مقدمہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مقدمہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 7
ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ دنیا کی کسی قوم نے ایسا گراں بہاورثہ نہیں پایا ۔اسلامی ورثہ میں تقدس وبرکت کے اعتبار سے گراں تر حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہماکی وہ خدمت ہے جو آپ نے قرآن کی جمع وتدوین اور اس کو مصاحف میں محفوظ کرنے کے سلسلہ میں انجام دی ۔اگر کرۂ ارضی پر رہنے والے تمام مسلمان اس عظیم احسان وعنایت پر شب وروز ان کے لیے اجر وثواب کی دعائیں مانگیں تو بھی وہ ان کا حق ادا نہیں کر سکتے ۔اللہ تعالیٰ ہماری جانب سے ان کو اجر عظیم عطا فرمائے۔(آمین)
اس عظیم میراث میں سے گراں قدر خزانہ ہر صحابی کی وہ توجہ ہے جوانہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اقوال وارشادات ، سیرت و کردار اور اوامرونواہی کے تحفظ کے سلسلہ میں انجام دی ۔صحابہ نے یہ امانت جوں کی توں اپنے بھائیوں ، بیٹوں اور تابعین کو سپرد کر دی کسی نبی کے اصحاب نے امانت کی سپردگی میں ایسی احتیاط سے کام نہ لیا ہوگا۔اس سے عیاں ہوتا ہے کہ اخلاق و تشریع، اقوام و امم کی تکوین و تخلیق اور مختلف انسانی طبقات و اجناس و اوطان میں یگانگت پیدا کرنے کے لیے یہ عظیم ترین انسانی وراثت تھی۔بنی نوع انسان کی ان خدمات جلیلہ کے پیش نظر صرف وہی شخص صحابہ کی تنقیصِ شان کا مرتکب ہوسکتا ہے جو غیر مسلم ہو اور دوسروں کو دھوکہ دینا چاہتا ہو یا زندیق ہو اور اس کے ظاہر و باطن میں تضاد پایا جاتا ہو۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تیسراورثہ ہم نے یہ پایا کہ انہوں نے اپنے اسلامی اخلاق و اعمال کو اسلام کا نمائندہ بنا کر اقوام عالم کے سامنے پیش کیا، یہی وجہ ہے کہ وہ اسلام کو الفت و محبت کی نگاہ سے دیکھنے لگے، صحابہ اسلام کا بہترین عملی نمونہ قرار پائے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صحابہ کے زمانہ میں روئے ارضی کی بسنے والی قومیں حلقہ بگوش اسلام ہو گئیں ۔
خلفائے راشدین کے زریں عہد کے بعد جن خوش نصیب صحابہ و تابعین رحمہم اللہ نے صحیحین کی جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کردہ روایت[البخاری،کتاب الاحکام(ح:۷۲۲۳)مسلم۔ کتاب الامارۃ۔ باب الناس تبع لقریش،(ح:۱۸۲۱،۱۸۲۲)۔] کے مصداق خلفاء قریش کے جھنڈے تلے جہاد کیا، وہ بھی اس فضیلت میں برابر کے شریک ہیں ۔ 
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قباء میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے جہاد سے متعلق جو خواب دیکھا تھا[صحیح بخاری۔ کتاب الجہاد۔ باب ما قیل فی قتال روم (حدیث: ۲۹۲۴۔ ۲۷۸۹، ۶۲۸۳) ] وہ بھی اس حقیقت کا آئینہ دار ہے آپ کا دوسرا خواب یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے قسطنطنیہ پر حملہ کرنے سے متعلق تھا[صحیح بخاری، حدیث:۲۹۲۴، ۲۷۸۹، ۶۲۸۳۔] صحیحین کی حضرت جابرہ بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث میں قریش کے جن عظیم اشخاص کا ذکر پایا جاتا ہے، وہ وہی لوگ تھے جنھوں نے جہاد میں شرکت کی اور اسلامی دعوت کو براعظم ایشیا وافریقہ اور یورپ کے دور افتادہ گوشوں تک پہنچا دیا، ہمارے قلوب ان کی سپاس گزاری میں کتنے ہی مشغول رہیں ہماری زبانیں ان کی مجاہدانہ مساعی کی مدح و ثنا میں کتنی ہی رطب اللسان ہوں ، یہ حقیقت ہے کہ ہم ان کے واجب شکر کا عشر عشیر بھی ادا نہیں کرسکتے۔
اس سے یہ حقیقت اجاگر ہوتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت وبزرگی اور ان کی جرأت و بسالت کے اثبات میں ہم نے صحیح معلومات پر مبنی جو علمی مقالات لکھے ہیں ان سے صحابہ کی مدح و ثنا کا حق کیوں کر ادا کیا جا سکتا ہے، اسی طرح دور حاضر کی تصنیفات سے صحابہ کی مدح گوئی کیوں کر ممکن ہے اگرچہ یہ تصانیف صحابہ کے مناقب و فضائل سے پر ہیں اور ان کتب کا اقصائے ارضی کے نوجوانوں تک پہنچنا ناگزیر ہے۔ان کے مطالعہ سے یوں محسوس ہوتا ہے، کہ قاری ان غزوات میں بذات خود شریک ہے، وہ اسلامی فوج کا ایک فرد ہے اور اسلامی جھنڈے تلے کفار کے خلاف نبرد آزما ہے، قاری اس تصور میں کھو جاتا ہے کہ صحابہ و تابعین کے ہاتھوں جو فتوحات حاصل ہوئیں اور اہل اسلام نے ان دنوں جو معرکے سر کئے وہ اپنے جذبات و احساسات اور دل کی دھڑکنوں کے ساتھ ان میں شامل ہے اور جہاد میں بھرپور حصہ لے رہا ہے۔

