Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عبادت

  علی محمد الصلابی

سیدنا عثمان بن عفانؓ بڑے ہی عبادت گزار تھے۔ مروی ہے کہ آپؓ نے حج کے ایام میں حجرِ اسود کے پاس ایک رکعت میں قرآن ختم کر دیا اور یہ آپؓ کی عادت تھی۔

(الطبقات الکبریٰ: جلد، 3 صفحہ، 76 تاریخ الاسلام عہد الخلفاء، الذہبی: صفحہ، 476 یہ روایت مبالغہ سے خالی نہیں اور یہ ان احادیثِ نبویہ کے خلاف ہے جس میں رات دن یا تین دن سے قبل قرآن ختم کرنے سے روکا گیا ہے اور آگے جو ختمِ قرآن کے سلسلہ میں آپؓ کا معمول بیان کیا گیا ہے اس کے بھی منافی ہے۔ (مترجم)

سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اس آیت کریمہ

اَمَّنۡ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّيۡلِ سَاجِدًا وَّقَآئِمًا يَّحۡذَرُ الۡاٰخِرَةَ وَيَرۡجُوۡا رَحۡمَةَ رَبِّهٖ‌ ۞

(سورۃ الزمر: آیت 9)

ترجمہ: بھلا (کیا ایسا شخص اس کے برابر ہو سکتا ہے) جو رات کی گھڑیوں میں عبادت کرتا ہے، کبھی سجدے میں، کبھی قیام میں، آخرت سے ڈرتا ہے، اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہے۔

کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے مراد سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔

(تفسیر ابنِ کثیر: جلد، 4 صفحہ، 47)

اور سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کریمہ:

هَلۡ يَسۡتَوِىۡ هُوَ وَمَنۡ يَّاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ‌ وَهُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ۞

(سورۃ النحل: آیت 76)

ترجمہ: کیا ایسا شخص اس دوسرے آدمی کے برابر ہو سکتا ہے جو دوسروں کو بھی اعتدال کا حکم دیتا ہے اور خود بھی سیدھے راستے پر قائم ہے؟ 

کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے مقصود حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔

(تفسیر ابنِ کثیر: جلد، 2 صفحہ، 579) 

آپؓ کا معمول تھا کہ آپؓ جمعہ کی رات میں قرآن کی تلاوت شروع کرتے اور جمعرات کی رات میں ختم کر دیتے تھے۔

(علوالہمۃ: جلد، 3 صفحہ، 93) 

اور آپؓ برابر نفلی روزے رکھتے اور رات کے ابتدائی حصہ میں سوتے اور باقی رات قیام میں گزارتے تھے۔

(صفۃ الصفوۃ، امام ابن الجوزی: جلد، 1 صفحہ، 302)