مقدمہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مقدمہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 2 از 4

در شیعہ کی مستند اور معتبر ترین کتابیں اس مضمون کی روایتوں سے بھری پڑی ہیں کہ شیعہ کے ائمہ معصومین و مفترض الطاعہ نے فرمایا کہ اس موجودہ قرآن میں سے بے شمار آیتیں اور سورتیں نکال دی گئی ہیں، الفاظ و حروف بدل دیئے گئے ہیں۔ قابل نفرت اور خلاف فصاحت و بلاغت عبارتیں داخل کردی گئی ہیں اور اس کی ترتیب خبط و بے ربط بنادی گئی ہیں اور یہ قرآن بجائے دین کے بے دینی کی تعلیم دیتا ہے۔ اور اس میں کفر کے ستون قائم کئے گئے ہیں اس میں رسول اکرمﷺکی سخت توہین کی گئی ہے۔ لہذا یہ قرآن قابل اعتبار نہیں۔

شیعہ کتب میں قرآن کی تحریف کے سلسلہ میں جو روایات بیان کی گئی ہیں ان کے متعلق اکابر علمائے شیعہ کا اقرار ہے کہ

① یہ روایات تحریف قرآن مذہب شیعہ کی ایسی معتبر کتب میں موجود ہیں جن پر شیعہ

مذہب کا مدار ہے۔

②یہ روایات کثیر التعداد ہیں۔ زائد از دو ہزار ہیں اور روایات امامت سے کم نہیں ہیں۔

③ یہ روایات تحریف قرآن پر ایسی صاف اور صریح دلالت کرتی ہیں کہ ان میں کسی قسم

کی تاویل کی گنجائش نہیں رہتی ۔

④یہ روایات صحیح مستفیض اور متواتر ہیں۔

⑤ان روایات تحریف کے مطابق شیعہ کا عقیدہ بھی یہی ہے کہ قر آن محرف ہے۔

⑥تحریف قرآن کا عقیدہ ضروریات مذہب شیعہ سے ہے اور ضروریات دین کا انکار کرنا بھی کفر ہے۔

⑦شیعہ کا یہ اقرار بھی ہے کہ تحریف قرآن کا عقیدہ جس طرح مطابق نقل ہے اس طرح مطابق عقل بھی ہے۔

یہاں یہ بات واضح کر دینا ضروری ہے کہ اگر اہل سنت کی کتابوں میں سے کوئی روایت

جو اختلاف قراءت یا نسخ کے متعلق ہو اسے آڑ بنا کر شیعہ یہ کہیں کہ دیکھو اہل سنت بھی تحریف کے قائل ہیں تو شیعہ کی یہ بات صرف اس صورت میں قابل تسلیم ہے کہ اکابر علماء اہل سنت کی طرف سے یہ سات اقرار پیش کئے جائیں ۔

دونوں طرف کے علماء سے درخواست ہے کہ چھوٹے چھوٹے اور فروعی مسائل پر جھگڑنا اور مناظرہ کی دعوت دنیا مناسب نہیں بلکہ سب سے بڑی اور اصولی بات یہ کہ شیعہ کو یہ دعوت دی جائے کہ وہ اپنی کتب سے اور اپنے آئمہ کی واضح اور صریح متواتر اور کثیر روایات سے یہ ثابت کریں کہ موجودہ قرآن محرف نہیں اور شیعہ کا اس پر ایمان ہے کہ موجوده قرآن صحیح ، غیر محرف اور محفوظ ہے اور یہ ثابت کرنا شیعہ کے بس کی بات نہیں کیونکہ نزول قرآن کے اور نبوت کے عینی گواہ یعنی صحابہ کرام کو شیعہ حضرات امین تو کیا صاحب ایمان بھی نہیں سمجھتے۔

یہ کتاب پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے ساتھ ہی لکھی گئی تھی ۔ اس سے پہلے تین بار طبع ہو چکی ہے ، پہلی دفعہ اس کتاب کے معرض وجود میں آنے کے بعد جون ۱۹۵۵ء میں مولوی اسمعیل شیعہ سے کالو وال کے مقام پر ایک مناظرہ کے دوران میں نے مطالبہ کیا تھا کہ ان چھ اقراروں کے ساتھ آپ قرآن پر ایمان ثابت کریں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ شیخین بالخصوص اور صحابہؓ بالعموم کو مسلمان نہ تسلیم کرنے کے بعد قرآن کو اللہ کی کتاب ثابت کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو ثابت کرنا ۔ اور حضرت علی کی خلافت کو خلافت حقہ ثابت کرنا ممکن ہی نہیں ۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہےکہ بھولے بھالے مسلمان قرآن کے مقام اور منصب کو پہچانیں اور قرآن کے خلاف یهودی سازش کے ہتھکنڈوں سے با خبر ہو کر اپنے ایمان کی حفاظت کرنے کی اہمیت سے آشنا ہوں ۔

...….....…........……………………………................

