مقدمہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مقدمہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 7
جو اصول و قواعد ہمارے اور شیعہ کے مابین وجہ فرق و امتیاز ہیں ، ان میں سے ایک بنیادی امر یہ ہے کہ احادیث نبویہ کتاب الٰہی کے بعد تشریع اسلامی کی اساس و معیار ہیں ۔ یہ احادیث ان صحابہ کے ذریعہ ہم تک پہنچیں جو حد درجہ عادل و امین اور حافظ و ضابط تھے۔ فن حدیث کے نقاد ان کی سیرت و کردار اور فنی مہارت سے بخوبی آگاہ ہیں ۔ محدثین نے روایت حدیث میں بے حد احتیاط سے کام لیا۔ جو شخص حد درجہ عبادت گزار اور صلاح و تقویٰ میں یگانہ روز گار ہو، اگر روایت حدیث میں سہل انگاری سے کام لیتا ہو، تو اس کی روایت محدثین کے نزدیک قابل حجت نہیں ہے۔ جو شخص آغاز زندگی میں حافظ و ضابط اور امانت و عدالت کی صفات سے بہرہ ور ہو پھربڑا ہو کر نسیان کے عارضہ کا شکار ہوجائے تو اندریں صورت محدثین کے نزدیک اس کی وہ روایات مقبول ہیں جو اس نے حالت صحت میں اس مرض میں مبتلا ہونے سے قبل روایت کیں ، مرض میں مبتلا ہونے کے بعد کی روایات پایہ استناد سے ساقط ہیں ۔بخلاف ازیں شیعہ روایت حدیث میں امانت و عدالت اور حفظ و اتقان کی چنداں پروا نہیں کرتے۔شیعہ کی معتبر کتب مثلاً ’’الکافی‘‘اور دیگر کتب میں حد درجہ دروغ گو لوگوں کی روایات درج ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیعہ کے یہاں ثقاہت و صداقت کا معیار یہی ہے کہ راوی کس حد تک شیعہ مذہب کا حامی اہل بیت کا محب اور ان کے اعداء سے کہاں تک بغض و عناد رکھتا ہے۔ہم قبل ازیں ان کی معتبر کتاب الکافی سے چند روایات نقل کر چکے ہیں جن میں انہوں نے قرآن کی صحت کو مشتبہ قرار دیا ہے۔ بنا بریں اس میں مزید جھگڑے و نزاع کی کوئی گنجائش نہیں۔
جب مسلمان ہسپانیہ میں برسر اقتدار تھے تو وہاں کے پادری[بوقت مناظرہ] امام ابن حزم رحمہ اللہ کے خلاف شیعہ کے اس قول سے احتجاج کیا کرتے تھے کہ قرآن محرف ہوچکا ہے ان کی تردید میں امام موصوف رحمہ اللہ مجبوراً فرماتے:
((وَاَمَّا قَوْلُہُمْ فِیْ دَعْوَی الرَّوَافِضِ بِتَبْدِیْلِ الْقُرْآنِ فَاِنَّ الرَّوَافِضَ لَیْسُوْا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ)) (کتاب الفصل :۲؍ ۷۸)
’’ عیسائیوں کا رافضی دعوی کا متعلق یہ کہنا کہ قرآن تبدیل ہوگیاہے ‘ تو بیشک رافضی مسلمان نہیں ہیں ۔‘‘
احمد بن سلیمان تستری رحمہ اللہ مشہور محدث ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:
’’جب کسی شخص کو اصحاب رسول رضی اللہ عنہم کی توہین کرتے دیکھو تو جان لو کہ وہ زندیق ہے، اس لیے کہ ہمارے نزدیک رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم حق ہیں ۔ قرآن حق ہے۔ قرآن اور احادیث نبویہ ہم تک صحابہ رضی اللہ عنہم کے ذریعہ پہنچیں ۔ صحابہ کی تنقیص شان سے شیعہ کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے گواہوں کو مجروح کر کے کتاب و سنت کو ناکارہ کر دیں ۔ حالانکہ زندیق ہونے کی حیثیت سے وہ اس امر کے زیادہ اہل ہیں کہ ان کو مجروح قرار دیا جائے۔‘‘
