کوفہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

کوفہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

’’اما بعد! میں نے تمہارے اوپر اس کو امیر مقرر کیا ہے جس کو تم نے منتخب کیا ہے اور سعید کو معزول کر دیا ہے۔ اللہ کی قسم میں تمہارے لیے اپنی عزت ضرور بچھائوں گا، اور اپنا صبر تمہارے لیے خرچ کروں گا اور اپنی طاقت بھر تمہارے ساتھ خیر خواہی کروں گا، معصیت کے علاوہ جو تم کو پسند ہو ضرور مجھ سے طلب کرو، اور جو چیز تم کو ناپسند ہو بشرطیکہ اس میں اللہ کی معصیت نہ ہو رہی ہو میں ضرور تمہارا مطالبہ پورا کروں گا، یہاں تک کہ ہمارے خلاف تمہارے پاس کوئی حجت باقی نہ رہے۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 343)

حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت تک حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کوفہ کے گورنر رہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 343)

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عثمان غنیؓ کی خلافت میں یکے بعد دیگرے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے لے کر حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ تک پانچ گورنر کوفہ پر مقرر ہوئے، اور ان میں سے ہر ایک کے دور میں ایسے مختلف حوادث رونما ہوئے جو براہ راست اسلامی سلطنت پر اثر انداز ہوئے۔ فتنہ کوفہ میں پروان چڑھا، اور کوفی امراء اور گورنروں پر تسلط، اور خوش کرنے کی ہزار کوششوں کے باوجود ان کی نافرمانی میں شہرت یاب ہوئے۔ انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص اور ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہما کی شکایات پہنچائیں، اور حضرت سعید بن العاصؓ کو وہاں سے بھگا دیا، اور ہمیں یاد ہونا چاہیے کہ حضرت عثمانؓ سے قبل کوفیوں نے حضرت عمر بن خطابؓ کو تھکا دیا تھا، چنانچہ سیدنا فاروق اعظمؓ کو یہ کہنا پڑا: ’’کوفیوں سے مجھے کون بچائے گا۔‘‘ 

حضرت عثمانؓ کے قتل میں بعض کوفیوں کا براہ راست اور بنیادی کردار رہا ہے۔

قابل ذکر بات ہے کہ کوفہ کے صوبہ کے تابع بعض دیگر فرعی صوبے تھے، جیسے طبرستان، آذربیجان اور شمالی فارس کے بعض دوسرے علاقے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 213)

ان صوبوں کے کوفہ کے تابع ہونے کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ کوفہ کے گورنر ہی ان علاقوں میں فتوحات کے ذمہ دار ہوتے تھے اور ان کے باشندوں کی نافرمانی کی صورت میں تادیبی کارروائی بھی کرتے تھے۔ ان فرعی صوبوں کا کافی حد تک کوفہ کے ساتھ اچھا کردار رہا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 213)

عہد عثمانی میں اسلامی صوبوں کی مذکورہ تفصیل سے یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ حضرت عثمانؓ کے دور میں بہت سے صوبے ایسے تھے جہاں برابر امن و امان بحال رہا، کسی طرح کی کوئی ہڑبونگ نہ ہوئی۔ انہی میں یہ عرب صوبے آتے ہیں جیسے بحرین، یمن، مکہ، طائف وغیرہ، اسی طرح شام میں بھی امن و استقرار بحال رہا، اور بصرہ کے لوگ اپنے امیر عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں برابر فتوحات میں مشغول رہے، البتہ مصر و کوفہ میں فتنہ نے حضرت عثمانؓ کے آخری دور میں سر اٹھایا اور فساد برپا ہوا، اور مصر و کوفہ کے فسادیوں نے اعدائے اسلام کے بدلے مدینہ طیبہ پر چڑھائی کر دی، اور خلیفہ راشد عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے درپے ہوئے۔ 

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 214)


صفحہ 3 از 3