جس وقت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی بیعتِ خلافت عمل میں آئی اس وقت کوفہ کے گورنر حضرت مغیرہ بن شعبہؓ تھے جن کی تقرری عہدِ فاروقی کے آخری دور میں ہوئی تھی۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 239)
حضرت عثمانؓ نے آپ کو معزول کر کے آپ کی جگہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو وہاں کا گورنر مقرر فرمایا، اور حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کی معزولی کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایسا حضرت عمرؓ کی وصیت کی وجہ سے ہوا تھا، کیوں کہ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو وصیت کی تھی کہ وہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو گورنر مقرر کر لے، صورت حال یہ پیدا ہوئی کہ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے آخری ایام میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو کوفہ کی گورنری سے معزول کر دیا تھا، اور فرمایا تھا کہ میں نے ان کو کسی برائی اور خیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیا ہے، اور اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ انہیں گورنر مقرر کر دے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 225)
اس تقرری میں آپ کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو بھی شریک رکھا گیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے ذمہ بیت المال کی ذمہ داری سونپی گئی اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے ذمہ نماز و لشکر اور دیگر انتظامی امور سونپے گئے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 250، الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 196)
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو کوفہ کے سلسلہ میں کافی تجربہ تھا، اس کے امور، حدود، باشندوں، اور لشکر سے متعلق پوری معلومات رکھتے تھے کیوں کہ حضرت عمر فاروقؓ کے عہدِ خلافت میں آپؓ ہی کوفہ کے مؤسس تھے، اور آپؓ کئی سالوں تک اس کے گورنر رہ چکے تھے اس لیے سب سے زیادہ وہاں کے لوگوں اور حالات کی خبر و معلومات آپؓ کو تھیں۔
(عثمان بن عفان: صادق عرجون: صفحہ 105، الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 196)
کوفہ میں عہدِ عثمانی میں اپنی امارت کے دوران حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے جو امور سرانجام دیے ان میں سے کوفہ کے تابع سرحدوں کی زیارت ہے، اسی ضمن میں آپ نے ’’رے‘‘ کی زیارت 25ھ میں کی اور اس کے نظم و نسق کو مرتب کیا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 197)
اسی طرح آپ نے بعض امراء و عمال کو ہمدان اور اس کے قریبی علاقوں میں متعین کیا۔ کوفہ پر آپ کی امارت طویل عرصہ نہ رہ سکی کیوں کہ آپ کے اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے مابین اختلاف پیدا ہو گیا، جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیت المال پر مقرر تھے، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو مال کی ضرورت پیش آئی انہوں نے بیت المال سے وقت مقررہ تک کے لیے قرض لے لیا، اور وقت آنے پر ادا نہ کر سکے، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اس کو طلب کرنے ان کے پاس پہنچ گئے، گفتگو کے دوران میں دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں، لوگ جمع ہو گئے، اس کی اطلاع جب حضرت عثمانؓ کو پہنچی تو آپ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو معزول کر دیا، اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو ان کے عہدہ پر باقی رکھا۔ طبری کے قول کے مطابق حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو معزولی کی سزا ملی اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ رضی اللہ عنہ کو عہدہ پر بقا کی سزا ملی۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 251)
