مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 12

چنانچہ میں نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر سیدنا علیؓ نے بیعت کی، ارتداد کی جنگ میں خلیفہ اول کا آپ نے پورا پورا ساتھ دیا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو صدق دل سے ہر چیز میں اپنے اوپر ترجیح دی، انھیں اپنے سے افضل سمجھا، ان کے پیچھے نمازیں پڑھیں، ان کے ہدایا و تحائف قبول کیے۔ اور ضمناً اس بات کی طرف بھی میں نے اشارہ کیا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کے درمیان اسلامی عقیدت و ہمدردی کے گہرے تعلقات تھے، میراث نبوی کی حقیقت کی نقاب کشائی بھی کی ہے اور اس سے متعلق رافضیوں کے شکوک و شبہات کی تردید بھی کی ہے، قطعی صاف و شفاف اور واضح دلائل کی روشنی میں ان کے جھوٹے اور کمزور دلائل کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔ ان کی ضعیف اور موضوع روایات کا پردہ چاک کیا ہے اور یہ ثابت کردیا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حق کی پرستار، شریعت کی پابند، خلیفۂ رسول ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قدر واحترام کی نگاہ سے دیکھنے والی، ان کے ساتھ نرم رویہ اپنانے والی، ایک عظیم المرتبت خاتون تھیں۔ اسی طرح اہل بیت کے تمام افراد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے والہانہ محبت رکھتے تھے، دونوں خاندانوں کے درمیان جو سسرالی رشتے تھے انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ محبت کا عالم یہ تھا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نام پر اپنے بچوں کا نام رکھتے تھے۔

دورِ صدیقی کے بعد عہدِ فاروقی میں قضاء اور مالی و اداری امور میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شرکت و تعاون پر میں نے گفتگو کی ہے اور بتایا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے متعدد بار حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا جانشین بنایا، جہاد اور دیگر ملکی معاملات میں آپ سے مشاورت کی۔ ان دونوں کے درمیان مضبوط قلبی تعلقات تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام کلثوم بنت علی بن ابی طالب سے شادی کی، اس بابرکت شادی کے واقعہ کی حقیقی شکل ذکر کرنے کے ساتھ ہی میں نے ان ناقابل تردید دلائل اور واضح حقائق کا بھی ذکر کر دیا ہے، جن سے اس مسئلہ کی طرف منسوب کردہ جھوٹ کی بنیادیں ہی جڑ سے اکھڑ جاتی ہیں، اس طرح پورے واقعہ کو بالکل صاف و شفاف شکل میں پیش کر دیا اور صرف ان تاریخی حقائق پر اعتماد کیا ہے جو قرآن کی توضیح کے مطابق صحابہ کرامؓ کے درمیان آپسی میل محبت کی تصویرکشی کرتے ہیں۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت، اس سے متعلق افتراپردازیوں اور خلافتِ عثمانی کو سنبھالا دینے، ان کے خلاف شورش کو فرو کرنے، شہادتِ عثمانؓ کے جانکاہ حادثہ کی ابتداء، دوران محاصرہ اور شہادت کے بعد آپ کے مواقف، نیز آل علی اور آل عثمان کے درمیان سسرالی رشتوں کی پوری وضاحت کے ساتھ ساتھ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ان اقوال کو ذکر کیا ہے جو آپ نے اپنے پیش رو خلفاء کی منقبت میں کہے ہیں، ایسے اقوال کہ جو خلفاء کی محبت، احترام اور عقیدت کے آئینہ دار اور سبّ و شتم کرنے والوں سے برأت، شیخین کو برا بھلا کہنے والوں پر حد شرعی کے نفاذ کے متقاضی ہیں۔

جو مسلمان ان اقوال کا بغور مطالعہ کرے گا اور اس گروہ ربانی کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حسن برتاؤ کا جائزہ لے گا شاید وہ اپنے دل پر قابو نہ پاسکے اور اس کی آنکھوں سے احترام و عقیدت کے آنسو نکل پڑیں۔

شاعر کہتا ہے:

