خاتمہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

خاتمہ

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 1 از 7

خاتمہ:

 میرے مسلمان بھائی! اثناء عشریہ امامیہ شیعہ کے عقائد کی معرفت کے اس مختصر سے سفر کے بعد یہ یقین کر لیں کہ ہمارے اور کتاب و سنت کے مخالف فرقوں کے درمیان موافقت اسی صورت میں ہو سکتی جب اس شرعی اصول پر عمل کیا جائے جسے مندرجہ ذیل آیت مبارکہ بیان کر رہی ہیں،

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: 

قُلۡ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ تَعَالَوۡا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۢ بَيۡنَـنَا وَبَيۡنَكُمۡ اَلَّا نَعۡبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشۡرِكَ بِهٖ شَيۡئًا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ‌ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُوۡلُوا اشۡهَدُوۡا بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ۞

(سورۃ آلِ عمران: آیت 64)

ترجمہ: آپ کہہ دیجیئے کہ اے اہلِ کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں اور نہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں، پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں۔ 

یہ اصول اللہ تعالیٰ کی توحید پر عمل اور اس سے شرک کرنے سے بے زاری ہے، حکم لگانے اور قانون سازی میں اس کی اطاعت گزاری ہے اور خاتم الانبیاء و المرسلینﷺ کی اتباع ہے۔ تو واجب و لازم ہے کہ یہی آیت مبارکہ پر مجادلے و مباحثے میں شعار ہو اور ہر دو کوشش جو اس اصولِ قاعدے کہ علاوہ کسی دوسرے مقاصد کے حصول کے لیے ہو تو وہ باطل ہے باطل ہے باطل ہے۔

(الإبطال لنظرية الخلط بين دين الإسلام وغيره من الأديان: صفحہ، 29 للشيخ بكر أبو زيدؒ رحمه الله)

آج کل کے شیعہ علماء یہ گمان اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے اور یہ دعوت دیتے ہیں کہ مسلمان ان کی کتابوں کی طرف رجوع کر لیں۔ تو اب سوچنے کی بات ہے کہ مسلمان کسی طرح کتب شیعہ سے حجت پکڑ سکتے ہیں اور کس طرح ان پر اعتماد و بھروسہ کر سکتے ہیں جن میں کتابُ اللہ پر تواتر کے ساتھ طعن موجود ہے کہ وہ ناقص اور محرف ہے؟ میں اور مسلمان کس طرح شیعہ کے ساتھ اس کتابُ اللہ کے معاملے میں اکٹھے ہو سکتے ہیں جب کہ ان کی من مانی اور ان کی باطنی تفاسیر بھی موجود ہیں، پھر مسلمان ان شیعہ کے ان دعوؤں پر کس طرح ایمان لا سکتے ہیں جن میں وہ قرآنِ مجید کے بعد اپنے ائمہ پر دیگر آسمانی کتب کے نازل ہونے کے بھی دعویدار ہیں۔ سنت کے معاملے میں مسلمان شیعہ کے ساتھ کس طرح متفق ہو سکتے ہیں، جبکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے بارہ ائمہ کے اقوال اللہ اور اس کے رسولﷺ کے فرامین کے ہم پلہ و درجہ ہیں اور بے شک رسولﷺ‎ نے شریعت کا ایک حصہ چھپا کر اسے ائمہ کے سپرد کر دیا ہے، وہ خطوط کی حکایات پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر ان پر اپنے دین کی عمارات تعمیر کرتے ہیں، وہ کذابوں اور دجالوں کی روایات کو قبول کرتے ہیں، جب کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے بعد خیار خلائق یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں زبان طعن دراز کرتے ہیں۔

مسلمان، شیعہ کے ساتھ کسی طرح اکٹھے ہو سکتے ہیں، جب کہ وہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا امہات المومنینؓ پر جو کہ رسول رب العالمینﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ ہیں زنا کی تہمت لگاتے ہیں۔ مسلمان، شیعہ کے ساتھ کس طرح ایک جگہ اکٹھے ہو سکتے ہیں جبکہ وہ اجماع کا انکار کرتے اور دانستہ مسلمانوں کی مخالفت پر کمر بستہ ہوئے ہیں کیونکہ ان کے اعتقاد کے مطابق راہِ ہدایت مسلمانوں کی مخالفت میں ہے۔ مسلمان شیعہ کے ساتھ کسی طرح جمع ہو سکتے ہیں جبکہ وہ تمام مسلمانوں کو کافر ٹھہراتے، ان میں سے سرِفہرست رسول اللہﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اور پھر رسول اللہﷺ کی بیشتر ازواجِ مطہراتؓ کو بھی کافر قرار دیتے ہیں۔

(مسألة التقريب بين أهل السنة والشيعة، لشيخنا ناصر القفازی: جلد، 1 صفحہ، 357 ح، 390 بتصرف)

 مسلمان، شیعہ کے ساتھ کسی طرح جمع ہو سکتے ہیں جبکہ وہ یہ کہتے ہیں جیسا کہ پہلے گزرا ہے بلاشبہ ہم ان یعنی اہلِ سنت کے ساتھ ایک معبود پر جمع نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ایک نبی پر اور نہ ہی ایک امام پر۔ اور وہ یہ بھی کہتے ہیں: بلاشبہ ان کا رب تو وہ ہے جس کا محمد نبی ہے اور اس کے بعد ابوبکرؓ اس کا خلیفہ ہے، اور ہم اس رب کی بات نہیں کرتے اور نہ ہی اس نبی کی بات کرتے ہیں بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں بلاشبہ وہ رب جس کے نبی کا خلیفہ ابوبکرؓ ہے وہ ہمارا رب نہیں ہے اور نہ ہی وہ نبی ہمارا نبی ہے۔ 

(الأنوار النعمانية النعمة الله الجزائری، جلد، 2 صفحہ، 278، 279 كشف الاسرار: صفحہ، 123 الحديث الثانی فی الامامة) 

آج اہلِ سنت و الجماعت اپنے دشمنان اور بیمار دل فتنہ بازوں اور اسلام کی طرف منسوب لوگوں کی طرف سے جس پرفتن بیرونی یلغار کا مقابلہ کر رہے ہیں یہ ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ایک نئی بدعت کا حصول ہے جسے اہلِ سنت و اہلِ تشیع کے مابین قربت کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس بدعت کو شرعی پردہ کے سایہ میں لایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو شریعت کے نام پر دھوکہ دے سکیں۔ اس بدعت کی وجہ سے اہلِ سنت و الجماعت مسلمانوں کو بہت بڑا خسارہ اٹھانا پڑا ہے۔ اس عظیم نقصان کا اندازہ وہی انسان لگا سکتا ہے جس کو ان قبائل کا علم ہو جو کہ کامل طور پر شیعہ بن گئے۔ یہاں تک کہ اس دعوت کی وجہ سے عراق کی اہلِ سنت اکثریت شیعہ میں بدل گئی۔ اگر کوئی انسان حیدری عراقی کی کتاب "عنوان المجد"۔ 

صفحہ 1 از 7