مقدمہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مقدمہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 7
اس کے عین بر خلاف شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی تصنیف لطیف میں یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اسلام دین کامل ہے۔ اہل اسلام مستحق رشد و فلاح ہیں ۔ اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ائمہ معصومین کی اطاعت سے بے نیاز ہیں ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ سورہ مائدہ کی تیسری آیت میں اﷲ تعالیٰ نے دین اسلام کو کامل اور نوع انسانی کی نجات کے لیے کفایت کنندہ قرار دیا ہے، مزید برآں مسلمانوں کے امام دوسرے مسلمانوں کے برابر ہیں ، اور انہی کی طرح شرعی احکام و اوامر کے مکلف و مامور ہیں ، اہل اسلام پر ائمہ کی اطاعت صرف نیک اعمال کی حد تک ضروری ہے اس لیے کہ خالق کی نافرمانی کر کے کسی مخلوق کی اطاعت نہیں کی جا سکتی۔

انکار اجماع اور شیعہ:

اہل اسلام اور شیعہ میں ایک نمایاں فرق یہ بھی ہے کہ شیعہ دین اسلام کو ایک اجتماعی دین تسلیم نہیں کرتے علاوہ ازیں شیعہ کے یہاں غیر منصوص شرعی احکام میں مسلمانوں کا اجماع حجت نہیں ، بخلاف ازیں اہل السنۃ والجماعۃ کے تشریعی نظام میں یہ امر مسلم ہے کہ فقہ و تشریع میں مہارت رکھنے والے علماء کا اجماع اﷲ و رسول کے دین میں ایک شرعی دلیل کی حیثیت رکھتا ہے، امام حاکم اور دیگر محدثین نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت بیان کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( لَا یَجْمَعُ اللّٰہُ اُمَّتِیْ عَلَی الضَّلَالَۃِ )) [سنن ترمذی۔ کتاب الفتن ، باب ما جاء فی لزوم الجماعۃ(حدیث:۲۱۶۷)]

’’ اﷲ تعالیٰ میری امت کو ضلالت پر جمع نہیں کرے گا۔‘‘

حجیت اجماع کے دلائل:

