خاتمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

خاتمہ

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 3

٭ جب آپ نے دیکھا کہ یہ کوفی آپ کی جان لے کر ہی رہیں گے اور آپ کو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ ان کے آنے والے سب خطوط جھوٹے اور جعلی تھے، تو آپ صلح اور مفاہمت پر آمادہ ہو گئے اور ان کے سامنے تین تجاویز رکھ دیں، جن کو گزشتہ میں ذکر کر دیا ہے۔ لیکن ان سبائیوں نے تینوں تجاویز کو رد کر دیا۔

٭ کوفی سبائیوں کا ان تجاویز کو رد کرنا اور عمر بن سعد کی رائے کو بھی قبول نہ کرنا، جو آپ کی تائید میں تھا۔ ان کوفیوں کے ارادوں اور نیتوں کو واضح کرتا ہے کہ وہ صرف آپ کو قتل ہی کرنا چاہتے تھے، تاکہ سنت کے ایک زبردست حامی و ناصر کی آواز کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے اور امت کی وحدت کو انتشار و خلفشار کی آگ میں پھینک دیا جائے اور بعد میں انہی پاکیزہ خونوں کو امت کی صفوں میں فتنوں کے پھیلانے میں استعمال کریں گے۔

ابن مرجانہ کو جب عمر بن سعد کی رائے پہنچی کہ وہ صلح پر آمادہ ہے، تو ابن مرجانہ فارسیہ بھی اس کے لیے تیار ہو گیا۔ لیکن افسوس کہ کوفیوں نے اسے ایسا کرنے نہ دیا اور شمر بن ذی الجوشن رافضی نے اسے ڈرایا کہ آگے چل کر یہی حسین تیری حکومت کے کمزور کرنے اور گرانے کا سبب بنے گا۔ آج قابو میں ہے اس لیے ان کا قصہ ابھی نمٹا دو اور بالآخر اسے آمادہ کر لیا کہ وہ جناب حسین کی کسی رائے کو قبول نہ کرے۔ ابن مرجانہ فارسیہ نے ان کی بات مان کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے اس بات کا مطالبہ کر دیا کہ آپ صرف اس کے حکم پر اتریں۔ یوں ابن مرجانہ نے کوفیوں کی دلی مراد پوری کر ڈالی۔

٭ ابن مرجانہ کا مطالبہ ظلم اور یزید کی تاکید کے خلاف تھا۔ جبکہ اس میں صرف رافضیوں کی خوشی کا سامان  تھا۔ اسی لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ والی کوفہ کے حکم کو ردّ کرنے میں حق بجانب تھے۔ کیونکہ ابن مرجانہ کا حکم مجہول تھا، نہ جانے وہ کرنا کیا چاہتا تھا۔ اس لیے اس پر اعتبار نہ تھا کیونکہ وہ اصحاب رسول پر بے حد جری تھا۔ اس نے اہل کوفہ سے صرف اہل اسلام کی خون ریزی ہی سیکھی تھی۔

٭ ابن مرجانہ کی بات کو رد ہوتے دیکھ کر کوفی قتال پر اتر آئے۔ یہ دیکھ کر جناب حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں ان کے لکھے خطوط کا واسطہ دیا۔ لیکن وہ صاف مکر گئے کہ ہم میں سے کسی نے وہ خطوط نہیں لکھے۔ جس سے ان کا یہ بھیانک منصوبہ کھل کر سامنے آ گیا کہ دراصل یہ ائمہ سنت نبویہ کا خون پینا چاہتے ہیں۔ ان کا مشن ان کو مشکوک بنانا اور ان کے خلاف نفرتوں کو پھیلانا ہے۔

٭ جب قتال شروع ہو گیا، تو جناب حسین رضی اللہ عنہ پر اپنا اور اپنے اہل بیت کا اور دیگر ہمراہیوں کا دفاع کرنا واجب ہو گیا تھا۔ اس قتال کے نتیجے میں یہ حضرات شہید ہوئے۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بھائی، بھتیجے اور خود اپنی اولاد سوائے علی اصغر بن حسین بن علی زین العابدین کے، جو بیمار تھے۔ عمر بن سعد نے ان کے قتل سے تعرض کرنے سے منع کیا تھا۔ اسی طرح آل بیت کی خواتین سے بھی گریز کرنے کی تاکید کی تھی۔

