خاتمہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

خاتمہ

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 2 از 7

(مؤرخ ابراہیم بن صبغۃ اللہ حیدری بغدادی کہتا ہے: عراق میں جن بڑے بڑے قبائل نے ابھی قریب ہی میں شیعیت و رافضیت قبول کی ہیں وہ بہت ہیں مثلاً: بغداد کی مشرقی جانب ربیعہ قبیلہ کے لوگ ہیں جو امارت سمیت ستر برس سے رافضی بن گئے ہیں، اور عراق کے بڑے قبیلوں میں بنو تمیم بھی شامل ہے، جو عراق کے گرد و نواح میں شیعہ شیطانوں کے آنے جانے کی بناء پر ساٹھ برس سے رافضی بن گئے، اور عراق کے بڑے قبیلوں میں رافضیت اختیار کرنے والوں میں الخزائل قبیلہ کے لوگ بھی شامل ہیں جو ڈیڑھ صدی قبل رافضی بنے تھے، اور رافضیت اختیار کرنے والے بڑے قبیلوں میں زید قبیلہ بھی شامل ہے جو بہت قبیلوں پر مشتمل ہے، اور ان کے ہاں شیعہ کے آنے جانے کی بناء پر رافضیت اختیار کرنے والوں میں بنو عمیر بھی شامل ہیں اور شمر طوکہ بھی جو بہت بڑی تعداد میں ہے، اسی طرح الدوار اور الدفاعہ اور آلِ محمد کا منطقہ امارت بھی جس کے افراد کی تعداد بے شمار ہے

اور بصرہ کے قریب بسنے والے انڈین خاندان بھی جن کی تعداد اللہ کے علاوہ کسی کے علم میں نہیں، اور بنی لام کا خاندان بھی بہت ساری شاخوں پر مشتمل ہے، اس طرح الدیوانیہ خاندان جو کہ پندرہ قبیلوں پر مشتمل ہیں، اور آلِ اقرع اور آلِ بدیر اور رنج اور انجو اور یہ اقرم کے سولہ قبائل ہیں ہر ایک قبیلہ کثیر تعداد پر مشتمل ہے، اور جبور کے چار قبیلے کثیر تعداد پر مشتمل ہیں، عراق میں سو برس یا اس سے کم عرصہ میں رافضیت اختیار کرنے والے بڑے قبیلوں میں کعب قبیلہ بھی شامل ہے، جس کی کئی شاخیں اور خاندان ہیں (دیکھیں: عنوان المجد فی بيان احوال بغداد والبصرة ونجد: صفحہ، 113، 118 طبع دار الحکمت طبع اول 1419ھ یہ مقالہ 1286ھ میں لکھا گیا تھا، مؤرخین نے اسے رافضیت کی نشاط اور لوگوں میں جہالت و فقر پھیلنے اور علماء و اہلِ سنت کی سستی کی طرف منصوب کیا ہے)

دیکھیئے تو اسے حقیقت کا پتہ چل جائے گا۔ اس نے ان عرب قبائل کا تذکرہ کیا ہے جو ان کے دھوکہ کا شکار ہو کر رافضی بن گئے مثلاً قبیلہ کعب، اور عمارہ، اور بنی لام، خزاعل وغیرہ قبائل، جو کوئی بھی اس حقیقت کو پڑھتا ہے وہ ان قبائل کے اہلِ سنت کی صفوں سے نکل کر شیعہ کی صفوف میں شامل ہونے کو حسرت ویاس کے ساتھ دیکھ کر کڑ کر رہ جاتا ہے، کہ کس طرح قبائل کے قبائل رافضیت اختیار کر رہے ہیں۔ ہمارے اس دور میں ایرانی انقلاب کے بعد شیعہ کے لشکر در لشکر دنیا کے مختلف علاقوں میں داخل ہو گئے ہیں۔ خصوصاً ان افریقی علاقوں میں جہاں پر جہالت اور تنگدستی جیسے عوامل پائے جاتے ہیں۔ تاکہ وہ ان لوگوں کو امداد کے نام پر اپنے گندے دھندے کا شکار بنائیں۔ چنانچہ جہالت اور غربت کے مارے ہوئے افراد و قبائل شیعیت کا شکار ہو رہے ہیں ، لا حول ولا قوۃ الا باللہ العزیز الحکیم۔

(التبشير بالتشيع: صفحہ، 28 للشيخ بكر أبو زيد رحمه الله)