شیعہ کے نزدیک دین اسلام نجات کے لیے کافی نہیں :
اہل اسلام اور شیعہ کے مابین ایک اور فرق یہ ہے کہ شیعہ کے نزدیک دین اسلام سعادت دنیوی و اخروی کے حصول کے لیے کافی نہیں ، ان کا دعویٰ ہے کہ امت اسلامیہ ائمہ معصومین کی اطاعت کے بغیر قاصر رہے گی اور اس کا استحکام و استقلال اس کے بغیر ممکن نہیں ، اہل اسلام کے نزدیک حق کا مقام کہیں اس سے زیادہ بلند ہے کہ اسے اطاعت ائمہ کا محتاج قرار دیا جائے، مزید برآں یہ احترام مومن کے بھی خلاف ہے، اﷲ تعالیٰ نے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم کی یہ آیت نازل فرمائی، ارشاد ہوتا ہے:
﴿ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا﴾ (المائدۃ:۳)
’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، اپنی نعمت پوری کر دی اور اسلام کو ایک دین کی حیثیت سے تمہارے لیے پسند کر لیا ۔‘‘
خلاصہ کلام! دین اسلام قرآن کریم اور صحیح احادیث نبویہ کی موجودگی میں وہ مرشد وحید اور ہادی کامل ہے جس کے ہوتے ہوئے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد امت مسلمہ کو کسی امام معصوم کی ضرورت نہیں ۔ اس امت راشدہ میں اسی کا نام سنت ہے۔ اسی بنا پر تاریخ کے مختلف ادوار میں مسلمانوں کو اہل السنۃ کے نام سے یاد کیا جاتا رہا۔ اس کے عین برعکس امت مسلمہ کو ناقص قرار دینے والے جن کا دعویٰ ہے کہ ائمہ معصومین کی اطاعت کے بغیر اسلام انسانی فلاح و نجات کے لیے کافی نہیں ۔ تاریخ میں امامیہ کے لقب سے مشہور ہوئے۔یہ حقیقت ہے کہ ائمہ شیعہ میں سے امامت نافذہ صرف ایک ہی امام (حضرت علی رضی اللہ عنہ ) کے حصہ میں آئی۔ وہ بھی اپنے خطبات و رسائل میں شیعہ کے گلہ گزار رہے اور ہمیشہ ان سے اظہار بیزاری کرتے رہے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قائم مقام (امام حسن رضی اللہ عنہ ) نے جو دوسرے امام معصوم تھے۔
’’عام الجماعۃ ‘‘ والے سال امام المسلمین (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ) کی بیعت کر لی۔ مگر شیعہ برابر مخالفت کرتے رہے، اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ شیعہ ان کے امام معصوم ہونے کے عقیدہ سے منحرف ہوگئے تھے، دوسری وجہ یہ ہے، کہ دانستہ ان کی اطاعت و اتباع سے گریز کرنا چاہتے تھے۔ جب یہ بے کار قسم کی امامت گیارہویں امام کے لاولد فوت ہونے سے ختم ہوگئی، تو اب کوئی امام باقی نہ رہا۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ امامیہ کا اس لقب سے ملقب رہنا محال تھا۔ اب انہوں نے بن باپ اور بے اولاد امام کا عقیدہ گھڑ لیا۔ یہ واقعہ کتاب ہذا میں آئے گا۔ شیعہ عہد ماضی کے فرضی معبودوں کی طرح اسے زندہ تصور کرتے ہیں ، اسلام کو امت مسلمہ کے لیے ناکافی قرار دینا اس امر کا واضح اعتراف ہے کہ اسلام ناقص مذہب ہے اور اہل اسلام نجات سے قاصر ہیں ۔ ابن المطہر کی کتاب کا موضوع صرف ان اعتراضات کا ازالہ ہے جو اس بیہودہ عقیدہ پر وارد ہوتے ہیں ۔ 
صفحہ 5 از 7