مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 5

من کانا مستنا فلیستن بمن قد مات ، فان الحی لا تؤمن علیہ الفتنۃ، اولئک اصحاب محمد صلی اللّٰه عليه وسلم، کانوا و اللّٰہ افضل ہذا الامۃ و ابرہا قلوبا ، و اعمقہا علما، واقلہا تکلفا، قوم اختار ہم اللّٰه لصحبۃ نبیہ و اقامۃ دینہ فاعرفوا لہم فضلہم، و اتبعوہم فی اثارہم و تمسکوا بما استطعتم من اخلاقہم و دینہم ، فانہم کانوا علی الہدی المستقیم (شرح السنۃ؍ البعوی: جلد، 1 صفحہ، 214۔ 215) 

ترجمہ: ’’جس کو اقتداء کرنی ہے وہ گزرے ہوئے لوگوں کی اقتداء کرے کیوں کہ زندہ فتنہ سے مامون نہیں۔ اور وہ محمدﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں۔ اللہ کی قسم وہ اس امت کے سب سے افضل لوگ تھے ان کے دل سب سے نیک، ان کا علم سب سے گہرا، سب سے کم تکلف کرنے والے، ان کو اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کی صحبت اور اقامت دین کے لیے چن لیا تھا، لہٰذا تم ان کی فضیلت کو پہچانو، ان کے آثار کا اتباع کرو اور جس قدر ہو سکے ان کے اخلاق و دین کو تھام لو وہ لوگ سیدھی ہدایت پر قائم تھے۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسلامی احکام کو نافذ کیا اور مشرق و مغرب میں اس کی نشر و اشاعت کی۔ ان کا دور سب سے بہتر دور ہے۔ انہوں نے ہی امت کو قرآن سکھایا، رسول اللہﷺ سے سنن و آثار کو روایت کیا، ان کی تاریخ وہ خزانہ ہے جس نے فکر و ثقافت، علم و جہاد، فتوحات کی تحریک اور اقوام و امم کے ساتھ تعامل کے سلسلہ میں امت کے سرمایہ کو محفوظ کر رکھا ہے۔ صحیح منہج اور رشد و ہدایت پر زندگی کا سفر جاری رکھنے والی نسلوں کے لیے یہ تاریخ معاون ثابت ہو گی اور اس کی روشنی میں انہیں اپنے پیغام اور دور کی معرفت حاصل ہو گی۔

اعدائے اسلام نے اسلامی تاریخ کو نشانہ بنا رکھا ہے وہ اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ اسلام اور اس کی روشن تاریخ کے درمیان خلا پیدا کر دیں تاکہ نسلوں کو اسلام اور اس کے عقیدۂ شریعت، اخلاق و اقدار اور علمی میراث سے دُور کر دیں، اس کے لیے وہ اسلامی معاشرہ میں پوری کوشش سے زہر پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں۔

مستشرقین اور ان سے قبل روافض نے بھرپور کوشش کی کہ ان باطل روایات کو عام کریں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تنقیص کرتی ہوں، اور امت کی عظیم تاریخ کو مطعون قرار دیتی ہوں، اور ان کی تاریخ کی ایسی تصویر پیش کرتی ہوں کہ جس میں قیادت و حکومت اور بالا دستی کے لیے جنگ جاری ہو، اس لیے ہر کاذب رافضی اور حاقد مستشرق اور جاہل سیکولر سے ہوشیار رہنا ضروری ہے اور اسی طرح ہر اس شخص سے بھی ہوشیار رہنا ضروری ہے، جو ان کے منہج پر قائم ہو اور ضروری ہے کہ ہم اپنی لازوال تاریخ کا پر زور دفاع کریں، کذاب اور منحرف لوگوں کے مناہج پر پُر جوش حملے کریں، اور یہ مبارک حملے، روشن حقائق، قطعی دلائل اور نا قابل ابطال براہین سے پُر، حق کے علمی ایٹم بم سے ہو۔ امت کے سپوتوں پر اہلِ سنت و الجماعت کے منہج پر تاریخ اسلام کی ترتیب اور تدوین ضروری ہے۔ اس منہج پر تاریخ کی تدوین و ترتیب پر مؤلفین و محققین کے قلم اٹھ چکے ہیں۔ انہوں نے اس کام کو بے فائدہ شروع نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ کو اس دین اور امت کی حفاظت کرنا ہے اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تاریخ کے لیے ایسے لوگوں کو تیار کیا ہے جو اس کے وقائع و حوادث تحقیق کریں، اخبار و روایات کی تصحیح کریں، اور روایات گھڑنے والے وضاع و کذاب راویوں کا پردہ فاش کریں۔ یہ عظیم جدوجہد اللہ کا فضل ہے اور پھر اہلِ سنت ائمہ فقہاء و محدثین کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جن کی کتابیں ایسے بہت سے اشارات اور صحیح روایات سے بھری ہیں جو گھڑنے والوں کی وضعی روایات کی قلعی کھولتی ہیں۔ (المنہج الاسلامی لکتابۃ التاریخ د، محمد محزون: صفحہ، 4)

