خاتمہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

خاتمہ

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 3 از 7

(التبشير بالتشيع صفحہ 41 للشيخ العلامة بكر أبو زيد صفحہ، 11)

لہٰذا یہ شیعہ کی اتحاد کا نعرہ ایک ایسی چال اور فریب ہے جس کا مقصد صرف اور صرف رافضیت و شیعیت عام کرنا اور امتِ مسلمہ کو رافضی بنا کر دین اسلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے دور کرنا ہیں، اس لیے ہم پورے اطمنان اور صمیم قلب سے یہ عرض کریں گے کہ: شیعہ سنی تحاد کے اس نعرہ کی حقیقت طشت ازبام ہو چکی ہے، اور امتِ مسلمہ کے اتفاق و اتحاد و یگانگت کے لیے یہ نعرہ کوئی اچھی راہ نہیں اس طرح ان میں صلح نہیں ہو سکتی، بلکہ یہ تو رافضیت کی دعوت ہے جو مکر و فریب اور دھوکہ پر مبنی نعرہ ہے، کہ حق و باطل کو آپس میں قریب کر دیا جائے، تا کہ اہلِ سنت اس خطرناک فریب میں آ جائیں تو فتنوں کا دور دورہ شروع ہو اور اختلافات کی انتہائی گہری کھائی پڑ جائے تو اس وقت رافضیت و شیعیت کی جڑ ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر جائے۔ اس لیے اللہ کی قسم اللہ کے لیے یہ نعرہ لگانا اور اس کی دعوت دینا اور اس کی تائید کرنا اور اس کے لیے راہ ہموار کرنا حرام ہے، بلکہ اہلِ سنت کے علمائے کرام پر واجب اور ضروری ہے کہ وہ رافضیت کی حقیقیت سے مطلع ہو کر لوگوں کے سامنے اس کی حقیقت کو طشت از بام کریں، کہ رافضیت کا دین باطل و فاسد ہے، اور مسلمانوں کے ذہنوں سے ان کی یہ فکری یلغار ختم کریں اس ساری صورت حال کے پیش نظر اہلِ سنت و الجماعت علماء و اہلِ دین پر واجب ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے حق بات کو بیان کریں اور رافضیت کی حقیقت سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ حق اور باطل کو لوگوں کے سامنے واضح کریں۔

خدا کی قسم! شیعہ کے اس فریب میں آ کر ان کی دعوت قبول کرنا اور ان کا دین اختیار کرنا یا ان کی اس اتحاد و یگانگت کی دعوت کو آگے پھیلانا اور لوگوں میں عام کرنا حرام ہے۔ حکام اور اہلِ قوت و سطوت پر واجب ہوتا ہے کہ وہ اس اندھے سیلاب کے آگے ایک مضبوط بند باندھیں۔ اور اہلِ سنت و الجماعت نوجوانوں کو ان کے خطرات سے آگاہ کریں۔ اپنے اپنے علاقہ میں ان دعوت کو پھیلنے سے روکیں۔ اہلِ سنت و الجماعت مسلمانوں کے مذہبی حقوق کا خیال کرتے ہوئے انہیں ہر قسم کے فکری انحراف و پراگندگی سے بچانے کے لیے ہر انسان اپنی کوششیں بروئے کار لائے ۔ یقیناً یہ وقت کڑی آزمائش کا ہے۔ اور وہی انسان کامیاب و کامران ہے جو ثابت قدم رہے، اپنے علاقوں میں رافضیت کی دعوت نہ دینے دیں، اسلام تو بالکل صاف شفاف دین ہے اور یہ کتاب و سنت کا نام ہے، اس کے علاوہ کسی دوسری چیز کی دعوت نہ دین دینے دیں، بلکہ سنتِ نبویہﷺ‎ پر عمل کرتے ہوئے تفرقہ کے عذاب سے بچ کر رہیں، اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی اپنے نیک وصالح بندوں کا ولی ہے۔

(التبشير بالتشيع صفحہ، 91)

