مقدمہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مقدمہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 1 از 4

ایمان بالقرآن

مقدمہ

بسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ

الحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على سيد الانبياء والمرسلين و رحمة للعالمين من قال انانبي وآدم بين الماء والطين.

دنیا میں دو قسم کے مذاہب پائے جاتے ہیں الہامی اور غیر الہامی الہامی مذاہب کی بنیاد الہامی کتاب پر ہوتی ہے حقیقت میں الہامی مذہب تو صرف ایک ہی ہے جس کا نام اسلام ہے مگر جب اس پر نسلی رنگ چڑھا تو اس پر یہودیت اور عیسائیت کے لیبل لگائے گئے۔

در حقیقت اپنے دور میں اسلام ہی تھا جس کی تعلیم حضرت موسیٰ علیہ السلام نے الہامی کتاب تورات کے ذریعہ بنی اسرائیل کو دی اسی طرح یہ اسلام ہی تھا جس کی تعلیم حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے الہامی کتاب انجیل کے ذریعہ بنی اسرائیل کو دی۔ ان دو کتابوں کے علاوہ زبور صحف ابراہیم ، دیگر انبیاء کرام کے صحف بھی الہامی تعلیمات ہی کے مجموعے تھے۔ مگر ان میں سے کوئی کتاب اپنی اصل متن سے محفوظ نہ رہ سکی جس کی وجہ شاید یہ ہو کہ ہر کتاب کسی خاص قوم یا کسی خاص دور کے لیے رہنمائی کی خاطر نازل کی گئی تھی۔ جب کہ اللہ کی آخری کتاب یعنی قرآن کریم پوری انسانیت کے لیے نازل کی گئی تو اس کی حفاظت کی ضمانت بھی ساتھ ہی دی گئی کہ وانا لہ لحافظون پہلی کتابوں کے متعلق اس قسم کی کسی ضمانت کا ثبوت نہیں ملتا۔ لہذا ان میں ردو بدل اور تحریف ہو تو کوئی تعجب کی بات نہیں، مگر قرآن مجید کا معاملہ ان سے مختلف ہے۔

اس لیے اس اعلان الٰہی کے بعد اس کی حفاظت اس طرح کی جاتی رہی کہ اسے سینوں اور سفینوں میں محفوظ رکھنے کا خصوصی اہتمام ہوتا رہا اور انشاء اللہ قیامت تک ہوتا رہے گا۔

علمی اور سیاسی میدان میں جب اسلام کی برتری کا انکار ناممکن ہو گیا اور نزول قرآن سے پہلے یہود و نصارٰی کو ان دونوں میدانوں میں جو برتری حاصل تھی ۔ وہ بالفعل ختم ہو گئی ۔ اور ان دونوں قوموں نے یہ محسوس کر لیا کہ امت محمدیہ کو بگاڑنا یا نیچا دکھانا ممکن نہیں تو ایک سازش کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ سازشی یہود کے ذہن کی پیدا وار تھی ۔ اور اس کی ابتداء یوں کی گئی کہ اس آخری کتاب ہدایت کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کئے جائیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام کا دعویٰ کرنے والے ایک گروہ نے عقیدہ تحریف قرآن کو ضروریات دین میں شامل کر لیا اور اس عقیدے کا انکار کفر قرار دیا لیکن ان کی مجبوری یہ تھی کہ موجودہ قرآن کو محرف اور مبدل قرار دینے کے بعد اس کا بدل پیش کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی کتاب موجود نہیں تھی لہٰذا اپنے عقیدہ تقیہ سے کام لیتے ہوئے مجبوراً انہیں یہ کہنا پڑا کہ موجودہ قرآن پر ہمارا ایمان ہے اس بناء پر ان سے دلیل طلب کی گئی کہ اپنے عقائد کے اس تضاد کو رفع کیجئے ، اس مطالبہ کی چند وجوہ ہیں ۔

وجہ اول :

