خاتمہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

خاتمہ

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 4 از 7

رافضیوں کی تاریخ کے متعلق آپ کی معلومات کے حوالے سے اہلِ سنت اور ان لوگوں کے درمیان باہمی قربت کے معاملے میں آپ کیا موقف رکھتے ہیں؟ 

جواب: رافضیوں اور اہلِ سنت کے درمیان باہمی اتحاد و قریب ہونا ناممکن ہے کیونکہ عقیدہ مختلف ہے، اہلِ سنت و الجماعت کا اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی عبادت کو اس کے لیے خالص رکھنے والا عقیدہ رکھتے ہیں، اور یہ کہ اس کے ساتھ کسی مقرب فرشتے کو بھی نہیں پکارا جائے گا، اور نہ ہی کسی بھیجے ہوئے پیغمبر کو اور علمِ غیب صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے کسی دوسرے کو نہیں۔ اہلِ سنت کے عقیدے میں یہ بھی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت ہو اور ان سے راضی رہا جائے، اس بات پر ایمان رکھا جائے کہ بلاشبہ وہ انبیاء علیہم السلام کے بعد اللہ تعالیٰ کی پوری مخلوق میں سے سب سے افضل ہیں اور بلا شبہ ان سب میں سے سیدنا ابوبکر الصدیقؓ افضل ہیں، پھر سیدنا عمرؓ، پھر سیدنا عثمانؓ، پھر سیدنا علیؓ ہے جبکہ رافضی ان کے خلاف ہیں، لہٰذا ان کے درمیان اتفاق و اتحاد ، پر ممکن نہیں ہے اس اختلاف عقیدہ کے پیش نظر جس کی ہم نے وضاحت کر دی پچس طرح کہ یہود و نصاریٰ اور بت پرستوں اور اہلِ سنت کے درمیان اتفاق ممکن نہیں ہے، بالکل اسی طرح رافضیوں اور اہلِ سنت کے درمیان بھی باہمی قربت ممکن نہیں ہے۔

کیا کسی بیرونی دشمن مثلاً کیمونسٹ وغیرہ کو قتل کرنے کے لیے ان سے باہمی معاملہ ممکن ہے؟

جواب: میں اسے بھی ممکن نہیں دیکھتا بلکہ اہلِ سنت پر یہ واجب ہے کہ وہ آپس میں متحد ہو جائیں اور امت واحدہ اور جسد واحد بن کر رہیں اور رافضہ کو بھی وہی دعوت پیش کریں کہ وہ ان کچی باتوں کو اختیار کر لیں جن کی کتابِ الہٰی اور سنتِ رسولﷺ رہنمائی کرتی ہیں، تو جب وہ ان کچی باتوں کو اپنے دامن میں سمولیں گے تو بلاشبہ وہ ہمارے بھائی بن جائیں گے تو ہمارے اوپر لازم ہو جائے گا کہ ہم باہم ایک دوسرے کی مدد کریں، لیکن جب تک وہ اسی عقیدے پر مصر رہیں گے جن پر وہ اب ہیں یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بغض، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سبِ و شتم ماسوائے ان میں سے چند ایک کے، صدیقؓ و عمرؓ کو سبِ و شتم اور عام اہلِ بیت مثلاً علیؓ، فاطمہؓ حسنؓ اور حسینؓ اور بارہ ائمہ کے متعلق ان کا عقیدہ کہ وہ سب معصوم ہیں اور بلاشبہ وہ غیب کا علم رکھتے ہیں، یہ سب باتیں باطلوں میں سے بڑی باطل ہیں اور یہ سب امور ان امور کے برعکس اور بر خلاف ہیں، جن پر اہلِ سنت و الجماعت قائم ہیں۔ 

(مجموع الفتاوىٰ سماحته رحمہ الله تعالىٰ جلد، 5 صفحہ، 130، 131)

