خاتمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

خاتمہ

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 3 از 3

٭ صحیح روایات بتلاتی ہیں کہ یزید نے آل بیت حسین کی خواتین کا بے حد اکرام و اعزاز کیا، ان کی غم گساری و دلداری کی۔ یزید نے اس حادثہ فاجعہ کی بابت اپنی بے علمی کا عذر پیش کیا، جس کو آل بیت حسین نے قبول کیا۔

٭ یزید سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی ذریت کا بے حد اکرام اور رعایت کرتا تھا۔ بالخصوص امام زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہ کے اکرام میں بے حد مبالغہ کرتا اور ان کے احوال کی جستجو میں رہتا۔ ان کی ضروریات پوری کرتا، پھر امام زین العابدین نے بھی یزید کے ساتھ وفا کی اور کبھی اس کے خلاف نہ خروج کیا اور نہ خروج کرنے والوں کا ساتھ ہی دیا۔ حتیٰ کہ یزید کی وفات کے بعد بھی امام زین العابدین سے یزید کی مذمت کی بابت کوئی قول یا تحریر صحیح روایات میں منقول نہیں ملتی۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے قتل ہونے سے پہلے اس گناہ کا ذمہ دار غدار کوفیوں کو ٹھہرایا اور ان کے سامنے اس بات کو صراحت کے ساتھ ذکر بھی کیا۔ جیسا کہ امام زین العابدین ہمیشہ اہل کوفہ کو قتل حسین رضی اللہ عنہ کا ذمہ دار ٹھہراتے تھے۔ یہی رائے زینب بنت علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بھی تھی اور محمد بن حنفیہ بھی ہمیشہ کوفیوں کی گردن پر قتل حسین رضی اللہ عنہ کے خون کو تلاش کرتے تھے۔ جبکہ سادات اہل بیت جیسے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ، بھی کوفیوں کو ہی خون حسین کا اصل قاتل قرار دیتے تھے۔

٭ اہل بیت میں سے کسی سے بھی ثابت نہیں کہ انہوں نے یزید کو قتل حسین کا ذمہ دار کہا ہو اور یزید کی وفات تک اہل بیت میں سے کسی نے بھی یزید کے خلاف خروج نہ کیا تھا۔ اس باب میں جو کچھ بھی کہا جاتا ہے، وہ نرا باطل اور سراسر کذب ہے۔ جو اعدائے صحابہ کے اباطیل و اکاذیب میں سے ہے، جن کو یہ لوگ صرف حقائق کو بدلنے کے لیے دہراتے رہتے ہیں اور جن پر صرف مخبوط الحواس لوگ ہی کان دھرتے ہیں۔

دوسرے ان روایات کی آڑ میں مظلومیت کے عقیدہ کو فروغ دینا مقصود ہے، تاکہ اس گھناؤنے ترین جرم کے اصل مجرم بری رہیں۔

٭ شعائر حسینیہ کے نام سے کیے جانے والے افعال نری رسمیں ہیں، جن کی آڑ میں قاتلان حسین شبہات پیدا کر کے خود کو اس جرم سے بری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ رسوم ائمہ اہل بیت کے ادوار میں نہ تھیں، بلکہ بعد کے عہود میں ایجاد کی گئی ہیں اور یہ بھی معلوم رہے کہ نوحہ کرنا، سینہ کوبی کرنا، زنجیر زنی کرنا اور سیاہ لباس پہننا سب حرام ہے اور مکروہ ترین بدعت ہے۔

٭ شیعہ عاشوراء کے روزہ کا انکار کر کے اسے امویوں کی ایجاد قرار دیتے ہیں، حالانکہ اس روزہ کی سنت خود نبی کریمﷺ نے رکھی، کیونکہ اس دن سیّدنا موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات ملی تھی اور فرعون اپنے لشکروں سمیت غرق ہوا تھا۔

عاشوراء کے روزہ کا قتل حسین رضی اللہ عنہ کے واقعہ سے کوئی تعلق نہیں، جو تقدیر سے دس محرم کو پیش آ گیا تھا۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کی اولاد اور امت مسلمہ بہت پہلے سے عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے۔