٭ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہ نوجوان شہید ہوئے، جن کے نام حضرات خلفائے راشدین کے ناموں پر تھے، جن کی تفصیل گزشہ میں ذکر کی جا چکی ہے، لیکن یہ اعدائے صحابہ ان کے ناموں کو چھپاتے ہیں، تاکہ امت مسلمہ کو ان حضرات کی باہمی محبت و عقیدت کی خبر نہ ہو سکے۔ جو ائمہ اہل بیت اور حضرات خلفائے راشدین کے درمیان مضبوطی کے ساتھ قائم تھی تاکہ امت مسلمہ کو گمراہ کر کے ان میں فتنوں کو ہوا دے سکیں ۔

٭ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے بعد کوفی سبائی رافضی سر قلم کر کے ابن مرجانہ فارسیہ کے پاس لے گئے، اس بدبخت فاسق نے اپنے ہاتھ میں پکڑی چھڑی کو آپ کے چہرۂ مبارک کو مارنا شروع کیا۔ جس پر اس مجلس میں موجود حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسی سختی کے ساتھ جھڑکا اور جتلایا کہ جناب رسول اللہﷺ کو ان سے بے حد محبت تھی اور جہاں تم اپنی چھڑی مار رہے ہو، اس جگہ کو نبی کریمﷺ چوما کرتے تھے۔

٭ یہ قول باطل ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کے ساتھ یزید نے بھی ایسا ہی کیا تھا، جیسا کہ ابن مرجانہ فارسیہ نے کیا تھا۔ یہ اعدائے صحابہ کی اکاذیب میں سے ہے، جن کو یہ کم عقلوں اور کرم خوردہ فہم کے مالک لوگوں کو سناتے ہیں۔ کیونکہ اس روایت میں جن صحابہ کا نام لیا جاتا ہے، وہ تو اس وقت کوفہ میں تھے ناکہ شام میں۔

٭ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے سر کے مختلف شہروں میں دفن ہونے کی بابت اقوال غیر صحیح ہیں، جن کی تفصیل گزشتہ میں ذکر کی جا چکی ہے۔ ان روایات کو رافضیوں نے اپنے باطنی مقاصد کے حصول کے لیے شائع کیا ہے۔ تاکہ جا بجا مشاہد و مزارات قائم کر کے مساجد کی اہمیت کو گھٹایا جا سکے۔ تاکہ وہ مشاہد و مزارات ان کی قوت کے اظہار کے اڈے اور ان کے منبر حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم پر سب و شتم کرنے کے تھڑے بن سکیں اور جہاں کہیں انہیں ذرا قوت حاصل ہو وہاں خوب کھل کر دشنام طرازی کا بازار گرم کیا جا سکے۔

٭ آل بیت حسین رضی اللہ عنہ کی خواتین کی بے حرمتی کی بابت مروی جملہ روایات باطل، بے سند اور بے اصل ہیں جو صحیح روایات کے متناقض ہیں۔

٭ کسی صحیح روایت سے یہ ثابت نہیں کہ یزید کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل ہو جانے کی خبر بھی تھی، چہ جائیکہ وہ اس بات کا حکم بھی دیتا، اور قتل حسین کی خبر سن کر اس کے خوش ہونے کی روایت بھی بے، اصل و بے سند ہے۔ دراصل ان روایات کی آڑ میں یہ اعدائے صحابہ اپنے دل کے سرور کا اظہار کرتے ہیں، تحقیقی بات یہ ہے کہ قتل حسین کی خبر سن کر یزید اور اس کے اہل خانہ مارے غم کے رونے لگے تھے۔

٭ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا قتل جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی وصایا اور احکام کی کھلی خلاف ورزی تھی اور اس میں خود دولت اسلامیہ کی مصلحت بھی نہ تھی۔ لیکن اعدائے صحابہ نے یہ قتل کیا تاکہ دولت اسلامیہ میں انتشار پھیلے اور بنو امیہ طعن کی زَد میں آ جائیں، تاکہ امت ان پروپیگنڈوں میں لگ کر اصل قاتلوں سے بے پروا ہو جائے۔

صفحہ 2 از 3