علماء اور طلباء پر واجب و ضروری ہے کہ وہ سلف صالحین کے عقیدہ کی نشر و اشاعت کرتے ہوئے بتائیں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے، اسی طرح اہلِ بدعت بھی واضح کریں، اور رافضی مکر و فریب اور چالیس بھی طشت ازبام کریں، کہ وہ کیا کیا جھوٹ بول کر لوگوں کو اپنے جھانسے میں لانے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ان کے منحرف و گمراہ عقائد اور فاسد قسم کے اصول بھی لوگوں کے سامنے لائیں، اللہ تعالیٰ ہی سب کا حامی و ناصر ہے۔ امت مسلمہ پر اللہ رحم فرمائے جب تک اس میں ایک گروہ حق پر قائم رہے گا یہ امت گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی، اور یہ گروہ قیامت تک حق پر قائم رہے گا، جو اہلِ علم اور اہلِ قرآن اور ہدایت و بیان پر ہیں اور دین حنیف میں تحریف نہیں ہونے دے گا، جاہلوں کی تاویلوں اور باطل قسم کے افراد کے مکر و فریب سے محفوظ رکھے گا، اس لیے ہم اور سب مسلمانوں کا یہ حق ہے کہ وہ دین کا علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ وعظ و نصیحت بھی کریں، اور دین کا دفاع کریں۔ جس نے کسی کو بچنے کا کہا اس نے بشارت دی۔

(الابطال النظرية الخلط بين دين الاسلام وغيره من الاديان صفحہ، 11)

 اللہ تعالیٰ جسے سعادت دینا چاہتا ہے تو وہ اسے دوسروں سے عبرت حاصل کرنے کی فہم عطا کرتا ہے تو اس طرح وہ ایسی راہ چلنا شروع ہو جاتا ہے جو اللہ کی تائید و نصرت کی راہ ہوتی ہے، اور وہ ذلت و رسوائی کی راہ سے اجتناب کرنا شروع کر دیتا ہے۔

(مجموع الفتاوىٰ جلد، 35 صفحہ، 388 ابو ملیکہ کی دعا صحیح بخاری ح، 6220 باب الحوض صحيح مسلم: ح 2293 باب اثباب حوض نبيناﷺ‎ وصفاته)

(اے اللہ ہم اپنی ایڑیوں پر پلٹ جانے یا دین کے معاملہ میں فتنہ میں پڑ جانے سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں۔ ابو عامر عبداللہ بن بکیؒ بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا امیرِ معاویہؓ بن ابوسفیانؓ کے ساتھ حج کیا جب ہم مکہ پہنچے تو ظہر کی نماز ادا کر کے کھڑے ہوئے اور فرمایا: رسول کریمﷺ‎ نے فرمایا تھا: 

دونوں اہلِ کتاب اپنے دین میں بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور یہ امت تہتر فرقوں میں بٹے گی، سب کے سب جہنم میں جائیں گے، صرف ایک فرقہ بچے گا، اور وہ جماعت ہے، اور میری امت سے کچھ لوگ نکلیں گے جنہیں یہ خواہشات ایسے بھگائیں گی جیسے کتا اپنے ساتھی کے ساتھ بھاگتا ہے، یہ خواہشات اس کے جوڑ جوڑ اور رگوں میں رس جائیں گی، اے عرب کی جماعت اللہ کی قسم اگر تم اپنی نبی کے دین پر عمل نہیں کرو گے تو پھر تمہارے علاوہ دوسرے بدرجہ اولیٰ اس پر عمل نہیں کریں گے۔ 

(مجموع الفتاوىٰ: جلد، 28 صفحہ، 231)  

(مسند احمد: ح، 16979 ابو داؤد حدیث: 4597 باب شرح السنة، ابنِ تیمیہؒ اس حدیث کو محفوظ کہتے ہیں دیکھیں: اقتضاء الصراط المستقيم: جلد، 1 صفحہ، 122 اور ظلال الجنة فی تخريج السنة: جلد، 1 صفحہ، 28ذكر الاهواء المذمومة نستعصم الله تعالىٰ منها و نعوذبه من كل ما يوجب سخطه میں علامہ البانیؒ نے اسے صحیح قرار دیا ہے)

حضرت ابوسعید الخدریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ‎ نے خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا: أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِحَقِّ إِذَا عَلِمَهُ۔

ترجمہ: خبردار! کسی شخص کو لوگوں کی ہیبت اس حق کے بیان کرنے سے باز نہ رکھے جسے وہ جانتا ہے۔ راوی کہتا ہے تب سیدنا ابوسعیدؓ ہی رو پڑے اور فرمایا: 

قَدْ وَاللَّهِ رَأَيْنَا أَشْيَاءَ فَهِبْنَا۔

ترجمہ: بلاشبہ اللہ کی قسم! ہم نے ایسی چیزیں دیکھ لی ہیں پھر ہم ان سے ہیبت بھی پاتے ہیں۔

(ترمذی: ح، 2191)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: 

صفحہ 4 از 7