مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 5

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بعض قائدانہ صفات کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے۔ اور آپ کی صفات میں انیس (19) صفات کو آپ کے ان مواقف کے ساتھ ذکر کیا ہے جو ان بلند صفات اور اخلاقِ حمیدہ پر دلالت کرتے ہیں۔ اور مالی شعبہ (وزارتِ خزانہ) پر گفتگو کرتے ہوئے ان مالی سیاست کے نقوش کو بیان کیا ہے جو خلافت سنبھالتے ہوئے آپ نے اعلان کیا تھا۔ اور آپ کے دور میں عام اخراجات مثلاً گورنروں اور افواج کو تنخواہیں، حج کے اخراجات، مسجدِ نبوی کی تعمیر و ترمیم کی تحویل، مسجدِ حرام کی توسیع، پہلے اسلامی بحری بیڑے کی تیاری، شعیبہ سے جدہ کی طرف ساحل کی تحویل، کنویں کھودنا، مؤذنوں کی تنخواہیں وغیرہ کو بیان کیا ہے۔ اجتماعی اور اقتصادی زندگی پر مال کے ریل پیل کے اثر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور آپ کے اقارب کے مابین تعلق اور بیت المال سے عطیہ دینے کی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے اور شعبہ قضا (وزارتِ عدل) اور حضرت عثمانؓ کے بعض فقہی اجتہادات پر گفتگو کی ہے جو بعد میں فقہی مدارس میں اثر انداز ہوئے ہیں۔ میں نے کتب تاریخ میں بکھری ہوئی عثمانی فتوحات کو جمع کیا اور مشرق و شام، مصر اور شمالی افریقہ میں لشکر اسلام کی نقل و حرکت کے مطابق اس کی ترتیب و تنظیم کی ہے۔ اور فتوحات کی تحریک سے دروس و عبر اور فوائد کا استخراج کیا ہے مثلاً اہلِ ایمان کے لیے وعدۀ الٰہی کی تکمیل، حربی و سیاسی فنون کی ترقی، سرحدوں کی حفاظت، دشمن کے مقابلہ میں اتحاد کا اہتمام، اعداء سے متعلق معلومات جمع کرنا وغیرہ۔ موقع بموقع بعض فاتح قائدین کی سیرت پیش کی ہے جیسے احنف بن قیس، عبدالرحمٰن بن ربیعہ باہلی، سلیمان بن ربیعہ، حبیب بن مسلمہ فہری، اور مصحف عثمانی پر امت کو متحدہ کرنے کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عظیم ترین مفاخر میں شمار کیا ہے اور جمع قرآن و سبب اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ، ان مصاحف کی تعداد جو صوبوں کو بھیجے گئے، اختلاف سے ممانعت سے متعلق آیات کے سلسلہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا فہم، گورنروں کا شعبہ، آپ کے دور میں سلطنت کے صوبے، گورنروں کے ساتھ آپ کی سیاست اور ان کے حقوق و واجبات، گورنروں کی نگرانی اور جائزہ لینے اور ان کی خبروں پر مطلع ہونے کے اسالیب، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گورنروں کی حقیقت اور ان کے مثبت و منفی پہلو، سیدنا ابوذر، سیدنا ابنِ مسعود اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کے ساتھ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تعلق کی حقیقت کو بیان کیا ہے۔ قتلِ سیدنا عثمانؓ کے فتنہ کے اسباب و وقائع کو تفصیل سے پیش کیا ہے اور ہر سبب کو مستقل فقرہ میں بیان کیا ہے جیسے خوش حالی اور معاشرہ پر اس کا اثر، اجتماعی تبدیلی، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعد آنا، اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مدینہ سے منتقل ہو جانا، جاہلی عصبیت، فتوحات میں توقف، جاہلی زہد و ورع، جاہ طلبی، حاقدین کی سازش، مظلوم خلیفہ راشد کے خلاف اعتراضات بھڑکانے کی منظم تدبیر، لوگوں کو برانگیختہ کرنے والے وسائل و اسالیب کو اختیار کرنا، فتنہ برپا کرنے میں سبائیوں کا اثر، اس کے علاج کے لیے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جو اقدامات کیے مثلاً جانچ و تحقیق کی کمیٹیاں تشکیل دے کر روانہ کرنا، ہر صوبہ کو تمام مسلمانوں کے لیے اعلان کے طور پر خط ارسال کرنا، گورنروں سے مشورہ طلب کرنا، باغیوں پر حجت قائم کرنا، ان کے بعض مطالبات کو منظور کرنا، اور فقہ عثمانی کی روشنی میں فتنوں کے ساتھ تعامل کے ضوابط بیان کیے ہیں۔ جیسے تحقیق، عدل و انصاف، حلم و سنجیدگی کو لازم پکڑنا، جمع کرنے والی چیزوں کا اہتمام اور اختلاف ڈالنے والی چیزوں سے اجتناب، خاموشی کو لازم پکڑنا، کثرت کلام سے اجتناب، ربانی علماء سے مشورے، فتن سے متعلق احادیث، رسول اللہﷺ سے رہنمائی اور مدینہ پر باغیوں کا قبضہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا آپ کی طرف سے دفاع اور اس سے آپ کے انکار کو بیان کیا ہے۔ قتلِ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سلسلہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے موقف اور فتنہ قتل سے متعلق ان کے وارد شدہ اقوال کو ذکر کیا ہے۔ 

