ہجرت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ہجرت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

سیدنا عمرؓ کا کہنا ہے پھر ہم کہا کرتے تھے جس نے خود کو فتنے میں ڈالا اللہ تعالیٰ اس سے فدیہ، سفارش اور توبہ قبول کرنے والا نہیں ہے۔ یہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کو پہچانا پھر مصائب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے کفر کی طرف لوٹ گئے۔ یہ باتیں وہ لوگ خود بھی اپنے بارے میں کہتے تھے۔ لیکن جب رسول اللہﷺ مدینہ تشریف لائے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں اور ہماری باتوں نیز ان کی اپنی باتوں کے بارے میں کہا:

قُلۡ يٰعِبَادِىَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ‌ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا‌ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ (53) وَاَنِيۡبُوۡۤا اِلٰى رَبِّكُمۡ وَاَسۡلِمُوۡا لَهٗ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ (54)وَاتَّبِعُوۡۤا اَحۡسَنَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ بَغۡتَةً وَّاَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ(55)

(سورة الزمر: آیت، 53 تا 55)

ترجمہ:(میری جانب سے کہہ دو کہ) اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ، يقيناً اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش والا بڑی رحمت والا ہے۔ تم سب اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کیے جاؤ اس سے قبل کہ تمہارے پاس عذاب آ جائے اور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے۔ اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل کی گئی ہے اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آ جائے اور تمہیں اطلاع بھی نہ ہو سيدنا عمر بن خطابؓ نے کہا میں نے ان آیات کو اپنے ہاتھوں سے صحیفہ میں لکھا اور اسے ہشام بن عاص کے پاس بھیج دیا ہشام کہتے ہیں کہ جب میرے پاس وہ صحیفہ آیا تو میں اس کو "ذی طویٰ"(السيرة النبویتہ الصحيحتہ: جلد، 1 صفحہ، 205) میں پڑھنے لگا۔ اسے لے کر نیچے وادی میں جاتا اور اوپر آتا، لیکن اسے سمجھ نہیں پاتا تھا، یہاں تک کہ میں نے دعا کی: اے اللہ مجھے اس آیت کا مطلب سمجھا دے پھر اللہ نے میرے دل میں یہ بات ڈال دی کہ یہ آیات ہمارے اور جو کچھ ہم خود اپنے بارے میں کہتے تھے اور جو کچھ لوگ ہمارے بارے میں کہتے تھے، اس کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپؓ کا کہنا ہے کہ میں اپنی سواری کی طرف پلٹا، اس پر سوار ہوا اور رسول اللہﷺ سے جا ملا اس وقت آپ مدینہ میں تھے۔

یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ کس طرح سیدنا عمرؓ نے اپنے لیے اور اپنے دونوں ساتھیوں یعنی عیاش بن ابی ربیعہ اور ہشام بن عاص بن وائل سہمى رضى اللہ عنہما کے لیے جب کہ ان میں سے ہر ایک الگ الگ قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا، ہجرت کی منصوبہ بندی کی تھی کہ جس مقام پر ان کے آپس میں ملنے کا وعدہ تھا وہ مکہ سے دور حرم سے باہر اور مدینہ کے راستہ پر تھا۔ نیز وقت اور جگہ کی اتنی منظم انداز میں تحدید کی تھی کہ اگر ان سے کوئی ایک گرفتار کر لیا جائے تو بقیہ دونوں سفر شروع کر دیں اس کا انتظار نہ کریں، کیونکہ وہ گرفتار ہو چکا ہے اور ان کے اندازے کے مطابق ایسا ہوا بھی۔ ہشام بن عاصؓ گرفتار کر لیے گئے۔ جب کہ عمر اور عباس رضی اللہ عنہما نے سفرِ ہجرت جاری رکھا اس طرح یہ منصوبہ بندی پوری طرح کامیاب ہو گئی اور وہ دونوں صحیح سالم مدینہ پہنچ گئے۔ مگر قریش نے مہاجرین کا پیچھا کرنے کی ٹھان رکھی تھی، اسی لیے انہوں نے ایک مضبوط منصوبہ تیار کیا۔ اور ابوجہل اور حارث نے جو عیاش کے ماں شریک بھائی تھے، اسے پورا کرنے کی ذمہ داری لی اس قرابت نے عیاش کو ان دونوں کی طرف سے مطمئن کر رکھا تھا۔ خصوصاً اس وجہ سے کہ معاملہ ان کی ماں سے متعلق تھا، اور ابوجہل نے عیاش کی اپنی ماں کے ساتھ رحمت و شفقت کو دیکھتے ہوئے یہ سازش گھڑی تھی، اور یہ شفقت اس وقت کھل کر سامنے آ گئی جب آپ ان کے ساتھ لوٹنے پر تیار ہو گئے۔

اسی طرح اس واقعہ سے سیدنا عمرؓ کا امن عامہ سے متعلق بلند و بالا شعور بھی کھل کر سامنے آتا ہے بایں طور کہ عیاشؓ کے اچک لیے جانے کے بارے میں آپ کی دانائی و دور اندیشی سچ ثابت ہوئی اسی طرح اخوت و بھائی چارگی کا وہ عظیم معیار بھی ظاہر ہوتا ہے جس کی اسلام نے بنیاد رکھی ہے چنانچہ سیدنا عمرؓ اپنے بھائی کے

اسلام کی حفاظت اور مکہ لوٹ جانے کے بعد مشرکین کی سخت آزمائش میں واقع ہونے کے خوف کے پیش نظر اپنی نصف جائیداد کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ لیکن عیاشؓ پر اپنی ماں کی محبت اور قسم پورا کرنے کا جذبہ غالب ہے، اسی لیے انہوں نے ٹھان لی کہ وہ مکہ جائیں گے اور اپنی ماں کی قسم پوری کریں گے اور وہاں جو ان کا مال ہے اسے لے کر واپس آئیں گے۔ ان کی پاک دامنی اس بات سے انکار کرتی تھی کہ اپنے بھائی عمر کی جائیداد کے ہیں۔ اور مکہ میں ان کا اپنا مال باقی رہے جس کو کسی نے ہاتھ نہ لگایا ہو۔ جب کہ سیدنا عمرؓ کی نگاہ اس سے بلند تھی۔ گویا کہ آپ اس برے انجام کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے جس سے مکہ لوٹنے کے بعد عیاش دوچار ہونے والے تھے۔ اور جب آپ ان کو مطمئن کرنے سے عاجز آ گئے تو اپنی بہترین نسل والی فرماں بردار اونٹنی دے دی ۔پھر آگے چل کر عیاش کے ساتھ وہی کچھ ہوا جس بے وفائی کی مشرکین کی طرف سے حضرت عمرؓ نے توقع کی تھی (مکہ کی وادیوں میں سے ایک وادی ہے) مسلمانوں میں یہ بات عام ہو گئی کہ اللہ تعالی ان لوگوں سے جو آزمائے گئے اور جاہلی سماج میں زندگی گزارنی شروع کر دی ان کے بارے میں کسی سفارش اور فدیہ کو قبول نہیں کرے گا۔

اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

قُلۡ يٰعِبَادِىَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ‌

(سورة الزمر: آیت، 53)

ترجمہ: آپ کہہ دیجے کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔

جوں ہی یہ آیات نازل ہوتیں فوراً سیدنا عمر فاروقؓ نے انہیں اپنے دونوں قلبی بھائیوں یعنی عیاش اور ہشام رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا تاکہ وہ دونوں کفرستان کو چھوڑنے میں دوبارہ اپنی نئی کوشش شروع کریں۔

صفحہ 2 از 3