ہجرت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ہجرت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

 کتنی عظیم خوبی تھی حضرت عمر بن خطابؓ کے اندر اپنے بھائی عیاشی کے ساتھ پوری کوشش کی اور مدینہ نہ چھوڑنے کے لیے ان کو اپنی نصف جانداد دینے کی پیش کش بھی کی، ان کو خطرہ کی حالت میں

بھاگ نکلنے کے لیے اپنی اونٹنی بھی دی۔ ان تمام چیزوں کے باوجود نہ تو اپنے بھائی سے ناراض ہوئے، نہ ان سے قطع تعلق کیا کہ انہوں نے مخالفت کی تھی، اور آپ کی نصیحت ماننے سے انکار کر دیا تھا، اور آپؓ کے مشورہ کو پسِ پشت ڈال دیا تھا۔ بس آپ پر صرف اپنے بھائی کے متعلق محبت اور وفاداری کا احساس غالب تھا، اسی وجہ سے جوں ہی مذکوره آیت نازل ہوئی۔ فوراً اسے مکہ میں رہنے والے اپنے دونوں بھائیوں اور دیگر کمزور مسلمانوں کے پاس بھیجنے میں جلدی تاکہ اسلامی چھاؤنی میں جلد از جلد شامل ہونے کی نئی کوشش شروع کر ديں۔

(التربیۃ القياديتہ: جلد، 2 صفحہ، 160)

اسی طرح سیدنا عمرؓ مدینہ میں پہنچے اور رسول اللہﷺ کے لیے سچائی کے وزیر بن کر رہے۔ آپﷺ نے ان کے اور عویم بن ساعدؓ کے درمیان مواخات بهائی چارگی) کا رشتہ کیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ کے اور عتبان بن مالک اور ایک قول کے مطابق آپ اور معاذ بن عفراء کے درمیان مواخات قائم کی علامہ ابن عبد الہادی نے ان تمام روایتوں کو یکجا کرکے یہ تعلیق تحریر کی ہے۔

"ان حدیثوں میں کوئی تعارض نہیں ہے، آپﷺ نے متعدد اوقات میں ان سب کے ساتھ آپ کی مواخات قائم کی تھیں، اور متعدد اوقات میں آپ اور ان تمام لوگوں کے درمیان مواخات قائم کرنا ناممکن ہے"


صفحہ 3 از 3