یہ کتاب سیدنا ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی عظمت کو مدلل کرتی ہے، اور قارئین کرام کے سامنے یہ ثابت کرتی ہے کہ آپ ایمان و علم، اخلاق و آثار کے ساتھ انتہائی عظیم تھے۔ آپ کی عظمت اسلام کے فہم و تطبیق، اللہ کے ساتھ عظیم تعلق اور رسول اللہﷺ کے طریقہ کی اتباع کا نتیجہ تھی۔ 

یقیناً حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ائمہ میں سے ہیں جن کے طرزِ عمل، اور اقوال و افعال کی لوگ اقتداء کرتے ہیں آپ کی سیرت، ایمان، صحیح اسلامی جذبہ اور دین اسلام کے فہم سلیم کے قوی مصادر میں سے ہیں اسی لیے میں نے آپ کی شخصیت اور کارناموں سے متعلق بحث و تحقیق کی اپنی طاقت و وسعت بھر کوشش کی، نہ مجھے عصمت کا دعویٰ ہے اور نہ میں لغزشوں سے بری ہوں۔ میں نے اللہ کی رضا اور اس کا ثواب چاہا ہے۔ اسی سے سوال ہے کہ الٰہی میری مدد فرما اور اس کو نفع بخش بنا، اس کا نام پاکیزہ ہے اور وہ دعاؤں کو سنتا ہے۔ 

اس کتاب کی تصنیف سے میں چہار شنبہ بوقت 2 بجے فجر بتاریخ 8 ربیع الثانی سن 1423ھ موافق 18۔ 6۔ 2002ء کو فارغ ہوا۔ اول و آخر اللہ کا فضل ہے میں اللہ تعالیٰ سے اس کے اسمائے حسنیٰ اور صفاتِ عالیہ کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں کہ اس ناچیز کی کوشش کو اپنے لیے خالص کر لے اور اپنے بندوں کے لیے نفع بخش بنا دے اور جو حرف بھی میں نے لکھا ہے اس پر مجھے اجر عطا فرمائے اور اسے میری نیکیوں کے پلڑے میں رکھے اور اس حقیر کوشش کے اتمام میں میرے جن بھائیوں اپنی وسعت بھر کوشش کی ہے ان کو اس کا ثواب و صلہ عطا فرمائے اور ہر مسلمان سے جو اس کتاب کو پڑھیں میری گزارش ہے کہ اپنی دعاؤں میں اس بندۀ فقیر کو نہ بھولیں:

رَبِّ أَوْزِعْنِی أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِی أَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلَى وَالِدَیَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِی بِرَحْمَتِكَ فِی عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ(سورة النمل: آیت، 19)

صفحہ 4 از 5