اس وہم میں مبتلا کردیں کہ ان کی خوشحالی وفارغ البالی کا راز اس ما ل کو برباد کرنے میں مضمر ہے ،اسی طرح ہم نے یہ اسلامی عز ومجد صحابہ وتابعین رضی اللہ عنہم سے ورثہ میں پائی ۔
صفحہ 2 از 7