Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عدل

  علی محمد الصلابی

سیدنا عثمان بن عفانؓ صفتِ عدل سے متصف تھے، چنانچہ سیدنا عبیداللہ عدی بن خیار کا بیان ہے کہ وہ حضرت عثمان بن عفانؓ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جب وہ محصور تھے، انہوں نے آپؓ سے عرض کیا: آپؓ امیر المؤمنین ہیں اور صورتِ حال یہ ہے کہ نماز باغیوں کا امام پڑھاتا ہے جو ہم پر بہت گراں ہے، آپؓ نے جواباً فرمایا کہ نماز انسانوں کے عمل میں سب سے اچھی چیز ہے اس لیے جب لوگ اچھا کام کریں گے تو تم بھی اچھا کام کرو اور جب لوگ برا کام کریں تو تم ان کی برائی سے بچو۔

(صحیح البخاری: صفحہ، 695)

ابنِ ابی شیبہؒ کی روایت ہے کہ حضرت عثمانِ غنیؓ اپنے ایک غلام کے پاس سے گزرے جو اونٹنی کو چارہ دے رہا تھا، آپؓ کو اس چارہ میں ناپسندیدہ چیز نظر آئی، آپؓ نے اس غلام کی گوشمالی کر دی، پھر اپنے کیے پر نادم ہوئے اور غلام سے کہا: تم اپنا بدلہ لے لو، غلام نے انکار کیا، لیکن آپؓ نے اس وقت تک اس کو نہیں چھوڑا جب تک کہ اس نے آپؓ کی گوشمالی نہیں کر دی، اور آپؓ نے کہا خوب تیز گوشمالی کرو یہاں تک کہ آپؓ کو یقین ہو گیا کہ بدلہ پورا ہو گیا۔ پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا خوب بدلہ ہے آخرت کے بدلے سے قبل۔

(اخبار المدینۃ، ابنِ شیبۃ: جلد، 3 صفحہ، 236)