اقرارنمبر①

روایات کا کثیر ہونا۔ اس امر کا اعتراف ہے کہ اگر چند روایات ہوتیں تو تردید ہوسکتی تھی ۔ اب تو یا امامت کو چھوڑنا پڑے گا یا قرآن کو تو شیعہ نے قرآن سے دستبردار ہونا قبول کیا ۔

اقرار نمبر ②

صریح دلالت کی قید سے ظاہر ہے کہ ان روایات کی تاویل نہیں ہو سکتی ۔

اقرار نمبر ③

متواتر سے ظاہر ہے کہ قرآن تواتر سے ثابت ہے اگر روایات غیر متواتر ہوں تو تحریف قرآن ثابت نہیں ہو سکتی۔

اقرار نمبر④

مطابق عقل ہونے کا اعتراف یہ ثابت کرتا ہے کہ مرتدین کے ہاتھوں جمع کیا ہوا اقرار کا صحیح ہونا عقلاً محال ہے۔

اقرار نمبر ⑤

عقیدہ کہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ تحریف قرآن کوئی محض علمی مسئلہ نہیں کہ اس میں اختلاف رائے کی گنجاش ہو بلکہ یہ تو شیعہ کا اجتماعی عقیدہ ہے۔

اقرار نمبر⑥

ضروریات دین میں سے ہونا اگر کوئی شیعہ عالم تحریف قرآن کو اپنا عقیدہ قرار نہ دے تو ضروریات دین کا منکر ہو گا اور ضروریات دین کا انکار کفر ہے ۔

بعثت نبوی اور مقصد نزولِ قرآن

تحریف قرآن کی ذد میں

ابتدائے آفرینش سے اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو زمین پر جینے کا ڈھنگ سکھانے اور نیابت الہٰی کا فریضہ ادا کرنے کے لیے یہ مثردہ سنایا تھا کہ فاما یا تینکم منی هدی فمن تبع هداى فلا خوف عليهم ولا هم يحزنون -

یعنی تمہاری رہنمائی تو میں کرتا رہوں گا۔ البتہ تمہارا کام یہ ہے کہ جب میری طرف سے تمہیں ہدایات پہنچیں تو اس کی اتباع کرنا، ہاں جو میری دی ہوئی ہدایات کی اتباع کرے گا۔ اس کے لیے نہ کوئی خوف ہو گا نہ غم ۔ تاریخ شاہد ہے کہ اللہ تعالٰی نے یہ وعدہ پورا فرمایا اور مختلف زمانوں مختلف قوموں اور ملکوں میں اپنی طرف سے ہدایت دے کر انبیاء مبعوث فرمائے، وہ موجودہ ہدایت آسمانی کتابوں اور صحائف کی صورت میں انبیاء کرام علیہم السلام پر نازل فرماتا رہا حتیٰ کہ جب انسانیت ذہنی اور تمدنی اعتبار سے سن بلوغ کو پہنچی تواللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی بنا کر نوع انسانی کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ اور حضور ﷺسے یہ اعلان کرایا کہ

قل يا ایها الناس اِنی رسول الله اليكم جميعا

یعنی آپ اعلان کر دیں کہ اے بنی نوع انسان میں تم سب کے لیے اللہ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔

اس عظیم الشان فریضہ رسالت کی ادائیگی کے لیے اللہ تعالی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو جو دستور العمل عطا فرمایا اس کا نام قران کریم ہے اور اس کی حیثیت متعین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَى لِلْعَالَمِينَ هُدًى وَرَحْمَة وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ

اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو حکم دیا کہ اس قران کے ذریعے تمام اہل دنیا کو ہدایت کا راستہ دکھائیں۔ پھر فرمایا:

تبارك الذي نزل الفرقان على عبدہ ليكون للعالمين نذيرا

صفحہ 2 از 4