٭ قتل حسین رضی اللہ عنہ کی منصوبہ بندی صرف رافضی کوفی سبائیوں نے کی تھی۔ اس لیے اس جرم کا گناہ صرف انہی کے سر ہے اور آج بھی یہ لوگ امت مسلمہ کے خون سے ہولی کھیلنے کے جرم کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔ امت مسلمہ کا امن، سلامتی اور وحدت انہیں نہ کل بھائی تھی اور نہ آج بھاتی ہے۔

٭ شیعہ مقبروں اور زیارت گاہوں کے بنانے کو جائز سمجھتے ہیں، حالانکہ نبی کریمﷺ نے ان کاموں سے منع فرمایا ہے۔

گزشتہ مذکورہ تمام معلومات کی روشنی میں اس بات کی ازحد ضرورت ہے کہ امت مسلمہ اپنا علم صحیح کرے اور ایک بھرپور علمی تحریک چلائی جائے، جس میں جملہ صلحاء اور مخلصین بھرپور شرکت کریں اور اپنی اپنی وسعت کے بقدر اس تحریک میں اپنی صلاحیتیں خرچ کریں۔ ضرورت ہے توحید و وحدت امت پر غیر کھانے والے مسلمانوں کی جن کو آل بیت رسول اور حضرات صحابہ کرام پر بے حد غیرت ہو کہ وہ آگے بڑھیں اور ایک بنیادی سیاسی ڈھانچہ تشکیل دیں، جس کے ارکان و اساطین قرآن و سنت کی بنیادوں پر کھڑے ہوں۔ ان قواعد و ضوابط میں امت کے اسلاف کی سیرت اور تجربات کا نچوڑ ہو اور ایک ایسا مضبوط معاشرہ تشکیل دیا جائے جو حال کو دیکھ کر چلے اور اس کی نگاہ مستقبل پر بھی ہو اور جو لوگ امت مسلمہ کے وجود، اس کے عقیدہ و مذہب اور عبادت و افعال سے کھلواڑ کرنا چاہیں، ان کے سامنے سد سکندری بن کر کھڑا ہو۔ یہ معاشرہ ایک ایسا حتمی موقف اختیار کرے، جو اسلامی معاشرے کے امن اور سلامتی کا ضامن ہو، اس میں کتاب و سنت کا عقیدہ محفوظ اور ارتداد و قبائلی عصبیت نابود ہو۔ اس میں آنے والی نسلوں کا تحفظ یقینی ہو اور اس معاشرے کے گرد حزم و احتیاط کی ایسی باڑ لگی ہو، جو ان کی الفت و محبت، اتفاق و اتحاد، تعاون و تناصر، تناصح و تضحیہ اور راہ خدا میں خرچ کرنے کی بنیادی صفات کی بیرونی بد عقیدگیوں اور سازشوں کی یورش سے حفاظت کرے۔

اخیر میں رب ذوالجلال کے اسماء حسنیٰ کے طفیل اس بات کی دعا ہے کہ رب تعالیٰ ہماری اس کاوش کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور اسے خالص اپنی ذات کے لیے بنا لے اور اسے سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کی نصرت و حمایت کا قوی ذریعہ بنائے اور ہر مظلوم کی داد رسی کا سبب بنائے۔ ہم امت مسلمہ کے نوجوانوں کو اس بات کی بھرپور دعوت دیتے ہیں کہ وہ اخوت، وحدت، فراست، کتاب و سنت پر اعتماد، اسلافِ امت پر اعتقاد اور ان سے محبت و ولاء کے اسباب کو مضبوطی سے تھامیں اور کتاب و سنت اور اسلاف بالخصوص حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور آل بیت رسولﷺ کے دشمنوں سے ازحد بچیں۔

میں اپنی ہر خطا، بھول چوک، لغزش، کمی کوتاہی اور نادانی کی رب تعالیٰ سے معاف مانگتا ہوں۔

وَ آخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَ صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ وَّ آلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔


صفحہ 3 از 3