خاتمہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

خاتمہ

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 5 از 7

مَا ابْتَدَعَ قَوْمٌ بِدُعَةٌ إِلَّا نَزَعَ اللَّهُ عَنْهُمْ مِنَ السُّنَّةِ مِثْلَهَا۔

(سنن دارمی: من قول حسان: ح، 99)

ترجمہ: کسی بھی قوم نے کوئی بدعت اختیار نہیں کی مگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس کے برابر سنت واپس لے لی۔

 اور آپﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے: 

عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِ وَ سُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا، وَعَضُوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِدِ وَ إِيَّاكُمْ وَ مُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ۔

(ابو داؤد: ح، 4607)

ترجمہ: تم لازم پکڑو میری سنت کو اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدینؓ کی سنت کو مضبوطی سے تھام لو اور اپنیہ ڈاڑھوں میں دبا کر پکڑ لو، اور خاص طور پر بچ کر رہو تم نئے نئے کاموں سے بلاشبہ ہر نیا کام (دینِ اسلام میں) بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ اور شیخ الاسلام ابنِ تیمیہؒ نے ذکر کیا ہے: بے شک امت کو بدعتوں سے خبردار کرنا اور بدعت کی بات کہنے والوں سے آگاہ کرنا، مسلمانوں کے اتفاق کے ساتھ واجب ہے۔

میرے مسلمان بھائی: اگر آپ یہ سوال کریں کہ شیعہ سنی اتحاد کے دھوکہ پر مبنی نعرے کا دروازہ بند ہونے کے بعد امتِ مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کا طریقہ کیا ہوگا؟ کس طرح امتِ مسلمہ میں وحدت پیدا ہوگی، اور اختلافات کسی طرح ختم ہوں گے، اور آپس میں اخوت و بھائی چارہ کیسے قائم ہوگا؟ ہم ذیل میں شریعتِ اسلامیہ اور انبیاء علیہم السلام کی اساس اور خاتم النبین محمدﷺ‎ کا طریقہ بیان کرتے ہیں: 

اول: حقیقی اسلام اور عقیدہِ اسلامیہ کی نشر و اشاعت اور لوگوں کے دلوں میں عقیدہِ اسلامیہ بونے کی زیادہ سے زیادہ کوشش و جد و جہد کی جائیں یہ اسی صورت میں ہوگا جب اہلِ سنت و الجماعت بیدار ہو کر بصیرت کے ساتھ دعوتِ الی اللہ کا کام کریں گے فرمانِ باری تعالیٰ ہے: کہہ دیجیئے میرا یہی راستہ ہے، میں پوری بصیرت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاتا ہوں، اور وہ بھی جنہوں نے میری پیروی کی ہے، اور اللہ پاک ہے اور میں شریک بنانے والوں سے نہیں ہوں۔

(سورۃ یوسف: آیت، 108)

کلمہ توحید کو ثابت کرتے اور عقیدہ توحید کو دلوں میں بوتے ہوئے دعوتِ الی اللہ کا کام کرنا ہوگا، محبت و بھائی چارہ اور اتحاد و یگانگت کا یہی شرعی اصول و قاعدہ ہے، اس کے گرد جمع ہوا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ کسی اور کلمہ پر جمع نہیں ہوا جا سکتا، یہی ابتداء ہے اور انتہاء بھی یہی کہ اس پر ایمان لا کر عملی اور قولی اعتبار سے نبوی منہج پر عمل کرتے ہوئے توحیدِ الوہیت کو اجاگر کیا جائے، اور اتباع و پیروی کر کے ضلالت و گمراہی کے بت ختم کیے جائیں، اور بدعات و خرافات سے دور رہ کر اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلے کروائیں اور جاہلیت کے امور سے اجتناب کرتے ہوئے وراثتِ نبوی کے شرعی علم کے نور سے بدعات کے اندھیروں کو اجالا بخشا جائے۔ امتِ مسلمہ کا مشغلہ تو اصل دین اور خلافتِ نبوت ہونی چاہیے، جس میں امر بالمعروف کا کام کیا جائے اور سب سے بڑھ کر توحید کی شمع روشن کریں، اور نہی عن المنکر کا کام کرتے ہوئے شرک کی گمراہیوں سے لوگوں کو بچایا جائے۔ 

