آپؒ کبار تابعین میں سے ہیں۔ آپؒ اپنی قوم کے ہر دل عزیز اور مطاع سردار تھے۔ (قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 285) اور اہلِ بصرہ کی سرداری آپ کے ہاتھ میں تھی۔
(الاصابۃ: جلد، 1 صفحہ، 103 اسد الغابۃ: جلد، 1 صفحہ، 55)
ہر طبقہ اور نظریات کے حاملین کے یہاں آپ قابلِ اعتماد تھے۔ آپ کا شمار حکماء، عقلاء اور سیاست دانوں میں ہوتا تھا۔ (قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 304)
آپ انتہائی متدین، ذکی اور فصیح تھے۔
(قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 304)
آپ عقل و سیاست، چالاکی اور علم و حلم سے متصف اپنی قوم کے سردار تھے۔ آپ کے حلم و بردباری کی مثال بیان کی جاتی تھی، چنانچہ شاعر آپ سے متعلق کہتا ہے:
اذا الابصار ابصرت ابن قیس
ظللن مھابۃ منه خشوعا
(قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 304)
ترجمہ: جب نگاہیں سیدنا احنف بن قیسؒ پر پڑتی ہیں تو آپ سے مرعوب ہو کر جھک جاتی ہیں۔
آپ کے سلسلہ میں خالد بن صفوان کا بیان ہے کہ شرف و منزلت سے آپؒ فرار اختیار کرتے تھے، لیکن یہ آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتی تھی۔
(تہذیب، ابِن عساکر: جلد، 7 صفحہ، 13)