یہ واقعہ دونوں حضرات کے ورع اور تقویٰ کی خبر دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو مال کی ضرورت تھی، اور آپ کے پاس اتنا مال نہ تھا کہ اپنی ضروریات کی تکمیل کر سکیں اسی لیے آپ بیت المال سے قرض لینے پر مجبور ہوئے، اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ مسلمانوں کے مال کی حفاظت کے لیے کوشاں رہے، کوفہ کے گورنر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے قرض واپس لینے پر مصر رہے۔ کوفہ کی امارت آپ کے ہاتھ میں صرف ایک سال ایک ماہ رہی۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 250)
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی معزولی کے بعد حضرت عثمانؓ نے حضرت ولید بن عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہ کو کوفہ کاگورنر مقرر فرمایا۔ وہ اس سے قبل اردن میں لشکر صدیقی کے سپہ سالار رہ چکے تھے اور سیدنا عمر فاروقؓ کے دور میں الجزیرہ کے عربوں پر آپ عامل تھے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 251)
خلافت فاروقی کے آخر اور خلافت عثمانی کے آغاز میں آپ کوفہ کے لشکر کے ایک سپہ سالار تھے، اور متعدد مورچوں پر آپ نے سپہ سالار کی حیثیت سے جہاد کیا تھا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 198)
کوفہ پر تقرری سے قبل کوفہ، اس کے لشکر، اس کی سرحدوں اور دیگر امور سے متعلق آپ تجربہ و معرفت رکھتے تھے، وہاں کے لیے آپ کوئی نئے نہ تھے۔ خلفائے راشدینؓ کا اصول تھا کہ جس علاقہ پر گورنر مقرر کرنا ہوتا اس علاقہ سے متعلق تجربہ کار اور معرفت رکھنے والوں کو دوسروں پر ترجیح دیتے تھے، چنانچہ اسی اصول کے تحت حضرت عثمانؓ کی نظر انتخاب حضرت ولید بن عقبہؓ پر پڑی، لیکن کیا کہا جائے کہ بہت سے قدیم و جدید حضرات جنھوں نے امراء اور گورنروں کی تقرری سے متعلق تحریر کیا ہے انہوں نے اس تقرری سے متعلق حضرت عثمانؓ کو متہم کرنے کی کوشش کی ہے ان کے خیال میں حضرت ولید بن عقبہؓ کی تقرری کے پیچھے کنبہ پروری کار فرما تھی کیوں کہ وہ آپ کے علاتی (ماں شریک) بھائی تھے۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 198)
یہ حضرت عثمانؓ پر براہ راست اتہام و تنقید ہے۔
(دیکھیے: الفتنۃ الکبریٰ: جلد 1 صفحہ 94، جس میں طہٰ حسین نے مختلف اتہامات باندھے ہیں۔)
آپ کی امارت کے آغاز میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ آپ کے شریک کار تھے، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیت المال پر مقرر تھے، لیکن ایک مرتبہ جب آپؓ اور عبداللہ بن مسعودؓ کے درمیان سرکاری اموال سے متعلق اختلاف رائے رونما ہوا تو حضرت عثمانؓ نے مصلحت عامہ اس میں سمجھی کہ اس اشتراک کو ختم کر دیا جائے اور بیت المال کو بھی حضرت ولیدؓ کے سپرد کر دیا جائے، چنانچہ آپ نے ابنِ مسعودؓ کو سبکدوش کر دیا اور بیت المال کو بھی حضرت ولیدؓ کے سپرد کر دیا۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 251)
اہل کوفہ کے نزدیک حضرت ولید بن عقبہؓ انتہائی محبوب و ہردل عزیز رہے، آپ نے اپنے گھر میں دروازہ نہیں لگایا، مختلف اوقات میں لوگوں کا استقبال کرتے، ان کی مشکلات کو حل کرتے اور اپنی ذمہ داری ادا کرتے، لیکن بالآخر کوفہ میں بعض حادثات رونما ہوئے جس کے سلسلہ میں حضرت ولیدؓ نے سخت موقف اختیار کیا جس کی وجہ سے حاقدین آپ پر ناراض ہو گئے۔ چنانچہ ابن الحیسمان الخزاعی کو کوفہ کے کچھ نوجوانوں نے مل کر قتل کر دیا،آپؓ نے ان پر حد قصاص نافذ کی جس کی وجہ سے اس واقعہ کے بعد ان مجرموں کے والدین و اقرباء حضرت ولید بن عقبہؓ سے متعلق افواہیں پھیلانے میں لگ گئے، اور حتیٰ الوسع اس کوشش میں لگ گئے کہ ان کی غلطیاں نکالیں، چنانچہ وہ لوگ حضرت ولید بن عقبہؓ کے خلاف شراب نوشی کا اتہام باندھنے میں کامیاب ہو گئے، جس کے نتیجہ میں ان پر حد جاری کی گئی اور کوفہ کی گورنری سے معزول کر دیا گیا اور فتنہ پروروں کا یہی مقصود تھا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 201)
ان شاء اللہ شراب نوشی کے اس اتہام کی تفصیل حضرت عثمانؓ کے گورنروں سے متعلق گفتگو میں ہم بیان کریں گے۔
حضرت ولید بن عقبہؓ کی معزولی کے بعد حضرت عثمانؓ نے کوفہ والوں کے پاس خط تحریر فرمایا، جس میں حضرت عثمانؓ نے لکھا:
’’اللہ کے بندے عثمان امیر المؤمنین کی طرف سے اہل کوفہ کے نام سلام! سلام کے بعد معلوم ہو کہ میں نے تمہارے اوپر ولید بن عقبہؓ کو والی مقرر کیا یہاں تک کہ اس کی قوت مضبوط ہو گئی، اور اس کا طریقہ مستقیم ہو گیا، وہ اپنے گھرانے کے صالح لوگوں میں سے تھا، اس کو میں نے تمہارے متعلق خیر کی وصیت کی تھی تم کو اس سے متعلق وصیت نہیں کی تھی، جب اس نے تمہارے لیے اپنا خیر خرچ کیا اور اپنے شر سے تمھیں محفوظ رکھا، اس کا ظاہر تم پر غالب آیا تو تم نے اس کے باطن پر عیب لگایا، اللہ تمہاری اور اس کی حالت کو اچھی طرح جانتا ہے، اب میں تم پر حضرت سعید بن العاصؓ کو امیر بنا کر بھیج رہا ہوں۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 280)
حضرت ولید بن عقبہؓ کے سلسلہ میں اہل کوفہ کی شکایت اور ان کی معزولی امراء و گورنروں کے سلسلہ میں بعض اہل کوفہ کی شکایات اور معزولیوں کے طویل سلسلہ کی ایک کڑی تھی۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 206)
حضرت ولیدؓ کی معزولی کی وجہ سے بہت سے کوفی ناراض ہوئے۔ حضرت عثمانؓ نے حضرت ولید بن عقبہؓ کو کوفہ کی امارت سے معزول کرنے کے بعد 30ھ میں سعید ابن العاصؓ کو وہاں کا امیر مقرر فرمایا جو مدینہ میں مقیم تھے، آپؓ کے ساتھ کوفیوں کا ایک وفد تھا جو حضرت عثمانؓ رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت ولید بن عقبہؓ کی شکایت کرنے آیا تھا، اس وفدمیں اشترنخعی وغیرہ بھی تھے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 280)
جب حضرت سعید بن العاصؓ کوفہ پہنچے تو منبر پر تشریف لائے، اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا: اللہ کی قسم میں تمہاری طرف امیر بنا کر بھیجا گیا ہوں حالاں کہ مجھے یہ بالکل پسند نہیں، لیکن جب حکم دیا گیا ہوں تو قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارۂ کار بھی نہیں ہے، لیکن فتنہ نے اپنی ناک اور آنکھیں نکال لی ہیں، اللہ کی قسم میں ضرور اس کو جڑ سے ختم کر کے رہوں گا؛ پھر منبر سے اتر آئے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 280)
اس خطاب سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حضرت سعیدؓ اس فتنہ کے آغاز و اسباب سے پوری طرح واقف تھے جو کوفہ میں آپ کی امارت سے قبل ظاہر ہونا شروع ہو چکا تھا، آپ نے اس خطاب کے ذریعہ سے فتنہ پروروں کو دھمکی سنائی اور اس فتنہ کو جڑ سے ختم کر دینے کے عزم کا اظہار فرمایا جس کا کوفہ میں آغاز آپ نے محسوس کر لیا تھا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 207)
حضرت سعید بن العاصؓ نے صوبہ کے امور کو منظم کیا، اور کوفہ کے تابع سرحدی علاقوں پر امراء و والیان کو مقرر فرمایا، اور ان کے نظم و نسق کو درست کیا
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 208)
اور کامیاب غزوات کیے جن کا ذکر عہد عثمانی کی فتوحات کے ضمن میں ہم بیان کر چکے ہیں۔ پھر 33ھ میں کوفہ میں فتنہ نے اپنا سر نکالنا شروع کر دیا۔ ان شاء اللہ اس کا تفصیلی ذکر عنقریب آئے گا۔ اشترنخعی نے حضرت سعید بن العاصؓ کے خلاف سازش رچی جس سے کوفہ کے بعض عوام دھوکہ کھا گئے اور اشتر کے ساتھ ہو کر حضرت سعید بن العاصؓ کی امارت کو مسترد کرنے لگے، اور حضرت عثمان غنیؓ سے ان کی تبدیلی کا مطالبہ شروع کر دیا۔ حضرت سعید بن العاصؓ بھی انہی امراء اور گورنروں کی فہرست کے فرد تھے جن کی معزولی کا مطالبہ کوفی اس سے قبل کر چکے تھے جیسے حضرت سعد بن ابی وقاص، ولید بن عقبہ وغیرہ رضی اللہ عنہم ۔
حضرت سعید بن العاصؓ کی معزولی کا مطالبہ اشتعال انگیزی سے کیا گیا جس میں فسادیوں نے اسلحہ نکالا، اور یہ کوفہ کی تاریخ میں بلکہ پوری اسلامی سلطنت کی تاریخ میں انتہائی خطرناک اقدام تھا، اس کا حقیقی سبب سبائی تحریک کی فتنہ انگیزی اور حضرت عثمانؓ کے خلاف بغاوت کی دعوت تھی، جس کی تاثیر سے لوگوں کے نفوس میں تغیر پیدا ہوا اور حالات میں تبدیلی رونما ہوئی۔
ان حالات میں حضرت عثمانؓ نے حضرت سعید بن العاصؓ کو معزول کر کے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کو وہاں کا گورنر مقرر فرما دیا۔ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے اپنی امارت کا آغاز اہل کوفہ کو خطاب کر کے کیا، حضرت اشعریؓ نے اپنے خطاب میں فرمایا:
’’لوگو! ایسا دوبارہ نہ کرنا، جماعت اور اطاعت کو لازم پکڑو، جلد بازی سے بچو، صبر سے کام لو، تم گویا نئے امیر کے ساتھ ہو۔‘‘ لوگو ں نے کہا: تو پھر آپ ہمیں نماز پڑھائیں۔
فرمایا: ایسا نہیں ہو سکتا جب تک کہ تم حضرت عثمان بن عفانؓ کی سمع و اطاعت کا اقرار نہ کرو۔ لوگوں نے کہا ہم حضرت عثمانؓ کی سمع وا طاعت پر قائم رہنے کا اقرار کرتے ہیں۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 339)
حضرت عثمانؓ نے کوفیوں کے نام خط تحریر فرمایا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
’’اما بعد! میں نے تمہارے اوپر اس کو امیر مقرر کیا ہے جس کو تم نے منتخب کیا ہے اور سعید کو معزول کر دیا ہے۔ اللہ کی قسم میں تمہارے لیے اپنی عزت ضرور بچھائوں گا، اور اپنا صبر تمہارے لیے خرچ کروں گا اور اپنی طاقت بھر تمہارے ساتھ خیر خواہی کروں گا، معصیت کے علاوہ جو تم کو پسند ہو ضرور مجھ سے طلب کرو، اور جو چیز تم کو ناپسند ہو بشرطیکہ اس میں اللہ کی معصیت نہ ہو رہی ہو میں ضرور تمہارا مطالبہ پورا کروں گا، یہاں تک کہ ہمارے خلاف تمہارے پاس کوئی حجت باقی نہ رہے۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 343)
حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت تک حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کوفہ کے گورنر رہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 343)
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عثمان غنیؓ کی خلافت میں یکے بعد دیگرے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے لے کر حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ تک پانچ گورنر کوفہ پر مقرر ہوئے، اور ان میں سے ہر ایک کے دور میں ایسے مختلف حوادث رونما ہوئے جو براہ راست اسلامی سلطنت پر اثر انداز ہوئے۔ فتنہ کوفہ میں پروان چڑھا، اور کوفی امراء اور گورنروں پر تسلط، اور خوش کرنے کی ہزار کوششوں کے باوجود ان کی نافرمانی میں شہرت یاب ہوئے۔ انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص اور ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہما کی شکایات پہنچائیں، اور حضرت سعید بن العاصؓ کو وہاں سے بھگا دیا، اور ہمیں یاد ہونا چاہیے کہ حضرت عثمانؓ سے قبل کوفیوں نے حضرت عمر بن خطابؓ کو تھکا دیا تھا، چنانچہ سیدنا فاروق اعظمؓ کو یہ کہنا پڑا: ’’کوفیوں سے مجھے کون بچائے گا۔‘‘
حضرت عثمانؓ کے قتل میں بعض کوفیوں کا براہ راست اور بنیادی کردار رہا ہے۔
قابل ذکر بات ہے کہ کوفہ کے صوبہ کے تابع بعض دیگر فرعی صوبے تھے، جیسے طبرستان، آذربیجان اور شمالی فارس کے بعض دوسرے علاقے۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 213)
ان صوبوں کے کوفہ کے تابع ہونے کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ کوفہ کے گورنر ہی ان علاقوں میں فتوحات کے ذمہ دار ہوتے تھے اور ان کے باشندوں کی نافرمانی کی صورت میں تادیبی کارروائی بھی کرتے تھے۔ ان فرعی صوبوں کا کافی حد تک کوفہ کے ساتھ اچھا کردار رہا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 213)
عہد عثمانی میں اسلامی صوبوں کی مذکورہ تفصیل سے یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ حضرت عثمانؓ کے دور میں بہت سے صوبے ایسے تھے جہاں برابر امن و امان بحال رہا، کسی طرح کی کوئی ہڑبونگ نہ ہوئی۔ انہی میں یہ عرب صوبے آتے ہیں جیسے بحرین، یمن، مکہ، طائف وغیرہ، اسی طرح شام میں بھی امن و استقرار بحال رہا، اور بصرہ کے لوگ اپنے امیر عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں برابر فتوحات میں مشغول رہے، البتہ مصر و کوفہ میں فتنہ نے حضرت عثمانؓ کے آخری دور میں سر اٹھایا اور فساد برپا ہوا، اور مصر و کوفہ کے فسادیوں نے اعدائے اسلام کے بدلے مدینہ طیبہ پر چڑھائی کر دی، اور خلیفہ راشد عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے درپے ہوئے۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 214)