وَ مِنْ عَجَبٍ أَ نِّي أحِنُّ إلیْہِمْ وَ أَسْأَلُ عَنْہُمْ مَنْ لَقِیْتُ وَ ہُم مَعِيْ

’’میں ان (نفوس) کا مشتاق ہوں، اور کسی سے بھی ملتا ہوں تو شوق و اضطراب سے ان کے بارے میں پوچھتا ہوں، حالانکہ وہ میرے ساتھ ہوتے ہیں۔‘‘

وَ تَطْلُبُہُمْ عَیْنِیْ وَ ہُمْ فِیْ سَوَادِہَا وَ یَشْتَاقُہُمْ قَلْبِيْ وَہُمْ بَیْنَ أضْلُعِيْ

’’میری آنکھ ان کو ڈھونڈتی پھر رہی ہے، حالانکہ وہ اس کی سیاہی میں موجود ہوتے ہیں، اور میرا دل ان کا مشتاق ہے، حالانکہ وہ میرے سینے میں ہوتے ہیں۔‘‘

دوسرا شاعر کہتا ہے:

إِنِّيْ أُحِبُّ أَبَا حَفْصٍ وَ شِیْعَتِہٖ کَمَا اُحِبُّ عَتِیْقًا صَاحِبَ الْغَارِ

’’میں ابوحفص (عمر رضی اللہ عنہ) اور ان کے محبان کو دل سے چاہتا ہوں، جیسا کہ (نبیﷺ کے) رفیق غار عتیق (ابوبکر رضی اللہ عنہ ) سے محبت کرتا ہوں۔‘‘

وَ قَدْ رَضِیْتُ عَلِیَّا قُدْوَۃً عِلْمًا وَ مَا رَضِیْتُ بِقَتْلِ الشَّیْخِ فِی الدَّارِ

’’اور بلاشبہ میں علی رضی اللہ عنہ کو رہبر و عالم مان کر بہت خوش ہوں، جب کہ اندرون خانہ شیخ (عثمان رضی اللہ عنہ) کے قتل سے میں ہرگز خوش نہیں۔‘‘

کُلُّ الصَّحَابَۃِ سَادَاتِيْ وَ مُعْتَقِدِيْ فَہَلْ عَلَيَّ بِہٰذَا الْقَوْلِ مِنْ عَارِ

’’تمام ہی صحابہ میرے بزرگ اور میری عقیدت کے مستحق ہیں اور یہ بات کہتے ہوئے مجھے کوئی عار نہیں محسوس ہو رہی۔‘‘

اسی طرح میں نے خلافتِ علی کی بیعت پر گفتگو کی ہے اور بتایا ہے کہ وہ کس طرح مکمل ہوئی؟ نیز یہ کہ آپ ہی اس کے زیادہ مستحق تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس پر اجماع تھا، سیدنا طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما نے بغیر کسی دباؤ اور مجبوری کے آپ کی بیعت و خلافت کو تسلیم کیا تھا، آپ کی خلافت پر اجماع ہے، ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پیش کردہ بیعت خلافت کی شرائط، آپ کی خلافت کا پہلا خطبہ، اس دور کے اہل حل و عقد، آپ کے فضائل اور اہم اوصاف حمیدہ کے نمونے اور نظام حکومت کے اصول و قواعد کو بھی ذکر کیا ہے۔

البتہ حضرت علیؓ کے اوصاف حمیدہ کو ذرا تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ آپ کے علم کی وسعت، فقہ کی گہرائی، زہد و ورع، جود و کرم، حیا و عفت، صبر و عبودیت، شکر و اخلاص اور دعا و تضرع کی تابندہ مثالیں پیش کی ہیں۔ آپ کی حکومت کی اساس کتاب اللہ، سنت رسولﷺ اور پیش رو خلفائے راشدینؓ کی اقتداء پر قائم تھی۔ آپ نے رعایا کے حقوق کی مکمل حفاظت کے لیے اپنے ماتحت حکام کی نگرانی کی، شورائیت، عدل و مساوات اور آزادی کی صحیح تعبیر کو زندہ رکھا۔

صفحہ 2 از 12