اہلِ بصیرت اور غیرت مند و دانش مند طبقہ کے لیے لمحہ فکر تو یہ ہے کہ وہ ایران جہاں کبھی مساجد سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوتی تھیں؟ اب ان مساجد کو امام باڑے بنا دیا گیا ہے۔ اور پورے ایران میں تقریباً بیس فیصد سے زیادہ اہلِ سنت و الجماعت آبادی کو ایک بھی مسجد بنانے کی اجازت نہیں۔ مگر بیرونِ ایران پیار و محبت اور اتحاد و یگانگت و یکجہتی کے پر فریب نعرے؟ ذرا اللہ کے لیے ضمیر سے پوچھ کر فیصلہ کرو کہ کیا یہ کھلم کھلا منافقت اور اہلِ سنت و الجماعت سے گہری دشمنی نہیں ہے؟ کیا اہلِ سنت اس کے باوجود بھی ان کے پر فریب نعروں کا شکار ہوتے رہیں گے؟ از مترجم) فتویٰ کی مستقل کمیٹی کے رئیس الشیخ عبدالعزیز بن بازؒ اور ممبران کمیٹی الشیخ عبد الرزاق عطیلیؒ و الشيخ عبدالله الغديانؒ نے فرمایا ہے: بلاشبہ درزیہ، نصیریہ، اسماعیلیہ، بابیہ اور بہائیہ میں سے جتنے بھی ان کے ہم خیال ہیں، سبہی نے دین کی نصوص سے کھیل کھیلے ہیں اور سبہی نے اپنے آپ کے لیے ایسی شریعتیں گھڑ لی ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے کوئی حکم نہیں دیا، بلکہ یہ تحریف و تبدیل دین کے معاملے میں یہود و نصاریٰ کی راہوں پر چلے ہیں، خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے اور اس فتنے کے بانی اول یعنی عبداللہ بن سبا الحمیری کی تقلید کرتے ہوئے، جو اس بدعت و ضلالت کا سردار اور مسلمانوں کی جماعت و وحدت میں پھوٹ ڈالنے والا ہے۔ اس کی شرارتیں اور خباثتیں عام ہوئیں جن کے باعث بے شمار جماعتیں فتنے کا شکار ہوگئی اور وہ اپنے اسلام کے بعد کافر بن گئیں، جس کے باعث مسلمانوں کے درمیان فرقہ بازی شروع ہو گئی لہٰذا ان فرقوں اور راست باز مسلمانوں کی جماعت کے درمیان باہمی تقارب کی دعوت غیر مفید ہے اور ان کے درمیان اور صادق صفات مسلمانوں کے درمیان راهِ درسم استوار کرنے کی کوشش ناکام کوشش ہے کیونکہ ان لوگوں کے دل کجی و الحاد اور کفر و ضلال میں اور مسلمانوں کے خلاف کینہ، حسد، بغض اور مکر رکھنے میں یہود و نصاریٰ کے بالکل مشابہ ہیں، اگرچہ ان کے جھگڑے اور گھاٹ الگ اقسام کے ہیں اور ان کے مقاصد اور ارادے ان سے مختلف ہیں ان کی حالت ایسی ہے جیسے یہود و نصاریٰ کی حالت مسلمانوں کے ساتھ اور اس وجہ سے بھی جو عالمی جنگِ عظیم دوم کے بعد مصری جامعہ ازہر کے شیوخ کی ایک جماعت نے ایرانی قمی رافضی کے ساتھ مل کر قدرے نام نہاد باہمی تقارب کے لیے سرتوڑ کوشش کی تھی اور صادقین علمائے کبار کی کچھ تعداد بھی جو پاکیزہ قلب تھے۔

(کمیٹی کے رئیس اور علماء کرام ان کے بارے میں یہی گمان رکھتے ہیں، اور اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کا تزکیہ نہیں کرتے)

اور زندگی کے دہچکوں سے ابھی تک بچے ہوئے تھے ان سے دھو کھا گئے، انہوں نے "مجلہ التقریب" نامی ایک رسالہ بھی شائع کرنا شروع کر دیا، پھر جلد ہی ان کے سامنے دھوکا دہی کے راز منکشف ہو گئے، باہمی قربت پیدا کرنے والا معاملہ اور کوشش ناکام ہو گئی اور اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ وہ مختلف، افکار و متصادم اور عقائد متناقض تھے اور خلافِ فطرت دو متضاد اشیاء/ چیزیں یکجا ہو بھی کیسے سکتی تھیں۔

(فتاوٰى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء الفتوىٰ نمبر: 7807 ، جلد، 2 صفحہ، 86 جمع الشيخ/ أحمد بن عبد الرزاق الدويش)

الشيخ عبد العزیز بن بازؒ سے دریافت کیا گیا

صفحہ 3 از 7