خاتمہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

خاتمہ

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 6 از 7

اسلامی معاشرہ میں مسلمانوں کا آپس میں اخوت و بھائی چارہ اور ان میں اتفاق و اتحاد اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ان میں اساسی و بینادی عقیدے کا رسوخ ہو اور وہ کتاب و سنت پر عمل کر کے حاصل ہو سکتا ہے، اس کی بنیادی چیز ولاء و براء یعنی دوستی و دشمنی کا عقیدہ ہے، اس لیے سنتِ نبویہ اور اہلِ سنت سے دوستی رکھنا اور بدعت اور اہلِ بدعت سے برات کا اظہار کرنا ضروری ہے۔ اس بناء پر اسلام کی طرف منسوب ہر فرقہ وحدتِ اسلامیہ کی رغبت تو رکھتا ہے، لیکن وہ اپنی بدعات اور انحراف کے اصول ترک نہیں کرنا چاہتا، وہ اس پر مضبوطی سے عمل پیرا ہی نہیں بلکہ دوسروں کو اس کی دعوت بھی دیتا ہے، حالانکہ یہ بدعتاد اصولِ اسلام کے منافی ہی نہیں بلکہ ناقض اسلام بھی ہیں، لہٰذا اس حالت میں ہی فوری طور پر اتحاد و اتفاق کی دعوت قبول کر لینا تو ناقض اسلام، اور ایمان متزلزل کرنے اور ولاء و براء کے ایمانی اصول کو تباہ کرنا کہلائے گا، کیونکہ اس طرح تو برات کو ولاء میں تبدل کر کے رکھ دیا گیا ہے، یعنی جس سے دشمنی کرنا تھی اس سے دوستی شروع ہو جائے گی۔

اس کی مثال یہ ہے کہ: رافضی و شیعہ حضرات سے اتحاد و اتفاق کیسے ہو سکتا ہے حالانکہ وہ سختی کے ساتھ نواقضِ اسلام اشیاء پر کار بند ہیں، اور کار بند ہی نہیں بلکہ اتحاد و اتفاق کی دعوت کے ساتھ ساتھ اس نواقض اسلام امور کی نشر و اشاعت بھی کر رہے ہیں، اہلِ سنت سے عرض ہے کہ وہ ہوشیار رہیں، رافضیوں کا اہلِ سنت کے ساتھ اتفاق و اتحاد کا نعرہ پہلے تو دینِ اسلام کے خلاف سازش ہے، اور پھر اہلِ سنت کے خلاف بھی وہ چال چل رہے ہیں۔ اللہ کے بندے ذرا بیدار ہو کر ہوش کے ناخن لو اور جاگو کتاب ختم کرنے سے قبل میں کہوں گا کہ آپ کسی رافضی کے ساتھ یہ طے کیے بغیر کسی بھی مسئلہ کے متعلق گفت و شنید میں مت پڑیں کہ تنازع و اختلاف کی صورت میں ہمارا فیصلہ کتاب و سنت کرے گا، اگر رافضی آپ کو یہ لکھ کر دیتا اور اس کا اقرار کرتا ہے، اور ایمان کے منافی اپنے ان اصولوں سے برات کا اظہار کرتا ہے جن کا بیان اوپر کی سطور میں کیا گیا ہے تو پھر آپ اس سے بحث کریں، وگرنہ نہیں، اور وہ اپنے علاقے اور گھر والوں اور خاندان خاص کر شیعہ علماء میں اس سے برات کا اعلان کرے تو ٹھیک وگرنہ وہ اتحاد و اتفاق کے نعرے کے تحت تقیہ کرتے ہوئے آپ کو رفض و شیعت کے سراب میں بھٹکا کر رکھ دے گا۔ اے اللہ میں نے لوگوں تک اس بات کو پہنچا دیا اور تجھ پر بھروسہ کیا، تیرے علاوہ کوئی بھی نیکی کرنے کی طاقت دینے اور برائی سے روکنے والا کوئی نہیں، لا حول ولاقوة الا باللہ العلی العظیم۔

(التبشير بالرفض صفحہ، 93، 100)

اب میں اپنی اس کتاب کو سیدنا حذیفہ بن الیمانؓ کی حدیث سے ختم کرنا چاہتا ہوں، فرمایا: 

كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِﷺ‎ عَنِ الْخَيْرِ، وَ كُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرُ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِ كَنِی۔