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( یَدُ اللّٰہِ عَلَی الْجَمَاعَۃِ ))۔
’’ اﷲکی تائید جماعت کے شامل حال ہوتی ہے۔‘‘
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جو شخص مسلمانوں کی جماعت سے ایک بالشت بھر الگ ہوا تو اس نے اسلام کا جؤا اپنی گردن سے اتار پھینکا یہاں تک کہ اس کی طرف لوٹ آئے۔‘‘[مسند احمد(۴؍۱۳۰) سنن ترمذی ، کتاب الامثال، باب ما جاء فی مثل الصلاۃ والصیام، (ح:۲۸۶۳) بھذا اللفظ، سنن ابی داؤد۔ کتاب السنۃ۔ باب فی الخوارج(ح۴۸۵۸) مختصرًا عن ابی ذر رضی اللّٰہ۔ ]
سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
(( عَلَیْکُمْ بِالسَّوَادِ الْاَعْظَمِ وَمَنْ شَذَّ شُذَّ فِی النَّارِ )) [سنن ابن ماجۃ۔ کتاب الفتن، باب السواد الاعظم(حدیث:۳۹۵۰) مختصرًا و سندہ ضعیف جداً اس کی سند میں معان بن رفاعۃ، لین الحدیث اور ابوخلف الاعمی متروک راوی ہے۔ مستدرک حاکم(۱؍۱۱۵) من طریق آخر و سندہ ضعیف ایضاً]
’’سواد اعظم سے وابستہ رہیے جو الگ ہوا تو اسے تنہا دوزخ میں ڈالا جائے گا۔‘‘
احادیث نبویہ کے علاوہ قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے، کہ اﷲ تعالیٰ نے ’’ سبیل المؤمنین ‘‘ کو اﷲ و رسول کی اطاعت کے ساتھ مقرون و متصل قرار دیا ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
﴿ وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ وَسَآئَ تَْ مَصِیْرًا ﴾ [النساء:۱۱]
’’جو شخص ہدایت واضح ہونے کے بعد رسول کی مخالفت کرتا اور مومنوں کے علاوہ دوسری راہ پر چل دیتا ہے تو جدھر کا رخ کرتا ہے، ہم اسے اسی جانب پھیر دیتے ہیں اور ہم اسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔‘‘
صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے رو گردانی ہی جہنم لے جانے کیلئے کافی تھی؛تاہم مذکورہ بالا آیت میں مومنوں کی اختیار کردہ راہ کے سوا دوسرے راستوں کی جانب میلان و رجحان کو بھی دخول جہنم کا باعث قرار دیا۔ جس سے مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ ’’اﷲاور رسول کی اطاعت اور سبیل المؤمنین ‘‘ باہم لازم و ملزوم اور ایک دوسرے کا اٹوٹ اننگ ہیں ۔دوسری جگہ ارشاد ہوا:
﴿کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ﴾
[آل عمران۱۰۰]
’’تم بہترین جماعت ہو جسے لوگوں کے فائدہ کیلئے ظاہر کیا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہو۔‘‘
آیت کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان بہ حیثیت مجموعی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے ہیں ، جس کا لازمی نتیجہ ہے کہ وہ ضلالت پر جمع نہ ہوں گے اور صرف ایسی چیز کو واجب یا حرام قرار دیں گے جس کے وجوب و حرمت کا فتویٰ اﷲ و رسول نے صادر کیا ہو، یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ وہ بحیثیت مجموعی حق گوئی سے سکوت اختیار کریں جب کہ وہ شرعاً امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مکلف و مامور ہیں ، یہ صریح نص قرآنی کے خلاف ہے۔
مذکورہ بالا دلائل اور دیگر لا تعداد براہین و دلائل کی بنا پر مسلمان دین اسلام کو ایک اجتماعی دین قرار دیتے چلے آئے ہیں اور اسی بنا پر ان کو ’’ اہل السنۃ والجماعۃ ‘‘ کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے بایں ہمہ شیعہ اجماع امت کو تسلیم نہیں کرتے، امت مسلمہ ان کی نگاہ میں ایک منتشر جماعت ہے جس میں کوئی شیرازہ بندی نہیں ، اور اس کے قیام و بگاڑ کے لیے نبی کے سوا کسی غیر معصوم امام کا وجود از بس ناگزیر ہے۔

شیعہ کا قبلہ و کعبہ:

ہمارے اور شیعہ کے مابین آخری نقطہ فرق و اختلاف یہ ہے کہ مسلمان جب عبادت بجا لانے کے لیے بارگاہ ایزدی میں حاضر ہوتے یا دعا کرتے وقت اس کے حضور عجز و نیاز کرتے ہیں تو صرف ایک ہی کعبہ کی جانب متوجہ ہوتے ہیں ، مگر شیعہ خانہ کعبہ کے ساتھ دوسرے کعبہ جات کو بھی شریک کرتے ہیں ۔شیعہ کا ایک کعبہ مغیرہ بن شعبہ کی قبر ہے جو نجف کے مقام میں واقع ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں شہادت پائی اور وہیں مسجد کوفہ اور قصر کے مابین مدفون ہوئے۔
عرصہ دراز کے بعد شیعہ نے یہ دعویٰ کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بمقام نجف مغیرہ کی قبر میں مدفون ہیں ۔ شیعہ نے اس قبر کو کعبہ کی حیثیت دے رکھی ہے۔ اسکا اصلی اندازہ وہی شخص کر سکتا ہے جو وہاں جاکر بہ چشم خود شیعہ کی حرکات کا ملاحظہ کرے، شیعہ کا دوسرا کعبہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی من گھڑت قبر ہے، جو بقول شیعہ کربلا میں واقع ہے۔ملاحظہ کریں ایک شیعہ شاعر وہ کہتا ہے: ؎
صفحہ 6 از 7