Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بصرہ

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بصرہ کی آباد کاری سے قبل اس کے اطراف و جوانب میں بنو سعد بن بکر کے ایک فرد شریح بن عامر رضی اللہ عنہ کو قطبہ بن قتادہ رضی اللہ عنہ کی مدد کے لیے روانہ کیا تھا، پھر انہی کو بصرہ کے اطراف و جوانب کا گورنر بنا دیا تھا، وہ کسی مجاہدانہ کارروائی میں شہید ہو گئے۔

(تاریخ خیلیفۃ بن خیاط: صفحہ 155) حضرت شریح رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت عمرؓ نے حضرت عتبہ بن غزوانؓ کو ایک فوجی لشکر کے ساتھ وہاں کا امیر بنا کر انہیں روانہ کیا، یہ واقعہ 14ہجری کا ہے، نہ کہ 16ہجری کا، جبکہ صالح احمد العلی 14 ہجری کو راجح قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ حضرت عتبہ بن غزوانؓ معرکۂ قادسیہ یا جلولاء کے بعد 16 ہجری میں بصرہ کے مضافاتی علاقوں کے گورنر بنا کر بھیجے گئے، لیکن جمہور مؤرخین اسی بات کے قائل ہیں کہ وہ 14 ہجری میں بھیجے گئے تھے اور اسی وجہ سے ہم جمہور کی روایت کو ترجیح دیتے ہیں۔‘‘

(التنظیمات الاجتماعیۃ والاقتصادیۃ فی ا لبصرۃ: صفحہ 32) بصرہ کی عتبہ بن غزوانؓ کی ولایت کا دور درحقیقت بصرہ کی تاسیس اور اس کی زندگی میں ترقی کی روح پھونکنے کا دور تھا، اس میں بہت سارے مقدس و عظیم کارنامے سامنے آئے اور اسی دور میں دجلہ و فرات کے ساحل پر بلاد فارس کے کئی علاقوں میں آپؓ کی فاتحانہ معرکہ آرائیاں بھی ہیں۔

(تاریخ خلیفۃ بن خیاط: صفحہ 127، 128) حج کے موسم میں حضرت عتبہؓ حضرت عمرؓ کو منصب ولایت سے استعفیٰ نامہ پیش کیا، لیکن آپ نے ان کا استعفیٰ نامنظور کر دیا اور کہا کہ آپ واپس جائیں اور اسی منصب کو سنبھالیں۔ بہرحال حضرت عتبہؓ واپس ہو گئے اور بصرہ پہنچنے سے پہلے ہی راستہ میں آپ کی وفات ہو گئی۔ جب عمرؓ کو آپ کی وفات کی خبر ملی تو کہنے لگے: اگر موت کا ایک مقررہ وقت نہ ہوتا تو میں یہی سمجھتا کہ میں نے ان کو قتل کیا ہے اور پھر ان کے حق میں آپؓ خیر کے کلمات کہنے لگے۔ ان کی وفات 17ہجری میں ہوئی۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 115)

سیدنا عتبہؓ کے بعد حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بصرہ کے گورنر مقرر کیے گئے، آپ نے منصب ولایت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے بصرہ کا دیوان رجسٹر مردم شماری و وظائف مرتب کیا اور اپنی ذمہ داریاں آخری وقت تک نبھاتے رہے، لیکن جب 17ہجری میں آپ پر ’’زنا کاری‘‘ کی تہمت لگائی گئی تو حضرت عمرؓ نے اس وقت حضرت مغیرہؓ کو منصب ولایت سے معزول کر دیا اور پھر ان پر تہمت کی تحقیق کرنے لگے، تحقیق و تفتیش میں حضرت مغیرہؓ بری ثابت ہوئے اور تینوں گواہوں پر تہمت کی حد نافذ کی گئی۔ حضرت عمرؓ نے حضرت مغیرہؓ کو احتیاطاً اور مصلحتاً معزول کر دیا تھا لیکن بعد میں ان کو دوسری جگہوں کی امارت و قیادت عطا فرمائی۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 115)

حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کو معزول کرنے کے بعد آپ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو بصرہ کا گورنر بنا کر بھیجا، واضح رہے کہ دور فاروقی میں جتنے لوگ بصرہ کے گورنر بنا کر بھیجے گئے ان میں ابو موسیٰ اشعریؓ کو سب سے زیادہ شہرت ملی، ان کے دور میں فارس کے بہت سارے معرکے فتح ہوئے، آپ خود جہاد میں شریک ہوتے اور مختلف علاقائی مہموں کے لیے بصرہ سے فوجی جرنیلوں کو بھیجتے، چنانچہ آپ کی مدت ولایت گورنری میں مجاہدین بصرہ نے ’’اہواز‘‘ اور اس کے گرد و پیش مختلف علاقوں اور دیگر کئی اہم مقامات کو فتح کیا۔ آپ کی گورنری کا زمانہ مجاہدانہ سرگرمیوں سے بھرا پڑا ہے، بہت ساری فتوحات اور جنگی کارروائیوں میں آپؓ نے اپنے قرب وجوار کے حکام اور گورنروں سے تعاون لیا۔ آپؓ نے مفتوحہ علاقوں کی تنظیم، ان پر گورنروں کی تعیین اور ان کے مختلف اداری امور کی ترتیب دینے نیز انہیں امن و استحکام بخشنے میں کافی محنت کی۔ متعدد معاملات میں آپ اور حضرت عمرؓ کے درمیان خط و کتابت بھی ہوئی۔ بعض خطوط میں آپؓ نے ابو موسیٰ اشعریؓ کو یہ رہنمائی فرمائی کہ مجلس امارت میں لوگوں کا کس طرح استقبال کریں اور بعض میں تقویٰ و خدا ترسی اور رعایا کو خوش رکھنے کی رہنمائی تھی۔ یہ رہنمائی بہت بیش قیمت تھی اس میں آپ نے فرمایا:

’’حمد و صلاۃ کے بعد! لوگوں میں سب سے خوش بخت وہ ہے جس سے اس کی رعایا خوش و مطمئن ہو اور سب سے بدبخت وہ ہے جس سے اس کی رعایا نالاں ہو، تم خود کو حکومت کے پیچھے پڑنے سے دور رکھو، ورنہ تمہارے ماتحت افسران تمہاری طرح اس کے پیچھے دوڑنے لگیں گے پھر تمہاری مثال اس چوپائے جیسی ہو جائے گی جس نے کسی شادابی و سر سبزی کو دیکھا تو اس میں چرنا شروع کر دیا تاکہ خوب موٹا ہو جائے، حالانکہ اس کے موٹاپے ہی میں اس کی موت ہوتی ہے۔‘‘

(مناقب عمر: ابن الجوزی: صفحہ 130) سیدنا عمر فاروق اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کے مابین کئی ایسے رسائل کا بھی تبادلہ ہوا جن میں مختلف اداری و تنفیذی امور پر حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو توجہ دلائی گئی تھی اور آپؓ انہیں بخوبی انجام دیتے تھے۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے ان خطوط کو اپنی قیمتی کتاب ’’الوثائق السیاسیہ‘‘ میں جمع کیا ہے۔ ( کتاب کا پورا نام ’’الوثائق السیاسیۃ للعہد النبوی والخلافۃ الراشدۃ‘‘ ہے۔ اردو زبان میں ان خطوط کو مولانا محمد تقی امینی نے کتابی شکل میں ’’حضرت عمرؓ کے سرکاری خطوط‘‘ کے نام سے جمع کیا ہے۔ مترجم) بصرہ پر حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی گورنری کا دور سب سے بہتر شمار ہوتا ہے، اس دور کی خوبیوں کو حضرت حسن بصریؒ نے سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ’’بصرہ والوں کے لیے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے بڑا خیر خواہ کوئی امیر نہیں۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 389) ان کی بھلائیوں کی یہ شہادت بالکل سچ ہے کیونکہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بصرہ کے گورنر ہوتے ہوئے وہاں کے معلم قرآن بھی تھے، آپ وہاں کے باشندوں کو قرآن اور دین اسلام کی تعلیمات دیتے تھے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 120) سیدنا عمر فاروقؓ کے عہد خلافت میں فارس کے کئی مفتوحہ شہر بصرہ ہی کے تابع تھے اور بصرہ کا حاکم ہی وہاں اپنے افسران کو بھیجتا تھا اور وہ سب بصرہ ہی سے مربوط ہوتے تھے۔ اس طرح حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ، حضرت عمرؓ کے گورنروں میں سب سے اہم گورنر شمار کیے گئے اور ان کے خطوط سیرت فاروقی کے مختلف گوشوں کو نکھارنے اور گورنروں کے ساتھ فاروقی برتاؤ کو واضح کرنے والے مصادر میں اہم مصدر قرار پائے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 120 )