مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 5

ترجمہ: ’’نبی کریمﷺ کے عہد میں ہم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہیں قرار دیتے تھے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو، اس کے بعد آپﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر ہم کوئی بحث نہیں کرتے تھے اور نہ کسی کو ایک دوسرے پر فضیلت دیتے تھے۔‘‘

شاعر نمیری نے کہا:

عشیۃ ید خلون بغیر إذن

علی متوکل اوفی و طابا

ترجمہ: ’’اس شام کو (یاد کرو) جب لوگ عمدہ، وفادار اور اللہ پر بھروسہ کرنے والے (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ) کے گھر میں زبردستی داخل ہو رہے تھے۔‘‘

خلیل محمد و وزیر صدق

و رابع خیر من وطیء الترابا

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 206)

ترجمہ: ’’وہ محمدﷺ کے پکے دوست، سچے معاون، اور روئے زمین کے چوتھے سب سے اچھے آدمی تھے۔‘‘

ان کے بارے میں ابو محمد قحطانی نے کہا:

لما قضی صدیق احمد نحبہ

دفع الخلافۃ للامام الثانی

ترجمہ: ’’جب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ انتقال کرنے لگے تو خلافت امام ثانی کو سونپ دی۔‘‘

اعنی بہ الفاروق فرق عنوۃ

بالسیف بین الکفر و الإیمان

ترجمہ: ’’یعنی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو جنہوں نے کفر و ایمان کے مابین بذریعہ تلوار فرق کر دیا۔‘‘

ھو اظہر الاسلام بعد خفاءہ

و محا الظلام و باح بالکتمان

ترجمہ: ’’انہوں نے اسلام کا بر ملا اظہار کیا، تاریکی کو مٹایا، چھپی چیز کو واضح کر دیا۔‘‘

ومضی و خلی الأمر شوری بینہم

فی الامر فاجتمعوا علی عثمان

ترجمہ: ’’خلافت کا معاملہ شوریٰ کے حوالے کر کے چلے گئے، چنانچہ لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر اتفاق کیا۔‘‘

من کان یسہر لیلۃ رکعۃ

وترا فیکمل ختمۃ القرآن

ترجمہ: ’’جو ایک رکعت وتر میں پوری رات گزار دیتے اور قرآن کو ختم کر دیتے تھے۔‘‘

یہاں تک کہ کہا:

والویل للرکب الذین سعوا إلی

عثمان فاجتمعوا علی العصیان

(نونیۃ القحطانی: صفحہ، 21۔ 25)

ترجمہ: ’’تباہی ہے اس قافلہ کے لیے جو سیدنا عثمانؓ تک پہنچا اور گناہ کے لیے اکٹھا ہوا۔‘‘

سیدنا عثمان بن عفان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی زندگی، تاریخ امت کا روشن باب ہے۔ میں نے آپ کی تاریخ، زندگی اور روشن دور کو تلاش کر کے اس کی ترتیب، تنسیق اور توثیق و تحلیل کی ہے تاکہ امت کے مختلف طبقات علماء، داعیان، خطباء، سیاست داں، مفکرین، جرنیل، حکام، طلبہ اور عام لوگوں کے دسترس میں ہو، شاید اپنی زندگی میں اس سے استفادہ کریں، اور اپنے اعمال میں اس کی اقتداء کریں اور پھر اللہ تعالیٰ، دارین میں انہیں فوز و فلاح سے ہمکنار فرمائے۔

اس کتاب کے اندر میں نے سیدنا ذوالنورین رضی اللہ عنہ کے نام و نسب، کنیت و القاب، خاندان، جاہلیت و اسلام میں آپ کا مقام، رسول اللہﷺ کی بیٹی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا سے آپ کی شادی، ابتلاء و آزمائش، حبشہ کی طرف ہجرت، قرآن کے ساتھ آپ کی زندگی، اور حکومت کی تعمیر میں اقتصادی تعاون کو بیان کیا ہے۔ میں نے ان احادیث کو تلاش کیا ہے جس میں دوسروں کے ساتھ آپ کے فضائل بیان ہوئے ہیں۔ اور ان احادیث کو بھی، جن میں صرف آپ کے فضائل مذکور ہیں۔ جس فتنہ میں آپ نے جامِ شہادت نوش کیا اس فتنہ سے متعلق رسول اللہﷺ سے جو کچھ وارد ہوا ہے اور آپ کے استخلاف کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے شوریٰ کو چلانے میں جو عظیم کارنامہ انجام دیا ہے اس کو واضح کیا ہے۔ اس سلسلہ میں جو رافضی اباطیل گھس آئی ہیں ان کی تردید کی ہے۔ قوی ترین علمی براہین اور منطقی دلائل سے ان کے بطلان اور کھوٹے پن کو ثابت کیا ہے۔ اور آپ کی خلافت پر اجماع کے انعقاد اور استحقاق خلافت سے متعلق علماء کے اقوال کو پیش کیا ہے۔ گورنروں، جرنیلوں اور عام لوگوں کے نام سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خطوط کی روشنی میں نظامِ حکم میں آپ کے منہج اور زندگی میں آپ کے مواقف کی شرح کی ہے۔ آپ نے حکومت کو اعلیٰ مراجعیت، خلیفہ کے محاکمہ میں امت کا حق، شورائیت، عدل، مساوات، حریت و آزادی اور معاشرتی زندگی میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔

صفحہ 3 از 5