شیعہ علماء تقریب یعنی قربت و اتحاد و محبت کے میٹھے نعروں میں زہر گھول کر لوگوں کو پلا رہے ہیں۔ اور وہ عالم اسلام میں شیعیت کی نشر و اشاعت کے لیے انتہائی گہری منصوبہ بندی کے ساتھ اپنے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کرایہ کے صحافی اور ذرائع ابلاغ بھی خرید رکھے ہیں جو کہ لوگوں کو گمراہ کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑتے۔ اس کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ اہلِ سنت و الجماعت کے علماء حق بیان کرنے میں سستی سے کام لے رہے ہیں۔ بہت سارے سنی حقیقتِ حال کا علم نہ ہونے کی وجہ سے بھی خاموش ہیں۔ اہلِ سنت و الجماعت کے ملکوں میں اور ان کی بڑی اکثریت کے مابین بیٹھ کر چند ایک شیعہ اتحاد و قربت اتفاق ویگانگت کے پر فریب نعرے لگا کر انہیں اپنے دجل و فریب کا شکار کر رہے ہیں۔ چنانچہ شیعہ علماء اور دوسرے لوگ اہلِ سنت کے ممالک میں ان ہی میٹھے مگر زہر یلے نعروں کی بدولت کھلے عام بڑی آسانی سے اپنی دعوت پھیلا رہے ہیں اور اپنی کتابیں نشر کر رہے ہیں، ٹی وی چینلوں اور اخبارات و رسائل اور میگزینوں میں رافضیت کی دعوت دیتے اور مختلف مجالس میں جہلاء فاسقین اور اہلِ دنیا کو بلا کر ان کی ضیافت کرتے ہیں اور انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جو لوگ ان کے فتنہ کا شکار ہو رہے ہیں اے کاش! کہ کوئی انہیں سمجھانے والا ہو یا پھر وہ خود ذرا تکلیف برداشت کر کے ان کی کتابوں کا مطالعہ کریں تو ان پر حقیقت واضح ہو جائے گی۔ کیا ایسے لوگ قرآن و سنت سے جہالت کے ساتھ ساتھ تاریخ سے بھی جاہل ہیں کہ انہیں شیعہ کے کرتوتوں کا کوئی علم نہیں کیا وہ کتاب و سنت کا مطالعہ نہیں کرتے؟ کیا وہ توحید نہیں پڑھتے، اگر تو وہ مخلص ہیں تو اس کا مطالعہ کر کے اس بدعت سے فورا ہٹ جائیں گے اور اہلِ سنت کا مسلک اختیار کرتے ہوئے حق کی طرف رجوع کر لیں گے، اور اگر وہ کچھ اور ہے تو پھر انہوں نے جو اپنے لیے آگے بھیجا ہے وہ بہت ہی برا اور غلط عمل ہے الخ۔

دعوت شیعیت کے خطرات:

1: اہلِ سنت و شیعہ کے مابین قربت و اتحاد کی دعوت کا اصل ہدف لوگوں میں رافضیت کو پھیلانا اور اس کے لیے ہر طرح سے راہیں ہموار کرتا ہے، کہ مسلمان رافضیت کا عقیدہ اختیار کرتے ہوئے باطنیت کے شکنجے میں جکڑ کر خالص اسلام سے ارتداد کی دلدل میں پھنس جائیں۔ 

2: اس تقریب و اتحاد و قربت کے نعرہ کے پروہ میں بعض غافل اہلِ سنت و الجماعت علمائے کرام سے فتاویٰ حاصل کر کے، اور ان کی مجالس میں شرکت کے ذریعہ رافضیت کی نشر و اشاعت کے لیے اپنے مقصد کے پنپنے میں استعمال کیا جائے اس طرح علمائے اہلِ سنت رافضیوں کے تقیہ اور دھوکہ کے لیے قربانی کا بکرا بن جائیں، تو حقیقت میں اہلِ سنت رافضیت اور شیعیت کو نشر کرنے کا باعث بن جائیں۔

3: شیعہ نوجوانوں کو اہلِ سنت و الجماعت کے مذہب کے مطالعہ و آگاہی سے دور رکھنے کے لیے خفیہ طور پر عملی میدان کو گرم رکھا جائے۔ اس لیے کہ شیعہ نوجوان جب بھی حق کو پہچان لیں گے اس کے قبول کرنے میں دیر نہیں کریں گے۔ 

4: اہلِ سنت و الجماعت کے خلاف کئی اعتبار سے اس رافضی یلغار کے چہرہ پر ایک پردہ ڈالا جائے تاکہ وہ اس کی حقیقت کو سمجھے بغیر اس کا شکار ہو جائیں اور ان کے لیے ایک تر نوالہ بن جائیں۔ 

صفحہ 2 از 7