مقدمہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مقدمہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 7
کلینی کی کتاب ’’الکافی‘‘ شیعہ کے یہاں اسی طرح مستند سمجھی جاتی ہے، جس طرح مسلمانوں کے نزدیک کتب حدیث میں صحیح بخاری، حالانکہ وہ ایسی کفریات سے لبریز ہے۔ ’’ابن المطہر‘‘ جس کی تردید کے لیے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے یہ کتاب تحریر فرمائی ؛شیعہ کی کتاب روضات الجنات میں اسے طرح طرح کے القاب سے نوازا گیا ہے، مثلاً اسے فخر علماء، مرکز دائرہ اسلام، آیۃ اﷲ فی العالمین، استاذ الخلائق ، جمال الملۃ والدین وغیرہ القاب سے ملقب کیا گیا ہے۔
میرا خیال ہے کہ ابن المطہر کی ’’ منہاج الکرامہ‘‘ اور اس کے معاصر امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی گراں قدر تصنیف ’’منہاج الاعتدال ‘‘ یا ’’ منہاج السنۃ ‘‘ کی تسوید و تحریر کا مقصد ہر گز یہ نہ تھا کہ مسلمانوں کو شیعہ بنایا جائے، یا شیعہ کو اسلام کی جانب لوٹایا جائے اور اس لیے کہ یہ امر ....
ایں خیال است و محال ست و جنون
کا مصداق ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں مذاہب کے اصول اساسی ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں ، اور دونوں میں گہرا فرق و اختلاف پایا جاتا ہے، چند اصول آنے والے صفحات پر ملاحظہ فرمائیے:

اہل اسلام و شیعہ میں بنیادی فرق :

اہل اسلام کے نزدیک شارع اور معصوم صرف رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے، آپ کے بعد نہ کوئی شارع ہے، نہ معصوم بخلاف ازیں شیعہ بارہ اماموں کو معصوم اور مصدر شریعت قرار دیتے ہیں ۔

امام غائب کی خود ساختہ حکایت:

اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ شیعہ کے ائمہ معصومین میں سے گیارہواں امام لا ولد فوت ہوا اور ان کے بھائی جعفر نے اسی اساس پر ان کاورثہ تقسیم کیا کہ آپ لاولد ہیں ۔ مزید براں ان کی بیویوں اور لونڈیوں کو عدت وفات اور مدت استبراء گزارنے کے لیے روکے رکھا یہاں تک کہ جعفر اور بنی طالب کے نقباء پر یہ حقیقت آشکار ہوگئی کہ امام حسن عسکری بے اولاد تھے۔
ان تاریخی حقائق کے باوجود شیعہ یہ رٹ لگائے جا رہے ہیں کہ امام حسن عسکری کا ایک لڑکا تھا اور آج سے گیارہ صدیاں پہلے وہ اپنے والد کے گھر کے تہ خانہ میں چھپ گیا تھا، بقول شیعہ وہ تاحال بقید حیات اور مسلمانوں کا شرعی حاکم ہے، شیعہ کی رائے میں ان کے سوا کرۂ ارضی پر جو مسلمان حاکم ہے وہ ظالم و غاصب ہے اور ناحق مسلمانوں پر حکومت و سلطنت کا دعویٰ کرتا ہے، شیعہ اس سے تجاوز کر کے یہاں تک کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جتنے مسلم حاکم یا امام یا خلیفہ قرار پائے وہ ظالم و غاصب اور غیر شرعی حاکم تھے، شیعہ کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ ان کا بارہواں بن باپ و بن اولاد امام کسی نہ کسی وقت ظہور پذیر ہوگا، اس کے زمانہ میں حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر مسلم خلفاء و حکام دوبارہ زندہ کیے جائیں گے، امام مذکور ان پر حکمرانی کرے گا، اور جس ظلم و غصب کا ارتکاب وہ کر چکے ہیں ۔ (نعوذ باﷲ من ذلک) اس کی سزا دے گا۔

قرآن کی جمع و تدوین اور صحابہ کرام:

دین اسلام اور شیعہ مذہب کے مابین ایک اساسی فرق اور ہے، اہل اسلام کے ہاتھوں میں جو قرآن صدیوں سے چلا آرہا ہے اس کی جمع و تدوین کا بیڑا ابوبکر، عمر، عثمان اور دیگر اہل علم صحابہ رضی اللہ عنہم نے اٹھایا، مزید برآں جن احادیث نبویہ پر تشریع اسلامی کی بنیاد رکھی گئی ہے، وہ بھی صحابہ کی روایت کردہ ہیں ، اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان خدمات جلیلہ کے ادا کرنے میں حضرات صحابہ کے رفیق کار تھے، حضرت ابو بکرو عمر و عثمان و علی اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں ہماری رائے یہ ہے کہ کمال صدق اور استقامت علی الحق کے اعتبار سے وہ ایک مثالی گروہ تھا جس کی نظیر دنیائے انسانیت میں تلاش نہیں کی جاسکتی ، چنانچہ آپ کتاب ھذٰا کی آخری فصل میں اس کی تفصیلات ملاحظہ فرمائیں گے۔
ہم قبل ازیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث صحیح بیان کر چکے ہیں ، ارشاد ہوتا ہے:
’’تمام زمانوں سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر وہ جو ان کے قریب ہیں ، پھر جو ان کے قریب ہیں ۔‘‘ [صحیح البخاری، کتاب الشہادات، باب لا یشھد علی شہادۃ جور۔ (ح: ۲۶۵۱۔ ۲۶۵۲) مسلم ۔ کتاب فضائل الصحابۃ۔ باب فضل الصحابۃ ثم الذین یلونھم، (ح:۲۵۳۳،۲۵۳۵]
یہ حقیقت ہے کہ ہم نے قرآن صحابہ سے سیکھا وہ صحابہ ہی تھے جنھوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث صحیحہ روایت کیں جن پر بیان شریعت کے ضمن میں ہمارا اعتماد ہے۔ جب مذکورہ حدیث کی روشنی میں صحابہ افضل الامت ہیں ۔[مسند احمد(۱؍۱۰۶) سنن ابن ماجہ۔ المقدمۃ۔ باب فضل عمر بن الخطاب (حدیث:۱۰۶)]
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے منبر پر فرمایا :’’حضرت ابوبکر و عمر افضل الصحابہ ہیں ۔‘‘
اس سے ظاہر ہے کہ صحابہ کے بارے میں اہل اسلام کا عقیدہ مذکورہ بالا حدیث اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ارشاد کے عین مطابق ہے۔ علاوہ ازیں تاریخی حقائق بھی اسکی تائید و تصدیق کرتے ہیں ۔ چونکہ ہم نے علوم کتاب و سنت کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ذریعہ حاصل کیا ہے۔
لہٰذا صحابہ کی مدح و تعدیل سے گویا ہمارے اعتماد کتاب و سنت کی تائید ہوتی ہے ، البتہ ابن المطہر اور دیگر شیعہ امامیہ.... جن کو امام زید بن علی بن حسین رافضی کہہ کر پکارتے ہیں .... کا زاویہ نگاہ اس ضمن میں ہم سے مختلف ہے چنانچہ اس کی تفصیل[آگے] مناسب موقع پر آئے گی۔

حدیث نبوی اور شیعہ:

صفحہ 4 از 7