مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 12

آپ کی معاشرتی زندگی، فریضۂ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ادائیگی کا اہتمام، توحید کی دعوت، شرک سے جنگ، انسانوں کے درمیان اللہ کے اسمائے حسنیٰ، بلند و بالا صفات کا جامع تعارف، اللہ کی بے شمار نعمتوں کی شکر گزاری، آثار جاہلیت کو مٹا دینے کی تڑپ، ستارہ پرستی کے باطل عقائد کی تکذیب، اپنی ذات کے بارے میں مبالغہ کرنے اور الوہیت کا درجہ دینے والوں کو نذر آتش کر دینا، دل میں ایمان کی نشوونما، تقویٰ کی تعریف، قضاء و قدر کا مفہوم اور یہ کہ انسانوں کی اتنی بھاری تعداد کا اللہ تعالیٰ کیسے محاسبہ کرے گا، حضرت علیؓ کے خطبات اور موقع بہ موقع وعظ و نصائح کی باتیں، آپؓ کی طرف منسوب شدہ اشعار، وہ اقوال زریں جو ضرب المثل بن چکے ہیں، نیک و بہترین انسانی صفات کی نشان دہی، آپ کی زبان مبارک سے نبیﷺ کے نوافل کا بیان، صحابہ کے اوصاف بے مثال، وہ مہلک امراض جو دلوں کو لاحق ہوتے ہیں، مثلاً لمبی امیدیں، بری خواہشات کی پیروی، ریاء و نمود، خود پسندی و غرور، بازاروں کی اصلاح کی کوشش، بدعات اور خلافِ شرع کاموں سے لڑائی اور اس طرح کے دیگر عناوین کا میں نے تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دورِ حکومت کے مختلف سرکاری محکمہ جات مثلاً وزارت مالیات، وزارت عدل، ادارۂ امراء و حکام، اور خلفائے راشدینؓ کے عہد میں قانون سازی و نظام عدل کی منصوبہ بندی، وہ مصادر جن پر صحابہؓ نے اس دور میں اعتماد کیا، خلافت راشدہ کے نظام عدل و قضاء کی خصوصیات، عہد علی رضی اللہ عنہ کے مشہور قاضی حضرات خود آپ کے قضاء کا اسلوب، اور اپنے ماقبل خلفاء کے فیصلہ پر نظر، منصب قضاء کی اہلیت رکھنے والے افراد کی شناخت، عبادات، مالی معاملات، حدود، قصاص اور جرائم کے مسائل میں فقہی اجتہادات پر بھی میں نے گفتگو کی ہے۔ اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ صحابہ اور بالخصوص خلفائے راشدینؓ کے اقوال حجت ہیں یا نہیں، دورانِ گفتگو امراء و حکام کے مستقل ادارے، اسلامی سلطنت کی ریاستیں اور تمام ریاستوں میں عظیم ترین کارناموں کا وقوع، گورنروں کی تقرری میں آپ رضی اللہ عنہ کا طرز عمل، ان کی نگرانی، رہنمائی اور ان کے اختیارات مثلاً ہر ریاست میں گورنر کو اس بات کی اجازت کہ وہ خود وزراء کو منتخب کر سکتا ہے، مجلس شوریٰ کی تشکیل، ہر ریاست میں افواج کی تشکیل، جنگ اور صلح کے میدان میں خارجی سیاست، اندرون ملک امن و سلامتی کی حفاظت، عدل و قضائی، مالی اخراجات اور گورنران ریاست وغیرہ کی منظم ترتیب، پھر ریاستی نظام حکومت کو مستحکم بنانے میں قبائلی قائدین اور جماعتی پیشواؤں کے کردار کو میں نے ذکر کیا ہے۔

اسی طرح میں نے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے اقوال کی روشنی میں اداروں اور محکموں کے نظم و نسق کو بہتر و برقرار رکھنے کے چند اصولوں کو مستنبط کیا ہے، مثلاً آپ رضی اللہ عنہ نے انسانیت کے احترام، تجربہ اور علم کی برتری پر زور دیا ہے، حاکم اور رعایا کے درمیان خوشگوار تعلقات، جمود و تعطل کے ازالہ، چاق و چوبند نگرانی، حکومتی گرفت، قرارداد کی منظوری اور کارکنوں کے عمدہ انتخاب میں گورنروں کے ساتھ شرکت، سرکاری عمال و کارکناں کے لیے جانی ومالی ضمانت، تجربہ کار افراد کی رفاقت، آبائی منصب کے مفہوم، نیز یہ کہ ادارے اور نوکریاں اصولوں پر قائم رہتی ہیں نہ کہ شخصی تعلقات اور کسی کے رحم و کرم پر۔ مذکورہ تمام چیزوں کا آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اقوال میں خصوصی اہتمام کیا ہے۔

ان مباحث سے گزر کر میں نے ان داخلی مشکلات کی طرف توجہ دی ہے، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عہدِ حکومت میں درپیش رہی ہیں، چنانچہ معرکۂ جمل اور اندرونی ملک کے داخلی فتنوں میں آگ لگانے اور انھیں ہوا دینے میں عبداللہ بن سبا اور اس کے سبائی گروہ کے سیاہ کردار اور اس کے برے اثرات کو ذکر کیا ہے، قاتلینِ عثمانؓ سے قصاص لینے کے طریقہ میں صحابہؓ کے اختلاف، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، طلحہ، زبیر، معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم اور ان کی تائید کرنے والے دیگر افراد کا قاتلینِ عثمان سے جلد از جلد قصاص لینے کا مؤقف اور پھر سعد بن ابی وقاص، عبداللہ بن عمر، محمد بن مسلمہ، ابوموسیٰ اشعری، عمران بن حصین، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم اور ان کے ہم خیال دیگر لوگ جنھوں نے اس فتنہ سے خود کو دور رکھا، ان باتوں کو بھی تحریر کیا ہے، معاً اس فریق کے مؤقف کی بھی وضاحت کی ہے جس کا بشمولِ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا یہ خیال تھا کہ قاتلینِ عثمان پر قصاص کی تنفیذ کو حالات کے معمول پر آجانے تک کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔معرکۂ جمل کی آگ بھڑکنے سے پہلے کی مصالحانہ کوششوں، لڑائی کی تفصیل، اس کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے خونی رَن، سیدنا طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما کی شہادت، اہلِ بصرہ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر بیعت، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مؤقف، نیز یہ کہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا، یعنی انھیں محترم مانا، ان کی عزت و توقیر کی اور پورے احترام و اعزاز کے ساتھ انھیں مدینہ بھیج دیا، پھر ان کے کچھ فضائل اور سیرت پر میں نے ایک جھلک ڈالی ہے۔

صفحہ 3 از 12