دوم: دعوتِ الی اللہ کا کام کرنے والے بصیرت کے ساتھ اپنی کوششیں اور تیز کریں تاکہ فرمانِ باری تعالیٰ پورا ہو: 

بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں، تو وہ اس کا دماغ کچل کر رکھ دیتا ہے، پس اچانک مٹنے والا ہو جاتا ہے، اور تمہارے لیے اس کی وجہ سے بربادی جو تم بیان کرتے ہو۔

(سورۃ الانبیاء آیت، 18)

 تا کہ امتِ مسلمہ کو بدعات سے بچایا جائے اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب بدعات کو امت کے سامنے منکشف کیا جائے اور اس کی تباہی بیان کی جائے، اس کے لیے امت کے ضعف اور کمزور امور کی حفاظت کر کے اسے ہر قسم کی گندگی و ضلالت و گمراہی سے نکال کر صیح اور صاف اسلامی زندگی کی طرف گامزن کیا جائے۔ اس سلسلہ میں اہم کام یہ ہیں کہ منحرف قسم کی دعوت و افکار کا مقابلہ کرتے ہوئے ان کا انحراف بیان کیا جائے اس میں رافضی شیعہ کے عقائد اور ان کا مذہب بیان کرنا ضروری ہے، کیونکہ ان کے دینی اصول و قواعد غیر اسلامی ہیں جن کی بناء پر یہ صراطِ مستقیم سے دور ہو چکے ہیں، علماء ان کے عقائد کو عدل و انصاف کے ساتھ ان کی کتابوں کے حوالہ جات سے بیان کریں، ضلالت و گمراہی پر ہوئے بھی رافضی حضرات اس کی نشر و اشاعت کر رہے ہیں لوگوں کے سامنے رافضیوں کا مذہب منکشف کرنے اور ان کے خفیہ افکار و عقائد ننگے کرنے کے لیے وہ مؤقف بھی بیان کیا جائے جو طویل عرصہ سے علمائے اسلام نے ان کے بارے میں اختیار کر رکھا ہے، تا کہ رافضی مذہب کا خاتمہ کر کے انہیں کتاب و سنت اور اللہ و رسولﷺ‎ کی طرف واپس پلٹایا جائے، اور مسلمانوں کی جماعت میں افتراق و انشقاق ختم کر کے اتفاق و اتحاد پیدا ہو، اس میں امتِ مسلمہ کے لیے انحراف سے بچاؤ اور صراطِ مستقیم پر بقاء ہے، اور یہی ان کے لیے رحمت کا باعث ہے۔ 

سوم: امتِ مسلمہ کو اس عقدہ کے موتیوں میں پرونے کے لیے حتی الوسع کوشش و جد و جہد کی جائے، اور وہ اصل اصیل کتاب و سنت پر عمل کرنا ہی وحدت اور اتفاق و اتحاد ہے، جس میں کسی بھی قسم کے گمراہ افکار اور واہمات نہ پائے جائیں، اور اس گروہ کے جو شبہات و شہوات اور انحراف و شندوذ کے امراض سے بھی امتِ مسلمہ کو بچایا جائے۔ 

اعتصام بحبل اللہ کی حقیقت بھی یہی ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے: 

اور تم سب کے سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، اور جدا جدا نہ ہو جاؤ۔

(سورۃ آل عمران: آیت، 103) 

اور تعاون کی اساس و بنیاد بھی یہی چیز ہے جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

اور تم نیکی و بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کیا کرو۔

(سورۃ المآئدۃ: آیت، 2) 

اور تنازع و اختلاف کے وقت مرجع و فیصلہ بھی یہی ہے جیسا کہ فرمانِ ربانی ہے: 

اگر تم کسی چیز میں اختلاف کر بیٹھو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف پلٹاؤ۔

(سورۃ النساء: آیت، 59) 

صفحہ 5 از 7