منہاج الکرامہ کی علمی حیثیت :

یہی وہ صحابہ و تابعین رحمہم اللہ تھے جن کے بارے میں ’’ ابن المطہر ‘‘ [الحلی] نامی[شیعہ مصنف ]....نے ’’منہاج الکرامۃ‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ یہ کتاب گالیوں کا پلندہ ہے، جس میں صحابہ کی مجاہدانہ مساعی کی مذمت کر کے ان کے محاسن کو عیوب ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کتاب میں حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کی ہجو و قدح کا کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا گیا، اس کی حدیہ ہے کہ اگر اعداء دین مثلاً مجوس، رومی، ترک اور دیالمہ میدان حرب و قتال میں جب وہ صحابہ کے خلاف برسر پیکار تھے اگر ان کے اخلاق و اعمال کی تصویر کشی کرنا چاہتے تو اس شرمناک طریق کار سے اجتناب کرتے۔

کلینی کی کتاب’’الکافی‘‘ کی موضوع روایات:

غالباً پادری کافی کلینی سے بیان کردہ جھوٹی روایات سے احتجاج کیا کرتے تھے، مثلاً ’’الکافی ‘‘کی مذکورہ ذیل روایات:
۱۔ جابر جعفی سے روایت ہے؛اس نے کہا میں نے ابو جعفر صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ فرماتے تھے کہ جھوٹے آدمی کے سوا کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ قرآن کریم اسی طرح جمع کیا گیا ہے جیسے کہ نازل ہوا تھا، حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور بعد میں آنے والے ائمہ کے سوا کسی نے قرآن کونہ یاد کیا اور نہ جمع کیا۔‘‘ (’’الکافی ‘‘ از کلینی طبع: ۱۲۷۸، ص:۵۴)
۲۔ ابوبصیر روایت کرتے ہیں کہ میں ابو عبداﷲ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا، ہمارے یہاں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا قرآن موجود ہے۔ میں نے عرض کیا مصحف فاطمہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: وہ تمہارے قرآن سے تین گنا زائد ہے، بخدا اس میں تمہارے قرآن کا ایک لفظ بھی موجود نہیں ۔‘‘ (’’الکافی ‘‘ از کلینی،ص: ۵۷)
صفحہ 3 از 7