Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حیات

  علی محمد الصلابی

آپؒ کبار تابعین میں سے ہیں۔ آپؒ اپنی قوم کے ہر دل عزیز اور مطاع سردار تھے۔ (قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 285) اور اہلِ بصرہ کی سرداری آپ کے ہاتھ میں تھی۔ 

(الاصابۃ: جلد، 1 صفحہ، 103 اسد الغابۃ: جلد، 1 صفحہ، 55) 

ہر طبقہ اور نظریات کے حاملین کے یہاں آپ قابلِ اعتماد تھے۔ آپ کا شمار حکماء، عقلاء اور سیاست دانوں میں ہوتا تھا۔ (قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 304) 

آپ انتہائی متدین، ذکی اور فصیح تھے۔ 

(قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 304) 

آپ عقل و سیاست، چالاکی اور علم و حلم سے متصف اپنی قوم کے سردار تھے۔ آپ کے حلم و بردباری کی مثال بیان کی جاتی تھی، چنانچہ شاعر آپ سے متعلق کہتا ہے: 

اذا الابصار ابصرت ابن قیس

ظللن مھابۃ منه خشوعا 

(قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 304)

ترجمہ: جب نگاہیں سیدنا احنف بن قیسؒ پر پڑتی ہیں تو آپ سے مرعوب ہو کر جھک جاتی ہیں۔

آپ کے سلسلہ میں خالد بن صفوان کا بیان ہے کہ شرف و منزلت سے آپؒ فرار اختیار کرتے تھے، لیکن یہ آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتی تھی۔ 

(تہذیب، ابِن عساکر: جلد، 7 صفحہ، 13)