بصرہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

بصرہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

جس کے نتیجہ میں دیوان اور اداری و مالی امور وغیرہ کے نظم و نسق سے متعلق صوبہ کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا۔ بصرہ اور اس کے لشکر اور خود عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی عظیم فتوحات رہیں جن کا آغاز آپ کی تقرری کے فوراً بعد ہوا، اور امیر المؤمنین عثمانؓ کی شہادت سے کچھ دنوں قبل تک جاری رہا

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 189)

جس کا ذکر حضرت عثمانؓ کی فتوحات کے ضمن میں آچکا ہے۔ 

حضرت ابنِ عامرؓ کے دور میں اسلامی صوبوں میں بصرہ نے خاص مقام حاصل کیا اور فتوحات اور مختلف میدانوں میں وسعت کے نتیجہ میں حضرت عثمانؓ نے اس کی طرف خصوصی توجہ فرمائی جس کی وجہ سے بصرہ عظیم انتظامی و اداری مرکز قرار پایا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 193) 

وہاں سے بہت سے اسلامی علاقوں کا انتظام و انصرام چلایا جاتا تھا، اور صوبہ کے تابع مختلف علاقوں کے امراء کی تقسیم و تعیین کے ذمہ دار حضرت عثمانؓ کے سابقہ موافقت سے حضرت ابنِ عامرؓ تھے جس کی وجہ سے آپؓ کی ذمہ داریاں بڑی تھیں۔ منصب امارت (گورنری) پر فائز ہوتے ہی آپؓ نے بصرہ کے تابع علاقوں میں امراء کی تقسیم و تعیین شروع کر دی، چنانچہ آپؓ نے بہت سے سپہ سالاروں اور امراء کو منتخب فرمایا اور انہیں ان علاقوں میں متعین فرمایا۔ ان میں اہم ترین علاقے یہ تھے: عمان، بحرین، سجستان، خراسان، فارس، اہواز۔ یہ علاقے مختلف شہروں اور وسیع علاقوں پر مشتمل تھے۔

(نہایۃ الارب: جلد 19 صفحہ 433)

ان امراء اور عمال کی تبدیلی وقتاً فوقتاً مصالح کے پیشِ نظر ہوتی رہتی تھی۔ اسی طرح بصرہ آپؓ کے دور میں اپنے بیت المال کی وجہ سے معروف و مشہور ہوا، اور اس کی آمدنی و اخراجات میں اضافہ ہوا۔ حضرت عمر فاروقؓ کے زمانہ میں بیت المال کے ذمہ دار زیاد بن ابی سفیان تھے، اور حضرت ابن عامرؓ رضی اللہ عنہ کی نیابت میں نہروں وغیرہ کی کھدائی کی ذمہ داری سنبھالتے تھے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 194)

30ھ اور 35ھ کے مابین حضرت ابنِ عامرؓ کی امارت میں فارس کے مختلف علاقوں میں جو بصرہ کے تابع تھے درہم جاری کیے گئے جن پر عربی الفاظ تحریر تھے۔

(الدارہم الاسلامیۃ: وداد علی القزاز: صفحہ 14)

بصرہ پہنچنے کے وقت ہی سے حضرت ابنِ عامرؓ اہلِ بصرہ کے نزدیک انتہائی محبوب تھے، باوجودیکہ یہ ہوا دی گئی کہ حضرت عثمانؓ نے انہیں محض اس لیے منتخب فرمایا تھا کہ وہ آپ کے قریبی رشتہ دار تھے، لیکن بصرہ والوں نے آپ کو خوب مانا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 194)

اس تفصیل سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ حضرت عثمانؓ کے دور میں بصرہ کی امارت صرف دو افراد میں منحصر رہی، ایک حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ اور دوسرے حضرت عبداللہ بن عامرؓ۔ اور بصرہ اور اس کے تابع علاقوں کے انتظام و انصرام میں ان دونوں کا اہم کردار رہا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 195)


صفحہ 2 از 2