کوفہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

کوفہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

اہل کوفہ کے نزدیک حضرت ولید بن عقبہؓ انتہائی محبوب و ہردل عزیز رہے، آپ نے اپنے گھر میں دروازہ نہیں لگایا، مختلف اوقات میں لوگوں کا استقبال کرتے، ان کی مشکلات کو حل کرتے اور اپنی ذمہ داری ادا کرتے، لیکن بالآخر کوفہ میں بعض حادثات رونما ہوئے جس کے سلسلہ میں حضرت ولیدؓ نے سخت موقف اختیار کیا جس کی وجہ سے حاقدین آپ پر ناراض ہو گئے۔ چنانچہ ابن الحیسمان الخزاعی کو کوفہ کے کچھ نوجوانوں نے مل کر قتل کر دیا،آپؓ نے ان پر حد قصاص نافذ کی جس کی وجہ سے اس واقعہ کے بعد ان مجرموں کے والدین و اقرباء حضرت ولید بن عقبہؓ سے متعلق افواہیں پھیلانے میں لگ گئے، اور حتیٰ الوسع اس کوشش میں لگ گئے کہ ان کی غلطیاں نکالیں، چنانچہ وہ لوگ حضرت ولید بن عقبہؓ کے خلاف شراب نوشی کا اتہام باندھنے میں کامیاب ہو گئے، جس کے نتیجہ میں ان پر حد جاری کی گئی اور کوفہ کی گورنری سے معزول کر دیا گیا اور فتنہ پروروں کا یہی مقصود تھا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 201)

ان شاء اللہ شراب نوشی کے اس اتہام کی تفصیل حضرت عثمانؓ کے گورنروں سے متعلق گفتگو میں ہم بیان کریں گے۔

حضرت ولید بن عقبہؓ کی معزولی کے بعد حضرت عثمانؓ نے کوفہ والوں کے پاس خط تحریر فرمایا، جس میں حضرت عثمانؓ نے لکھا:

’’اللہ کے بندے عثمان امیر المؤمنین کی طرف سے اہل کوفہ کے نام سلام! سلام کے بعد معلوم ہو کہ میں نے تمہارے اوپر ولید بن عقبہؓ کو والی مقرر کیا یہاں تک کہ اس کی قوت مضبوط ہو گئی، اور اس کا طریقہ مستقیم ہو گیا، وہ اپنے گھرانے کے صالح لوگوں میں سے تھا، اس کو میں نے تمہارے متعلق خیر کی وصیت کی تھی تم کو اس سے متعلق وصیت نہیں کی تھی، جب اس نے تمہارے لیے اپنا خیر خرچ کیا اور اپنے شر سے تمھیں محفوظ رکھا، اس کا ظاہر تم پر غالب آیا تو تم نے اس کے باطن پر عیب لگایا، اللہ تمہاری اور اس کی حالت کو اچھی طرح جانتا ہے، اب میں تم پر حضرت سعید بن العاصؓ کو امیر بنا کر بھیج رہا ہوں۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 280)

حضرت ولید بن عقبہؓ کے سلسلہ میں اہل کوفہ کی شکایت اور ان کی معزولی امراء و گورنروں کے سلسلہ میں بعض اہل کوفہ کی شکایات اور معزولیوں کے طویل سلسلہ کی ایک کڑی تھی۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 206)

حضرت ولیدؓ کی معزولی کی وجہ سے بہت سے کوفی ناراض ہوئے۔ حضرت عثمانؓ نے حضرت ولید بن عقبہؓ کو کوفہ کی امارت سے معزول کرنے کے بعد 30ھ میں سعید ابن العاصؓ کو وہاں کا امیر مقرر فرمایا جو مدینہ میں مقیم تھے، آپؓ کے ساتھ کوفیوں کا ایک وفد تھا جو حضرت عثمانؓ رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت ولید بن عقبہؓ کی شکایت کرنے آیا تھا، اس وفدمیں اشترنخعی وغیرہ بھی تھے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 280)