مذہب شیعہ کی بنیاد اور عقیدہ کی بناء اس امر پر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو قرآن نازل ہوا۔ اور جو دین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا اس کو آئندہ نسلوں تک پہنچانے والے ناقلین قرآن اور راویان دین اسلام کی سب سے پہلی جماعت بغیر کسی استثناء کے ساری کی ساری جھوٹی تھی۔ البتہ اس جھوٹ کے لیے دو اصطلاحیں استعمال کی گئیں کیونکہ شیعہ نے اس مقدس جماعت کو دو گروہوں میں منقسم تسلیم کیا، ایک گروہ خلفائے ثلاثہ اور ان کے ساتھیوں کا تھا یہ سب سے بڑا گروہ تھا دوسرا گروہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے چار ساتھیوں کا تھا۔ شیعہ نے پہلے گروہ کے جھوٹ کا نام نفاق رکھا ہے اور دوسرے گروہ کے جھوٹ کا نام تقیہ رکھا ہے۔ جھوٹ ہونے کے اعتبار سے تو وہ ایک ہی چیز تھی۔ مگر اتنا فرق ضرور تھا کہ پہلا گروہ جھوٹ تو بولتا تھا مگر جھوٹ کو عبادت نہیں سمجھتا تھا ۔ مگر دوسرے گروہ نے جھوٹ کو اتنی بڑی عبادت قرار دیا کہ وہ 9/10 حصہ دین ہے اور جھوٹ نہ بولنے والے کو یہ بشارت دی کہ

لا دين لمن لا تقية له یعنی جو جھوٹ نہ بولے دین شیعہ سے خارج ہے۔

شیعہ کا عقیدہ ہے کہ پہلا گروہ اپنے اندر ایک مافوق الفطرت قوت رکھتا تھا جس سے مختلف طبائع مختلف مذاہب اور مختلف اقوام کے لوگوں کو جن کی کثرت تواتر کو پہنچی ہوئی تھی بڑی آسانی سے جھوٹ پر متفق اور متحد کر لیتا تھا۔حالانکہ یہ عقلًا محال ہے اور دوسرا گروہ ایسا کمزور تھا کہ وہ اپنے دل کی بات اپنے ساتھیوں کو بھی نہیں بتا سکتے تھے۔

اس صورت حال پر اگر غور کیا جائے تو اس کے بغیر کوئی نتیجہ نہیں نکلتا کہ شیعہ کا ایمان قرآن پر، نبی کریم ﷺ کی نبوت پر ، آپ کے معجزات پر ، آپ کی تعلیمات پر ، بلکہ دین کی کسی چیز پر بھی نہیں ثابت ہوتا کیونکہ صحابہ کی جماعت وہ گروہ ہے جو آنے والی نسلوں اور نبی کریم ﷺ کے درمیان واسطہ اور حضور کی نبوت کے عینی گواہ ہیں اور شیعہ عقیدہ کے مطابق یہ سارے کے سارے جھوٹے ہیں۔ لہٰذا جھوٹے گواہوں کی شہادت سے کوئی دعویٰ ثابت نہیں ہو سکتا۔

وجہ دوم :

شیعہ کا اقرار ہے اور اس پر ان کا اتفاق ہے کہ موجودہ قرآن خلفائے ثلاثہ کے اہتمام سے جمع ہوا ۔ ان ہی کے ذریعے دنیا میں پھیلا اور چونکہ یہ غیر معصوم ہیں اور شیعہ آئمہ معصومین سے اس کی تصدیق شیعہ کی کتابوں میں کہیں نہیں ملتی لہٰذا قرآن کیونکر صحیح تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

دشمن دین کے ہاتھ سے جو چیز ملے اور دشمن بھی وہ جو خائن ہو ، کاذب ہو اور تخریب دین کے در پے بھی ہو اور صاحب اقتدار بھی ہو اور ایسی قوت کا مالک ہو کہ بے بنیاد چیز کو مستحکم اور باطل کو حق بنا سکے۔ وہ چیز کیونکر قابل اعتماد ہو سکتی ہے چنانچہ شیعہ کا دعوی ہے کہ خلفائے ثلاثہ کی خلافت جھوٹی اور بے بنیاد تھی۔ مگر انہوں نے اپنی قوت سے سب کو اس جھوٹ پر متفق کر لیا تھا۔ حضرت علی کی بیعت غدیر خم متواتر تھی اس کو بے بنیاد بنا دیا۔ لہٰذا ان کا جمع کیا ہوا قرآن کیونکر صحیح تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

وجہ سوم:

صفحہ 1 از 4