اہلِ سنت والجماعت کے منہج کے اصول کو میں نے اختیار کیا اور قدیم و جدید مراجع و مصادر میں لگ گیا اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے دور کے سلسلہ میں صرف تواریخ طبری، ابنِ اثیر، ذہبی اور مشہور کتب تاریخ پر ہی اعتماد نہیں کیا بلکہ تفسیر و حدیث، شروحات حدیث، عقائد و فرق، تراجم و سیر، جرح و تعدیل اور فقہ کی کتابوں کو کھنگالا، مجھے ان میں ایسے کثیر تاریخی مواد ملے جن کا متداول و معروف کتب تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔ اس کتاب میں میں نے خلیفہ راشد سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے متعلق گفتگو شروع کی ہے جن کے بارے میں رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:

اصدقہا حیاء عثمان (فضائل الصحابۃ لابی عبداللہ احمد بن حنبل: جلد،1 صفحہ، 604 إسنادہ صحیح)

ترجمہ: ’’عثمان حیا میں سب سے سچے ہیں۔‘‘

اور غزوہ تبوک کے موقع پر جب آپ نے بے دریغ خرچ کیا تو رسول اللہﷺ نے آپؓ سے متعلق فرمایا:

ما ضر عثمان بعد الیوم، ما ضر عثمان بعد الیوم (سنن الترمذی: 3785)

ترجمہ: ’’آج کے بعد سیدنا عثمانؓ کو کوئی عمل نقصان نہیں پہنچا سکتا، آج کے بعد سیدنا عثمانؓ کو کوئی عمل نقصان نہیں پہنچا سکتا۔‘‘

اور رسول اللہﷺ نے آپ کو مصیبت لاحق ہونے کے ساتھ جنت کی بشارت سنائی، (صحیح البخاری: 3695)

اور لوگوں کو فتنہ رونما ہونے کے وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ رہنے پر ابھارا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

انکم تلقون بعدی فتنۃ و اختلافا او اختلافا وفتنۃ۔ فقال لہ قائل من الناس: فمن لنا یا رسول الله؟ قال: علیکم بالأمین وأصحابہ وھو یشیر إلی عثمان

(فضائل الصحابۃ: جلد، 1 صفحہ، 550 إسنادہ صحیح)

ترجمہ: ’’میرے بعد تم فتنہ و اختلاف یا اختلاف و فتنہ دیکھو گے۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! ہمارے لیے کون ہو گا؟ تو آپ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امین اور اس کا ساتھی۔‘‘صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، رسول اللہﷺ کے دور میں ہی پہلا مقام سیدنا ابوبکرؓ کو پھر سیدنا عمرؓ کو پھر سیدنا عثمانؓ کو دیتے تھے۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

کنا فی زمن النبی صلی الله عليه وسلم لا نعدل بأبی بکر أحدا، ثم عمر، ثم عثمان، ثم نترک اصحاب النبی صلی الله عليه وسلم لا نفاضل بینہم۔

(صحیح البخاری، فضائل اصحاب النبیﷺ : 3698)

صفحہ 2 از 5