Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

پیدائش

  علی محمد الصلابی

اس سلسلہ میں روایات متعدد و مختلف ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پیدائش کس سن میں ہوئی، چنانچہ حسن بصریؒ کے نزدیک حضرت علیؓ کی ولادت بعثتِ نبوی سے پندرہ یا سولہ برس پہلے ہوئی۔

(المعجم الکبیرللطبرانی: جلد 1 صفحہ 54 رقم: 163 اس کی سند مرسل ہے)

جبکہ ابن اسحاق کے نزدیک حضرت علیؓ کی ولادت بعثتِ نبوی سے دس برس پہلے ہوئی۔ (السیرۃ النبویۃ: جلد 1 صفحہ 262 اس کی سند مذکور نہیں ہے)

حافظ ابن حجرؒ نے دوسرے قول کو راجح قرار دیا ہے۔

(الاصابۃ: جلد 2 صفحہ 501)

اور الباقر محمد بن علی نے اس سلسلہ میں دو اقوال نقل کیے ہیں: ایک تو ابن اسحاق کی تحقیق کے مطابق کہ جسے حافظ ابن حجرؒ نے بھی راجح مانا ہے، یعنی بعثتِ نبوی سے دس برس پہلے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی: جلد 1 صفحہ 53 رقم: 165 اس کی سند حسن ہے)

دوسرا یہ کہ حضرت علیؓ کی ولادت بعثتِ نبوی کے پانچ سال پہلے ہوئی۔

(المعجم الکبیر للطبرانی: جلد 1 صفحہ 53 رقم: 166 محمد الباقر تک اس کی سند حسن ہے، لیکن انھوں نے مرسلاً روایت کیا ہے)

میرا رجحان حافظ ابن حجرؒ اور ابن اسحاقؒ کے قول کی طرف ہے، یعنی صحیح تحقیق کے مطابق سیدنا علیؓ کی ولادت بعثت نبوی سے دس برس پہلے ہوئی۔ (فتح الباری: جلد 7 صفحہ 174 الإصابۃ: جلد 2 صفحہ 507)

اور فاکہی (صاحب اخبار مکہ: بتحقیق عبدالملک بن دہیش یہ روایت سنداً صحیح نہیں، اس لیے ضعیف ہے) نے لکھا ہے کہ بنوہاشم میں علی سب سے پہلے ایسے شخص ہیں، جو خانۂ کعبہ میں پیدا ہوئے۔ اور امام حاکم نے لکھا ہے کہ بے شمار اخبار و آثار دلالت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔

(المستدرک علی الصحیحین: جلد 3 صفحہ 483 بلا سند۔ روایت ضعیف ہے)