مقدمہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مقدمہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 3 از 4

اور حضورﷺنے مخاطبین اولین کو اور ان کے ذریعے آنے والی نسلوں کو یہ فریضہ سونپا کہ

اتبعوا ما انزل اليكم من ربکم

جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل ہوا اس کی اتباع کرو۔

ان حقائق کا خلاصہ یہ ہے کہ

حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اللہ تعالی نے یہ ذمہ داری سونپی کہ ہر شخص تک میرا پیغام اور میرا کلام نہ صرف پہنچائیں بلکہ اس پر عمل کرنے کا طریقہ بھی سکھائیں۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس سلسلے میں جتنا کام کیا اس کے ساتھ یہ اعلان بھی فرماتے گئے کہ ان اتبع الا ما یو حی الی میں تو صرف اسی کا اتباع کرتا ہوں جو مجھ پر نازل ہوا۔

☆۔۔۔حضور اکرم ﷺنے یہ کتاب ہدایت سب کو پڑھ پڑھ کے سنائی اور اس کی حفاظت کا انتظام دو طرح کیا کہ حفظ بھی ہو اور کتابت بھی ہو اور یہ قدرتی عمل تھا اگر ایسا نہ ہوتا تو فریضہ رسالت کی کماحقہ ادائیگی ممکن ہی نہیں تھی۔

☆۔۔۔۔ان ابدی اور تاریکی صداقتوں کے باوجود ایک گروہ جو مسلمان ہونے کا مدعی ہے اس معاملے میں بالکل مختلف نظریہ اور عقیدہ رکھتا ہے چنانچہ اصول کافی( ۴۴۱ طبع جدید۔)

باب کا عنوان ہے:

انہ لم يجمع القرآن كله الا الائمة عليهم السلام.

(یعنی پورا قرآن اماموں کے بغیر کسی نے جمع نہیں کیا)

عن جابر قال سمعت ابا جعفر عليه السلام يقول ما أدعی اخذ من الناس أنه جمع القرآن كله كما انزل الاکذاب وما جمعہ و حفظه كما أنزل الله تعالى الاعلى بن ابی طالب۔

حضرت جابر فرماتے ہیں میں نے امام باقر علیہ السلام سے سنا کہ جو شخص یہ دعوی کرے کہ اس نے پورا قران جمع کیا وہ جھوٹا ہے کیونکہ پورا قران سوائے علی بن ابی طالب کے کسی نے جمع نہیں کیااور نہ ہی یاد کیا ہے۔

عن ابى جعفرانه قال ما يستطيع احد ان يدعى ان عنده جميع القرآن كله ظاهره وباطنه غير الاوصياء۔

روایت ظاہر ہے امام جعفر علیہ السلام سے

کوئی یہ دعویٰ کرنے کی قوت نہیں رکھتا کہ اسکے پاس سارا قرآن موجود ہے ۔ظاہر و باطن سواۓ اماموں کے۔

روائت سے ظاہر ہوتا ہے کہ

① نبی کریمﷺ نے قران کے جمع کرنے اور حفاظت کرنے کو کوئی ایسا اہم کام نہیں سمجھا کہ اس کا اہتمام فرماتے.

② یہ کام حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہا نے ازخود کیا۔

③ قرآن صرف حضرت علی کی ہدایت کے لیے مخصوص تھا اس لیے صرف انہیں ہی سنایا گیا۔

روایت نمبر دو سے ظاہر ہوتا ہے کہ:

① قرآن صرف ائمہ کے پاس موجود ہے۔

② یعنی پہلے امام حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی قرآن کو عام مسلمانوں کی ضرورت کی چیز تصور نہیں کیا اس لیے اسی پر اکتفا کیا کہ دوسرے امام کے سپرد کر دیں اور اسی طرح پوری رازداری سے یکے بعد دیگرے اماموں کے سپرد کیا جاتا رہے۔

③ کسی امام نے بھی قرآن اللہ کے بندوں تک پہنچانا مناسب نہ سمجھا۔

یہ دو روایتیں ان حقائق کی تردید کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالی نے تمام انسانوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے کیونکہ آپ نے قران کے پھیلانے سنانے لکھوانے کا کوئی اہتمام نہیں کیا (بقول اصول کافی )اور اس بات کی تردید ہوتی ہے کہ قران پوری انسانیت کے لیے ہدایت ہے ہاں یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ کے مقرر کردہ آئمہ کے کام کی کوئی چیز ضرور ہے اس لیے ہر امام نے دوسرے امام تک پہنچانے کا اہتمام کیا.

