مقدمہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مقدمہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 4 از 4

حضرت علی نے اکیلے یہ قرآن جمع کیا اور حضور اکرم کی وفات کے بعد جمع کیا۔مگر جو قرآن اس وقت امت کے پاس ہے وہ تمام صحابہ کے سینوں اور سفینوں کی مدد سے جمع کیا گیا ہے مگر پھر بھی وہ تو نقلی قرآن ہے اور حضرت علی اکیلے نے جو جمع کیا وہ اصلی قرآن ہوا۔

②۔ حضرت علی اپنا قرآن مہاجرین و انصار کے پاس لے گئے جونہی کھولا گیا اس میں مہاجرین و انصار کی برائیاں سامنے آگئیں یہاں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً

۱... مہاجرین و انصار وہ جماعت تھی جو حضور اکرمﷺ نے ۲۳ برس کی محنت شاقہ سے تیار کی تھی. اس قرآن میں ایسی جماعت کی برائیاں درج تھی مگر یہ نہیں بتایا کہ خوبیاں کس جماعت کی درج تھیں ظاہر ہے مہاجرین وانصار کو چھوڑ کر باقی تو صرف مشرکین اور یہود و نصاری ہی رہ جاتے ہیں تو کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قرآن میں ان لوگوں کے فضائل اور خوبیاں درج تھیں.

۲... اگر اس میں مہاجرین و انصار کی برائیاں درج تھی تو یہ جماعت تیار کس نے کی تھی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت علی کے قرآن نے حضورﷺ کی محنت کو قابل مذمت قرار دیا.

③۔۔۔اگر یہ برائیاں مہاجرین و انصار نے آج پہلی دفعہ دیکھی تھی تو جب یہ نازل ہوئیں۔کیا حضور اکرم ﷺنے مہاجرین و انصار کو یہ برائیاں والی آیات پڑھ کر نہیں سنائی تھیں اگر سنائی تھیں تو مہاجین وانصار کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی پھر تعجب کرنے کی کیا وجہ ہے پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مہاجرین انصار کی برائی حضورﷺ نے سنا دی کیا ان کی اصلاح کرنا حضور کے ذمے نہیں تھا۔ جو قرآن امت کے پاس ہے اس میں تو مہاجرین و انصار کے اوصاف و فضائل شروع سے اخر تک بھرے پڑے ہیں بلکہ مہاجرین انصار کے ایمان کو یہ قرآن تو معیار قرار دیتا ہے.

فان امنوا بمثل ما امنتم به فقد اهتدوا

اے میرے نبی کے صحابہ اگر لوگ اسی طرح ایمان لائیں جیسے تم لائے ہو تب ہدایت یافتہ ہوں گے۔

یہ سب کمالات مہاجرین و انصار میں

نبی کریم ﷺ کی تربیت کے ذریعے ہی پیدا ہوئے اور اگر حضورﷺ نے یہ آیات مہاجرین و انصار کو سنائی ہی نہیں تو گویا حضور نے خود یہ اہتمام کیا تھا کہ قرآن کو چھپائے رکھیں اس سے بڑھ کر منصب نبوت اور حضورﷺ کی توہین اور کیا ہو سکتی ہے۔

④۔۔۔حضرت عمر کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جو جواب دیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت علی کا مقصد یہ نہیں تھا کہ لوگ قرآن کو پڑھیں یا اس پر عمل کریں بلکہ اتمام حجت مقصد تھا۔ لہذا ایک دفعہ دکھا دینا کافی سمجھا پھر کوئی لاکھ کوشش کرے قرآن کسی کو دکھایا نہیں جائے گا یعنی قرآن چھپا کر رکھنے کے لیے نازل کیا گیا بنی نوع انسانیت کی ہدایت کے لیے نازل نہیں ہوا تھا۔

⑤۔۔۔قرآن کے اظہار کے لیے جو وقت حضرت علی نے بتایا یہ بھی ایک راز سر بستہ معلوم ہوتا ہے سوال یہ ہے کہ گیارہ امام قران کی ضرورت سے واقف نہیں تھے یا ان میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اللہ کی بات اللہ کے بندوں کے سامنے کہہ سکیں اور یہ اخری امام کوئی بڑا باہمت ہوگا کہ آخر قرآن کو ظاہر کر کے رہے گا۔

⑥۔۔۔پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بارھویں امام کے ظہور تک امت محمدیہ کس کتاب سے رہنمائی حاصل کرے جب امت کے پاس کتاب ہدایت سرے سے موجود نہیں تو ظاہر ہے کہ نہ اس پر کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے نہ وہ مکلف ہے۔

مختصر یہ کہ اس روایت سے ظاہر ہے کہ نبی کریمﷺ

کا کام صرف یہ تھا کہ اللہ کی طرف سے جو وحی ائے چپکے سے حضرت علی کے کان میں کہہ دیں اور مہاجرین و انصار میں سے کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو کیا نبی کی بعثت کی یہی غرض ہوتی ہے اور کیا کتاب کے نزول کا یہی مقصد ہوتا ہے۔


صفحہ 4 از 4