Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امانت

  علی محمد الصلابی

احنفؒ انتہائی درجہ کے امین انسان تھے۔ یہ بات گزر چکی ہے کہ جب انہوں نے اپنے چچا زاد بھائی اسید کو بلخ پر عامل مقرر کیا اور بلخ والوں نے ان کی خدمت میں سونے چاندی کے برتن، دینار و درہم اور سامان و کپڑے پیش کیے تو اسید نے ان سے دریافت کیا کہ کیا یہ مصالحت کے وقت جو طے ہوا تھا وہ ہے؟ بلخ کے لوگوں نے کہا: نہیں، لیکن آج کے دن ہم اپنے حکام کے لیے اس طرح ہدیہ پیش کرتے ہیں تاکہ ان کی نظرِ عنایت ہم پر رہے۔ اسید نے دریافت کیا! آج کون سا دن ہے انہوں نے کہا مہرگان (جشن کا دن) اسید نے کہا: مجھے معلوم نہیں یہ کیا ہے؟ اور میں یہ ناپسند کرتا ہوں کہ تمہارا یہ ہدیہ واپس کر دوں، اور شاید یہ میرا حق ہو، ابھی میں اسے لے لیتا ہوں اور اسے الگ رکھتا ہوں پھر دیکھوں گا کہ اس سلسلہ میں کیا کرنا ہے؟ آپ نے اسے لے لیا، اور جب سیدنا احنفؒ آئے تو انہیں اس کی اطلاع دی، احنفؒ نے لوگوں سے اس سے متعلق دریافت کیا تو لوگوں نے انہیں وہی بتایا جو اسید سے ان لوگوں نے کہا تھا۔ احنفؒ نے کہا خیر، اسے امیر کو پیش کرتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ وہ اس سلسلہ میں کیا فرماتے ہیں۔ چنانچہ اسے حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: ابوبحر! تم اسے لے لو یہ تمہارا ہے۔ احنفؒ نے کہا: مجھے اس کی ضرورت نہیں۔

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 319) 

آپؒ ہدیہ لینے میں بھی حرج محسوس کرتے تھے مالِ غنیمت میں جو حصہ ہوتا تھا اسی پر اکتفا فرماتے تھے۔

(قادۃ فتح السند و افغانستان: محمود شیت خطاب: صفحہ، 313)