☆۔۔۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس قرآن کے متعلق اعلان باری ہے:

ان ھو الا ذکری للعالمین

، وہ صرف اللہ کی ذات تک کیوں محدود رہا تو اس عقدے کا حل بتایا گیا۔

احتجاج طبرسی طبع قدیم ، (78)

فصل الخطاب من تفسیر صافی (27)

تفسیر مراة الانوار صفحہ (37)

ومشكوة الاسرار یہ سب شیعہ کی مستند کتابیں ہیں۔

لما توفى رسول اللہ ﷺجمع علی علیه السلام القرآن وجاء به الى مهاجرین والانصار وعرضه عليهم لما قداوصاہ بذالك رسول الله ﷺفلما فتحه ابو بكر خرج في اول صفحته فتحها فضائح القوم فوثب عمر وقال على اردده فلا حاجة لنا فيه فاخذ على وانصرف

فلما استخلف عمر سئل علیا ان یدفع عليهم القرآن ان يحرفوه فيما بينهم فقال يا ابا الحسن ان جئت بالقران الذي جئت به الى ابي بكر حتى نجتمع عليه

جب نبی کریم فوت ہوئے تو حضرت علی نے قرآن جمع کیا اور مہاجرین و انصار کے پاس لائے اور ان کے پاس پیش کیا کیونکہ حضور نے حضرت علی کو اس کی وصیت فرمائی تھی جب حضرت ابوبکر نے قرآن کو کھولا تو پہلے ہی صفحے پر قوم کی برائیاں نکل آئیں یعنی مہاجرین وانصار کی پس حضرت عمر نے کہا اے علی رضی اللہ عنہ یہ قرآن واپس لے لے ہمیں اس کی ضرورت نہیں حضرت علی قرآن لے کر چلے گئے۔

جب حضرت عمر خلیفہ مقرر ہوئے تو انہوں نے حضرت علی سے وہ قرآن طلب کیا تاکہ اس میں رد و بدل کر دیں چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا اے ابوالحسن! اگر آپ وہ قرآن لے آئیں جو آپ نے ابوبکر کو دکھایا تھا تو ہم اس پر متفق ہو جائیں۔

قال على عليه السلام هيهات ليس الى ذالك سبيل انما جئت به الى ابى بكر لتقوم الحجته و تقولوا يوم القيامة انا كنا عن هذا غافلين و تقولوا ما جئتنا به ان القرآن الذي عندي لا يمسه الا المطهرون والاوصياء من ولدي، فقال عمر هل وقت لأظهاره فقال على عليه السلام نعم اذا قام القائم من ولدي يظهره ويحمل الناس عليه .

حضرت علی نے فرمایا بات دور چلی گئی اب تو اس قرآن تک پہنچنا ممکن نہیں۔میں ابوبکر کے پاس صرف اس لیے لایا تھا کہ حجت پوری ہو جائے اور قیامت کو تم یہ نہ کہو کہ ہم قرآن سے غافل رہے یا یہ کہو کہ علی ہمارے پاس قرآن لایا ہی نہ تھا اور فرمایا کہ وہ قرآن تو ہمارے پاس ہے۔مگر اسے پاک لوگوں اور میری اولاد کے بغیر کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا پھر حضرت عمر نے پوچھا تو اس قرآن کے ظاہر ہونے کا بھی کوئی وقت ہے حضرت علی نے فرمایا ہاں میری اولاد سے جب امام مہدی ظاہر ہوگا تو وہ قرآن لائے گا اور لوگوں سے اس پر عمل کرائے گا۔

☆۔۔۔یہ روایت بڑی طویل ہے بقدر ضرورت حصہ یہاں نقل کیا گیا ہے۔پوری روایت اپنے مقام پر آئے گی بہرحال یہ حصہ بھی بہت معلومات افزاء ہے۔مثلًا

صفحہ 3 از 4