خاتمہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

خاتمہ

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 7 از 7

وَوَصّٰى بِهَآ اِبۡرٰهٖمُ بَنِيۡهِ وَ يَعۡقُوۡبُ يٰبَنِىَّ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰى لَـكُمُ الدِّيۡنَ فَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡـتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ۞

(سورۃ البقرة: آیت، 132) 

اس کی وصیت حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کو کی کہ ہمارے بچو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس دین کو پسند فرمالیا ہے خبردار! تم مسلمان ہی مرنا۔ اور پھر اس فرمانِ اقدس کا بھی: 

وَمَنۡ يَّرۡغَبُ عَنۡ مِّلَّةِ اِبۡرٰهٖمَ اِلَّا مَنۡ سَفِهَ نَفۡسَهٗ الخ۔

(سورۃ البقرة: آیت، 130) 

ترجمہ: دینِ ابراہیمی سے وہی بے رغبتی کرے گا جو محض بے وقوف ہو۔ 

اور ایسے دیگر بہت سے بڑے بڑے اصول بھی تیرے سامنے واضح ہو جائیں گے جو دینِ اسلام کے اصل الاصول ہیں جبکہ لوگ ان سے غافل ہیں ان اصولوں کی معرفت کے ساتھ ہی اس باب میں وارد آیاتِ مبارکہ اور دیگر احادیث مبارکہ کا معنیٰ بھی بڑی اچھی طرح واضح ہو جائے گا۔ اور وہ آدمی جو ان امور کی بناء پر ان کے جھانسے میں آنے سے پر امن ہو وہ اس فرقے اور اس جیسے دیگر فرقوں کے حالات کو پڑھتا ہے تو بلاشبہ یہ فرقے اسے اپنی گرفت میں نہیں لے سکتے وہ انہیں ان لوگوں میں خیال کرے گا جو ہلاک ہو چکے ہیں جن کی بابت یہ فرمانِ الہٰی ہے: 

اَفَاَمِنُوۡا مَكۡرَ اللّٰهِ‌ فَلَا يَاۡمَنُ مَكۡرَ اللّٰهِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡخٰسِرُوۡنَ۞

(سورۃ الأعراف: آیت، 99) 

ترجمہ: کیا پس وہ اللہ تعالیٰ کی اس پکڑے بے فکر ہو گئے، سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آگئی ہو اور کوئی بے فکر نہیں ہوتا۔ 

یا اللہ! یقیناً میں نے اسے بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے اور میں نے اس کتاب میں ہر اس مسلمان کی خیر خواہی کر دی ہے جو اپنے نفس کی حتی المقدور قدر کرتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد کریمﷺ‎ کے نبی اور رسول ہونے پر ایمان رکھتا ہے اور پھر وہ حق کے سامنے جھک جاتا ہے، اے اللہ! تو بھی گواہ ہو جا۔

(كتاب فضل الإسلام: صفحہ، 28، 29 لشيخ الإسلام محمد بن عبد الوهابؒ)

میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ بھٹکے ہوئے مسلمانوں کو ہدایت نصیب فرمائے، ہم سے اور ان سے پریشانی، بیماری دور فرمائے، ہم سے اور ان سے مکر بازوں کے مکر کو پھیر دے مزید وہ ہم سے فتنوں اور فواحش کو، خواہ وہ ظاہر ہیں یا باطن دور کر دے، اور وہ ہمیں سب کو اسلام پر ثابت رکھے حتیٰ کہ ہم اس سے جا ملیں، اور یہ کہ وہ مجھے قول و عمل میں اخلاص اور راہِ راست نصیب فرمائے اور یہ کہ وہ میری نیت کو اور میری اولاد کو درست رکھے اور یہ کہ میرا خاتمہ بہترین فرمائے، مجھے ہر شریر کے شر کافی ہو جائے، اور یہ کہ وہ مجھے، میرے والدین، میرے مشائخ واساتذہ اور میرے اہلِ خانہ کو معاف فرمائے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والوں کو بھی اور تمام مسلمانوں کو بھی خواہ وہ زندہ ہیں یا فوت شدہ ہیں، معاف فرمائے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ سننے والا اور بہت زیادہ جاننے والا ہے اور اللہ تعالیٰ اس بندے پر بھی فرمائے جو کہے۔ آمین! اے پروردگار! تیرے لیے ایسی حمدیں اور تعریفیں ہیں جیسی تیرے چہرے کے جلال کے اور تیری عظیم سلطنت کے لائق ہیں۔ 

وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَ صَلَّى اللهُ وَسَلَّمَ عَلَى عَبْدِهِ وَ رَسُولِهِ مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِهِ وَ صَحْبِهِ أَجْمَعِينَ۔


صفحہ 7 از 7