جب حضرت سعید بن العاصؓ کوفہ پہنچے تو منبر پر تشریف لائے، اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا: اللہ کی قسم میں تمہاری طرف امیر بنا کر بھیجا گیا ہوں حالاں کہ مجھے یہ بالکل پسند نہیں، لیکن جب حکم دیا گیا ہوں تو قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارۂ کار بھی نہیں ہے، لیکن فتنہ نے اپنی ناک اور آنکھیں نکال لی ہیں، اللہ کی قسم میں ضرور اس کو جڑ سے ختم کر کے رہوں گا؛ پھر منبر سے اتر آئے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 280)

اس خطاب سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حضرت سعیدؓ اس فتنہ کے آغاز و اسباب سے پوری طرح واقف تھے جو کوفہ میں آپ کی امارت سے قبل ظاہر ہونا شروع ہو چکا تھا، آپ نے اس خطاب کے ذریعہ سے فتنہ پروروں کو دھمکی سنائی اور اس فتنہ کو جڑ سے ختم کر دینے کے عزم کا اظہار فرمایا جس کا کوفہ میں آغاز آپ نے محسوس کر لیا تھا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 207)

حضرت سعید بن العاصؓ نے صوبہ کے امور کو منظم کیا، اور کوفہ کے تابع سرحدی علاقوں پر امراء و والیان کو مقرر فرمایا، اور ان کے نظم و نسق کو درست کیا

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 208)

اور کامیاب غزوات کیے جن کا ذکر عہد عثمانی کی فتوحات کے ضمن میں ہم بیان کر چکے ہیں۔ پھر 33ھ میں کوفہ میں فتنہ نے اپنا سر نکالنا شروع کر دیا۔ ان شاء اللہ اس کا تفصیلی ذکر عنقریب آئے گا۔ اشترنخعی نے حضرت سعید بن العاصؓ کے خلاف سازش رچی جس سے کوفہ کے بعض عوام دھوکہ کھا گئے اور اشتر کے ساتھ ہو کر حضرت سعید بن العاصؓ کی امارت کو مسترد کرنے لگے، اور حضرت عثمان غنیؓ سے ان کی تبدیلی کا مطالبہ شروع کر دیا۔ حضرت سعید بن العاصؓ بھی انہی امراء اور گورنروں کی فہرست کے فرد تھے جن کی معزولی کا مطالبہ کوفی اس سے قبل کر چکے تھے جیسے حضرت سعد بن ابی وقاص، ولید بن عقبہ وغیرہ رضی اللہ عنہم ۔

حضرت سعید بن العاصؓ کی معزولی کا مطالبہ اشتعال انگیزی سے کیا گیا جس میں فسادیوں نے اسلحہ نکالا، اور یہ کوفہ کی تاریخ میں بلکہ پوری اسلامی سلطنت کی تاریخ میں انتہائی خطرناک اقدام تھا، اس کا حقیقی سبب سبائی تحریک کی فتنہ انگیزی اور حضرت عثمانؓ کے خلاف بغاوت کی دعوت تھی، جس کی تاثیر سے لوگوں کے نفوس میں تغیر پیدا ہوا اور حالات میں تبدیلی رونما ہوئی۔

ان حالات میں حضرت عثمانؓ نے حضرت سعید بن العاصؓ کو معزول کر کے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کو وہاں کا گورنر مقرر فرما دیا۔ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے اپنی امارت کا آغاز اہل کوفہ کو خطاب کر کے کیا، حضرت اشعریؓ نے اپنے خطاب میں فرمایا:

’’لوگو! ایسا دوبارہ نہ کرنا، جماعت اور اطاعت کو لازم پکڑو، جلد بازی سے بچو، صبر سے کام لو، تم گویا نئے امیر کے ساتھ ہو۔‘‘ لوگو ں نے کہا: تو پھر آپ ہمیں نماز پڑھائیں۔

فرمایا: ایسا نہیں ہو سکتا جب تک کہ تم حضرت عثمان بن عفانؓ کی سمع و اطاعت کا اقرار نہ کرو۔ لوگوں نے کہا ہم حضرت عثمانؓ کی سمع وا طاعت پر قائم رہنے کا اقرار کرتے ہیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 339)

حضرت عثمانؓ نے کوفیوں کے نام خط تحریر فرمایا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

صفحہ 2 از 3