بصرہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

بصرہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت بصرہ کے گورنر حضرت ابوموسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ تھے۔ اس وقت بصری معاشرہ کی آباد کاری اور وہاں کی اجماعی ساخت میں اساسی تغیرات رونما ہو چکے تھے۔ چنانچہ بصرہ اسلامی فوجی کیمپوں میں شمار ہونے لگا تھا، بہت سے قبائل نقل مکانی کر کے وہاں آباد ہو چکے تھے۔ یہاں کے اسلامی لشکر نے بہت سے علاقے کو فتح کر لیا تھا، جس کے نتیجہ میں عہدِ عثمانی کے آغاز میں اس کو خصوصی اہمیت حاصل ہو چکی تھی۔

(التنظیمات الاجتماعیۃ والاقتصادیۃ فی البصرۃ: صالح العلی: صفحہ 141) 

لوگ امور عامہ اور جہاد وغیرہ کے ساتھ ساتھ اپنے خاص امور میں مشغول ہو چکے تھے اور اس صورت حال میں اس علاقے اور اس کے تابع علاقوں پر ولایت و گورنری انتہائی اہمیت کی حامل تھی اور وہ آسان نہ تھی، اس صوبہ کے انتظام و انصرام کے لیے خصوصی فہم و فراست کی ضرورت تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ اس صوبہ کے انتظام و انصرام سے متعلق حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی قدرت خاصہ کو محسوس کر رہے تھے جس کی وجہ سے آپ نے اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو یہ وصیت کی تھی کہ آپ کی وفات کے بعد حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کو چار سال تک ان کے عہدہ پر باقی رکھا جائے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 391، الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 186) 

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا بصرہ پر دورِ ولایت، جہاد اور مسلح جدوجہد کا دور رہا، اس میں اہلِ بصرہ کا کردار نمایاں ہوا، اور اسی طرح فارس کے بہت سے علاقے کو فتح کر کے اور مفتوحہ علاقوں میں مسلمانوں کے قدم مضبوط کر کے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے نمایاں مقام حاصل کیا۔ اسی طرح جن علاقوں میں لوگوں نے حضرت عمر بن خطابؓ کی وفات کے بعد روگردانی شروع کر دی تھی ان علاقوں پر چڑھائی کر کے حضرت ابو موسیٰؓ نے اسلام کو مستحکم کیا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 187) 

فتوحات کے ساتھ ساتھ عہد عثمانی میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے اپنی گورنری کے دور میں بصرہ کے اندر آب پاشی کی تنظیم اور نہروں وغیرہ کی کھدائی کا اہتمام کیا، اور پینے کا پانی نہر کے ذریعہ سے بصرہ پہنچایا، بعد میں جس سے لوگوں نے استفادہ کیا اور اسی طرح آپ دوسری نہروں کی کھدائی شروع کر چکے تھے لیکن معزولی کی وجہ سے اس کو پایۂ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔

(ایضاً)

آپ کے بعد آنے والے بصرہ کے گورنر عبداللہ بن عامرؓ نے اس کی تکمیل فرمائی۔

(ایضاً: جلد 1 صفحہ 177)

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ طویل عرصہ تک بصرہ کے گورنر نہ رہ سکے، حضرت عثمانؓ نے اکثر روایات کے مطابق آپ کو 29ھ میں معزول کر دیا اور آپ کی جگہ حضرت عبداللہ بن عامر بن کریز رضی اللہ عنہ

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 264)

 کو وہاں کا گورنر مقرر فرمایا، مؤرخین نے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کی معزولی سے متعلق متعدد روایات بیان کی ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ لشکر بصرہ اور حضرت ابوموسیٰ اشعریؓل کے مابین اختلافات رونما ہوئے، اور اہل بصرہ کی ایک جماعت حضرت عثمانؓ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی معزولی کا مطالبہ کیا، اور عرض کیا کہ جو کچھ ہم جانتے ہیں، ہم یہ نہیں پسند کرتے کہ آپ اس سے متعلق ہم سے سوال کریں، آپ ان کے بدلے کسی اور کو مقرر کر دیں۔ حضرت عثمانؓ نے ان سے دریافت کیا: ان کی جگہ کس کو پسند کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: کوئی بھی ان کا بدل ہو سکتا ہے، اور کچھ لوگوں نے حضرت عثمانؓ سے مطالبہ کیا کہ کسی قریشی کو گورنر مقرر فرما دیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 264) 

اس صورت حال میں حضرت عثمانؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو معزول کر کے ان کی جگہ بصرہ کا گورنر حضرت عبداللہ بن عامرؓ کو مقرر فرما دیا۔ یہاں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی حکمت، وسعت ظرف اور خلیفہ وقت کی اطاعت عیاں ہوتی ہے، آپ کو گورنری کا بالکل لالچ نہ تھا جیسا کہ بعض لوگوں کا ناقص گمان ہے، چنانچہ جب آپ کو اپنی معزولی اور حضرت عبداللہ بن عامرؓ کی تقرری کی اطلاع ملی آپ منبر پر تشریف لائے، اور عبداللہ بن عامرؓ کی تعریف کی جو اس وقت پچیس سال کے نوجوان تھے۔ جو تعریفی کلمات ان کی شان میں حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ رضی اللہ عنہ نے کہے ان میں سے آپؓ کا یہ قول بھی تھا:

’’تمہارے اوپر ایسا نوجوان گورنر مقرر کیا گیا ہے جس کی پھوپھیاں، خالائیں اور دادیاں قریش کی شریف زادیاں ہیں وہ تم پر خوب مال لٹائے گا۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 266، سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 19)

ان سخت ترین حالات میں جس سے بصرہ کا صوبہ دوچار تھا حضرت عثمانؓ ایسا نیا قائد مقرر کرنے میں کامیاب ہوئے جس کی اطاعت کو لشکر قبول کر لے اور اعداء کے سامنے ان کی صفیں متحد ہوں، اور ساتھ ہی ساتھ یہ معزولی حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کی تکریم بھی تھی کیوں کہ اس طرح بعض لوگوں کی توہین سے آپ کو محفوظ کر لیا گیا جو باغیوں کے منحرف افکار سے متاثر تھے، جنھوں نے اپنے دلوں میں آپ کی کراہیت بٹھا رکھی تھی اور اس کی تشہیر کرنا چاہتے تھے اور اس کے لیے دھڑ بندی کر لی تھی۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 189)

جس وقت حضرت عبداللہ بن عامرؓ نے عہدہ سنبھالا اس وقت بصرہ کا صوبہ سخت ترین حالات سے دوچار تھا، جس کی وجہ سے حضرت عثمانؓ نے صوبہ کے انتظام و انصرام کے سلسلہ میں بنیادی تبدیلیاں پیدا کیں، چنانچہ بحرین اور عمان کے لشکر کو بصرہ میں حضرت ابنِ عامرؓ کے تابع کر دیا تاکہ ان چیلنجوں کے مقابلہ میں ان کو وافر مقدار میں قوت بہم پہنچے جن سے ان کا مقابلہ تھا۔ لشکر کے اس انضمام کا ابنِ عامرؓ کی قوت و اقتدار پر کافی اثر ہوا، اور اس طرح خود بصرہ کی صورت حال پر اس کا گہرا اثر یہ ہوا کہ وہ امن و استقرار سے پر اسلامی مرکزی شہروں میں سے قرار پایا، اور پہلے سے زیادہ قبائل نے اس کی طرف نقل مکانی کی،

(التنظیمات الاجتماعیۃ والاقتصادیۃ فی البصرۃ فی القرن الاول الہجری: صالح العلی: صفحہ 141)

صفحہ 1 از 2