ترجمہ: لوگ (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) تو رسول اللہﷺ‎ سے خیر و بھلائی کی بابت سوال کیا کرتے تھے جبکہ میں آپﷺ‎ سے اس اندیشے کی وجہ سے شر و برائی کی بات پوچھا کرتا تھا کہیں وہ مجھے آہی نہ لے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ‎ بلاشبہ ہم جاہلیت میں اور شر میں تھے، تو اللہ تعالیٰ ہمارے پاس اس خیر کو لایا، تو کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہے؟ رسول اللہﷺ‎ نے فرمایا: جی ہاں! میں نے عرض کی: کیا اس شر کے بعد بھی خیر ہوگی؟ فرمایا: جی! مگر اس میں بھاپ/ دھواں ہوگا میں نے عرض کی: اس کا بھاپ/ دھواں کیا ہوگا؟ تب رسول اللہﷺ‎ نے فرمایا: 

قَوْمٌ يَسْتَتُونَ بِغَيْرِ سُنَّتِی، وَ يَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْلِی، تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَ تُنْكِرُ۔

ترجمہ: ایسے لوگ ہوں گے جو میری سنت کو چھوڑ کر دوسرے کاموں کو اپنا معمول بنالیں گے، جو میری ہدایت کے علاوہ اور راستوں پر چلیں گے تو ان میں سے کچھ کو پہچانے گا اور (کچھ کو نہیں پہچانے گا میں نے عرض کی: کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہوگا؟ فرمایا: جی ہاں! ایسی قوم آئے گی جو ہماری ہی نسل میں سے ہوگی اور ہماری زبان ہی بولے گی میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ‎ اگر وہ شر والا دور مجھے آن پہنچے تو پھر آپ مجھے کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا: 

تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَ إِمَامَهُمْ۔

ترجمہ: تم مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام سے چمٹ جانا۔ 

میں نے عرض کی: اگر اس وقت ان کی جماعت نہ ہو اور ان کا امام بھی نہ ہو تو؟ فرمایا: 

فَاعْتَزِلُ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، وَ لَوْ أَنْ تَعَضَّ عَلَى أَهْلِ شَجَرَةٍ، حَتَّى يُدْرِكِكَ الْمَوْتُ وَأَنتَ على ذلك۔

ترجمہ: پھر تو ان تمام فرقوں سے علیحدہ ہو جا، خواہ تجھے کسی درخت کی جڑ ہی چبانی پڑے حتیٰ کہ تجھے موت آ جائے اور تجھے اسی حال پر ہونا چاہیے۔

(صحیح البخاری: باب علامات النبوة فی الإسلام: ح، 3411 و صحیح مسلم: باب وجوب ملازمة جماعة المسلمين عند ظهور الفتن و فی كل حال، وتحريم الخروج على الطاعة ومفارقة الجماعة، حديث نمبر، 1847)

ابو العالیہؒ نے فرمایا ہے: اسلام کو سیکھو، تو جس وقت تم اسے سیکھ لو تو تب اس سے روگردانی اور بے رغبتی نہ کرو، تم صراطِ مستقیم کو لازم پکڑو، کیونکہ یہی اسلام ہے، اس رائے راست سے دائیں مڑو اور نہ ہی بائیں جھانکو اور تم اپنے نبی کی سنت کو لازمی سمجھو اور خاص طور پر خواہشات سے بچ کر رہو۔ ابو العالیہؒ کی کلام پر غور فرمائیں کہ کس قدر عظیم اور شاندار کلام ہے اور پھر اس زمانے کی بھی پہچان کر لیں جس میں وہ خواہشات پر عمل کرنے سے خبردار کر رہے ہیں کہ جو بھی ان خواہشات کے پیچھے چلا تو بلاشبہ اس نے دینِ اسلام سے رو گردانی کرنی اور اس بات پر بھی غور کر لیں کہ اس نے اسلام کی تفسیر سنتِ رسول سے بیان کی ہے اور بڑے بڑے مرتبے والے تابعین اور ان کے علماء پر کتاب و سنت کے برخلاف کرنے کے اندیشے اور خوف کا بھی اظہار کیا ہے، تو اس سے تیرے سامنے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا معنیٰ بھی واضح ہو جائے گا: 

اِذۡ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسۡلِمۡ‌ الخ۔

(سورۃ البقرة: آیت، 131) 

ترجمہ: جب کبھی بھی انہیں ان کے رب نے کہا، فرمانبردار ہو جا۔ 

اور اس فرمانِ باری تعالیٰ کا بھی:

صفحہ 6 از 7